قصر ناز میں ہلاکتیں۔ ہوٹل کیوں بند کیا گیا ؟

169

کراچی میں سرکاری مہمان خانے قصر ناز میں بچوں اور پھوپھی کی ہلاکت کے واقعے کی رپورٹ آگئی جس کے مطابق ہلاکتیں قصر ناز کے کمرے میں کیڑے مار زہریلے کیمیکل سے ہوئیں۔ قصر ناز کے عملے کے 6 افراد کو حراست میں لے کر ان کا ریمانڈ بھی لے لیا گیا ہے۔ جس روز یہ واقعہ ہوا کراچی پولیس نے سرعت کے ساتھ نوبہار ہوٹل پر چھاپا مارا اور 18 ملازمین کو گرفتار کرکے ہوٹل بند کردیاگیا۔ تھوڑی دیر بعد کیفے اسٹوڈنٹ پر بھی چھاپا ماراگیا اور وہاں سے بھی بریانی اور دیگر کھانوں کے نمونے لیے گئے۔ معلوم نہیں کتنے نمونے لیبارٹری بھیجے گئے اور کتنے پولیس والے ہڑپ کر گئے۔ اس روز کیفے اسٹوڈنٹ صدر رات گیارہ بجے ہی بند ہوگیا۔ 21 فروری کے واقعے کے بعد 18 روز بعد رپورٹ آئی ہے۔ چلیں کم از کم اتنا تو ہوگیا کہ کوئی رپورٹ آگئی۔ لیکن کیا کوئی پولیس سے پوچھے گا کہ نوبہار ہوٹل کیوں بند کیا گیا۔ ایک گھنٹہ وہاں رک کر بریانی کھانے والوں کی کیفیت کیوں نہیں پوچھی۔ وہاں سے کیفے اسٹوڈنٹ گئے تو وہاں کیوں معلوم نہیں کیا گیا کہ یہاں بریانی کھانے سے کتنے لوگ مرے۔ کیا عدالت حکومت یا خود پولیس کے اعلیٰ افسران اس کا نوٹس لیں گے۔ ایک ہوٹل کا کاروبار اتنے دن بند کیا۔ غریب ملازمین کو پکڑ کر لے گئے تشدد بھی کیا گیا اور ہوٹل کو بدنام بھی کیا۔ کوئی ہے جو اس شتر بے مہار کو روکے۔ تحقیق سے پہلے فیصلہ دینے کا رویہ صرف پولیس کا نہیں ہے الیکٹرانک میڈیا بھی اس میں پیش پیش ہے۔ ادھر کسی کے گھر یا دفتر پر چھاپا پڑا یا کسی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا میڈیا اسی وقت اس کے خلاف سرگرم ہوگیا۔ چور، ڈاکو، لٹیرا سب کچھ قرار دے دیا۔ ایسے واقعات ماہرین تعلیم، اساتذہ اور سینیر ڈاکٹروں کے ساتھ بھی پیش آچکے ہیں۔ پنجاب میں ڈاکٹر سعید اختر ہوں، سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہوں، یا انوار احمد زئی جیسے ماہر تعلیم ۔ مقدمہ درج ہوتے ہی میڈیا نے فیصلے سنانے شروع کردیے اور بعد میں سارے مقدمات غلط ثابت ہوئے۔ ایسا اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک غلط فیصلہ کرنے والوں کو سزانہیں ہوگی۔