نقطہ نظر

94

’’ٹریفک جام، وبالِ جاں‘‘
نوکری پیشہ افراد، طلبہ و طالبات، بیمار افراد غرض ہر طرح کے انسانوں کو گھر سے نکلنا ہوتا ہے اور ہر فرد کی خواہش اور ضرورت ہوتی ہے کہ وہ وقت پر اپنے کام کی جگہ یا اپنے گھر پہنچ جائے۔ مگر وائے قسمت کہ کراچی میں ٹریفک
جام ناسور کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ جس سے تمام افراد کو ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔ میری حکومت وقت سے درخواست ہے کہ خدارا اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرکے ہمیں اذیت سے نکالیں۔
کامران اشرف، گلستان کالونی لیاری