آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالرز کے عوض پاکستان کا سودا کیا گیا،سینیٹر مشتاق خان

18

پشاور (وقائع نگار خصوصی) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے آئی ایم ایف سے ملنے والے 6 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیل آؤٹ پیکج نہیں بلکہ پاکستان سیل آؤٹ پیکج ہے۔ آئی ایم ایف کا پاکستان سے معاہدہ شرمناک ہے، 6ارب ڈالر کے عوض پاکستان کا سودا کیا گیا۔39ماہ میں 15کروڑ ڈالر ماہانہ کے عوض پاکستان کی معاشی اور سیاسی خود مختاری آئی ایم ایف کے حوالے کردی گئی۔ 700 ارب کے نئے ٹیکس لگنے، ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ ہونے، پیٹرول، ڈیزل، بجلی، گیس اور ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی نوید سنائی گئی ہے۔ حکومت نے اپنے ابتدائی 9 ماہ میں 40 کھرب کا قرض لیا ہے جو کہ اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ حکومتوں کی نسبت 150 فیصد زیادہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ میں خطاب کے دوران کیا۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ موجودہ حکومت نے عوام سے وعدوں کے باوجود آئی ایم ایف سے قرض لے کر ہمالیہ جتنی غلطی کی ہے۔ آئی ایم ایف مذاکرات کرنے والی ٹیم میں حفیظ شیخ اور باقر رضا آئی ایم ایف دونوں آئی ایم ایف کے لوگ ہیں، در حقیقت یہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے نہیں بلکہ آئی ایم ایف کے آئی ایم ایف سے مذاکرات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گیسٹ ایڈوائزر، گیسٹ گورنر اور نان فائلر پاکستان کا معاشی اور ٹیکس نظام چلا رہے ہیں۔ یونس ڈھاگہ کو بھی معاشی ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے جن کی کرپشن کی داستانیں ہر کوئی جانتا ہے۔ یونس ڈھاگہ جس ڈیپارٹمنٹ میں گئے اس کا بیڑا غرق کیا۔ یونس ڈھاگہ کی وجہ سے پاکستان کی معیشت گرگئی ہے۔ یہ معاشی پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنے والی نہیں بلکہ آئی ایم ایف کے مفادات کا تحفظ کرنے والی ہے۔ گوشت، قیمہ، لیموں، ٹماٹر، پیاز سمیت دیگر اشیا خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ یوٹیلیٹی اسٹورز پر پیکج ختم ہیں، جعلی سستے بازار لگائے گئے ہیں۔ حکومت لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی شارٹ فال 350 ارب روپے ہے، ہمیں کہا جارہا ہے لوگ تکلیف برداشت کریں، خیبر پختونخوا کے اسپیکر دو کے بجائے ایک روٹی کھانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں حکومت نے کابینہ اجلاس میں وزرا کے ساتھ ساتھ مشیروں کے ہیلی کاپٹر استعمال کی بھی منظوری دی ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ ہماری حکومت آئی تو وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور گورنر سائیکل پر آفس جائیں گے۔ حکومت عوام سے جینے کا حق چھین رہی ہے۔ کراچی کے سمندر سے تیل نکلتا ہے یا نہیں لیکن حکومت عوام سے تیل نکال رہی ہے۔ آئی ایم ایف معاشی ہتھیار بن چکا ہے۔ ہم غلامی کی دستاویز کو مسترد کرتے ہیں۔