آئی ایم ایف سے پتھر دل انسانوں کا معاہدہ؟

123

 

قاضی جاوید
qazijavaid61@gmail.com


وزیر خزانہ اسد عمر کو بھی اس بات کا احساس ہو گیا ہے وہ پاکستان پہنچے تو ان کو پاکستانی ائیر پورٹ سے ہی عوام یا حکمران میں سے کوئی مارنا شروع کر دے گا۔انھوں نے اس بات کا اظہار امریکا میں آئی ایم ایف سے مذاکرات کے فوری بعد صحافیوں سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا اور ان کا کہنا تھا کہ۔ان کا کہنا ہے آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض دینے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ آئی ایم ایف مہنگائی اور یوٹیلیٹی کے بھاؤ کس قدر ؂اضافہ کی شرط پر فیصلہ کیاہے بہت کچھ ملنے کی اُمید ہے ،لیکن دیگر ذرائع بتا رہے ہیں آئی ایم ایف سے طویل مذاکرات بھی پاکستان کے معاشی مالی مسائل حل نہیں کر رہے ہیں اور آئی ایم ایف ملک میں مزید معاشی اصلاحات کا مطالبہ کر رہا ہے اُسکا مطالبہ اس کے سوا کیا ہو سکتاہے کہ ملک میں مزید مہنگائی کا طوفان برپا کیاجائے ۔ آئی ایم ایف کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ ڈالر کے بھاؤ 155سے 160 روپے کیا جائے، اس کے علاوہ پیٹرول ا،ڈیزل سمیت تمام تیل اور گیس کے بھاؤ میں اضافہ کیا جائے۔ عمران خان حکومت نے 9 ماہ کے دوران معاشی میدان میں صرف اس بات کی کوشش کی ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائظ پو ری کی جائے اس اسی کوشش میں ملک کے عوام مہنگائی، بے روزگاری کے شکنجے میں پھنستی چلی جارہی ہے ۔عمران خان جو عوام سے اس وعدے پرتخت اسلام آباد پر تشریف لائے تھے کہ ان کے آتے ہی ملک میں عوام کے لیے دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگے گی لیکن اقتدار کے نو ماہ کے دوران عوام مہنگائی برداشت کر تے کرتے ہانپنے لگے ہیں اور اب ان برداشت کی حد ختم ہو چکی ہے ۔ا سی لیے جنابِ وزیر خزانہ اسد عمر آئی ایم ایف کی نئی شرائط گھبرائے ہو ئے ہیں کہ وہ پاکستان کس منہ سے تشریف لائیں گے۔ اب تک کی اطلاعات یہی ہیں کہ آئی ایم ایف پاکستان سے مزید شرائط منوئے بغیر قرض دینے کو تیا رنہیں اور اگر ایسا نہیں کیا تو دوسری صورت میں قرض ملنا مشکل ہے اورتوقع یہی ہے کہ عوام کا مزید خون نچوڑنے کی کوشش جاری رکھی جا ئے اور عمران خان عوام سے ایک مرتبہ پھر یہی کہہ رہے ہو ں گے کہ چند ماہ عوام اور سخت دور برداشت کریں تاکہ ملکی معیشت کو استحکا م مل سکے۔ لیکن حکمرانوں کو یہ بھی بتا دینا چاہیے کہ ملکی معیشت کا استحکام عوام کی قبروں پر تعمیر کر نے ک اسلسلہ کب تک جا ری رہے گا۔ آئی ایم ایف پاکستان کے مذاکرات سے چند دن قبل ہی ورلڈ بینک نے مذاکرات پر اثر انداز ہو نے کے لیے ایک رپورٹ جا ری کی جس میں اس نے کہاکہ پاکستان میں رواں مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح نمو 6.2فیصدکا ہدف حاصل کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 2018-19 ء کے مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح نمو 3.4فیصد تک بمشکل حاصل ہوگی جبکہ آئندہ مالی سال 2019-20 میں 2.7 فیصد تک ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر حکومت کی طرف سے معاشی بہتری کے لیے ہنگامی اصلاحات کی جائیں تو مالی سال 2020-21سے جی ڈی پی کی شرح نمو 4فیصد تک بڑھائی جاسکتی ہے۔ اس سے ایک بات تو صاف ہے کہ جی ڈی پی کی شرح نمو کا اتار چڑھاؤ پاکستان میں ہونے والی معاشی سرگرمیوں میں اتار چڑھاؤکی عکاسی کرتا ہے ۔ ایوب خان کے دور سے موجودہ حکومت تک پاکستانی معیشت مختلف سر د وگرم کا شکا ر رہی ہے۔ایوب خان کے دور میں GDPکا اوسط 7فیصد رہا، یحییٰ خان کے دور میں 8فیصد، ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 3فیصد، جنرل ضیاء الحق کے دور میں 6فیصد، محمد خان جونیجو کے دور میں 7فیصد،محترمہ بینظیر بھٹوکے پہلے دور حکومت میں 5فیصد ہوا جو نواز شریف کے پہلے دور حکومت اور بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں برقرار رہا۔ نوازشریف کے دوسرے دور حکومت میں جی ڈی پی کا اوسط 3فیصد ہوا اور جنرل مشرف کے مارشل لاء میں بھی یہی شرح نمو برقرار رہی تاہم ق لیگ کی حکومت میں GDPکی اوسطاً شرح نمو 6رہی جو پیپلز پارٹی کی آخری حکومت میں 3فیصد ہوئی تاہم ن لیگ کی گزشتہ حکومت میں جی ڈی پی کی شرح نمو دس سالوں کی سب سے زیادہ یعنی 5.8فیصد پر پہنچی۔ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں سے قدرے بہتری کے آثار نظر آرہے ہیں تجارتی خسارہ 14فیصد کم ہوکر 23.4ارب ڈالر ہوگیا ہے، برآمدات میں 3فیصد کی بہتری آئی ہے ،درآمدات میں 6فیصد کمی ہو ئی ہے لیکن اگر درآمدات میں کمی سے صنعتی خام مال اور مشنری کی درآمدات کھٹ رہی تو اس سے ملکی برآمدات کو ناقابل نقصان کو سامنا ہو گا ملکی معیشت کی مستحکم بنیادوں میں بہتری کے لیے ملکی پیداوار میں اضافہ ، صنعتی ترقی، کاروباری آسانی، ٹیکس کے آسان اور باسہولت نظام کے قیام، کاروباری لاگت میں کمی اور دیرپا سیاسی استحکام وقت کی ضرورت ہے۔ ترسیلات زر میں بھی 12فیصد اضافہ ہوا ہے تاہم روپے کی قدر میں تقریباً35فیصد کمی کے باوجود برآمدات میں محض 3فیصد اضافہ سوالیہ نشان ہے۔ لیکن اس کا جواب حکومت دینے جو تیار نہیں کہ روپے کی قدر میں تقریباً35فیصد کمی سے ملکی قرضوں میں بیٹھے بیٹھائے کس قدر اضافہ یہو چکا ہے برآمدات میں اضافہ کے لیے حکومت کو نہ صرف نئی بیرونی منڈیاں تلاش کرنی ہونگی بلکہ فری ٹریڈ ایگریمنٹس کو بھی ریویو کرکے پاکستان کے حق میں بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ کاروباری بے یقینی کی صورتحال کو ختم کرنے کے لئے مزید اقدامات ناگزیر ہیں بے یقینی کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کاری میں 23فیصد کمی آئی ہے، مہنگائی دس سالوں کی بلند ترین سطح یعنی 9.4فیصد پر پہنچ گئی ہے اوراپریل کے پہلے ہفتہ میں اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان رہا اور KSE-100 انڈیکس 38,423 ہزار سے گر کر 36,921پوائنٹس پر بند ہوا جو ملک میں کاروباری بے یقینی کو واضح کررہا ہے۔ شرح نمو میں اضافہ اورملک میں معاشی استحکام کے لئے تعلیم، صحت، توانائی، انفراسٹرکچراور صنعتی ترقی کے لئے انقلابی اقدامات کرنا ہونگے۔ اس پوری صورتحا ل میں جنابِ وزیرخزانہ کن پاگل لوگوں کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ وہ ان کو ائیر پورٹ پر نہیں اُترتے ہی ماریں گے ۔عوام توبے بس ہے اس نے ووٹ دے اقتدار تک عمران خان کو پہنچا دیا اب ان کو پانچ سال تک ایسی صورتحال کا سامنا ہو گاہاں شاید حکرانوں میں سے کسی کو عوام کا خیا ل آجائے اور وہ اسد عمر سے معلوم کریں کہ عوام کا کیا قصور ہے جن پر بوجھ ڈالا جا رہا ہے،جس کی اُمید بہت کم ہے لیکن سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ وزیر خزانہ اسد عمرکا پاگل کون !عوام یا حکمران