نوازشریف کو کچھ ہوا تو قتل تصور ہوگا ،ذمہ دار حکومت ہوگی،خورشید شاہ

170
سکھر: پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ ایمبولینس سروس کا افتتاح کر رہے ہیں
سکھر: پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ ایمبولینس سروس کا افتتاح کر رہے ہیں

سکھر(صباح نیوز)پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ اگر نواز شریف کو نقصان ہوا تو وہ قتل تصور کیا جائے گا اور اس کا قصور وار حکومت کو سمجھا جائے گا۔سکھر میں شجر کاری مہم کی افتتاحی تقریب کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان اور اس کی پارٹی میری ایک بات یاد رکھیں اگر نالائقی کی وجہ سے نوازشریف کو نقصان ہوا تو اس کو قتل سمجھا جائے گا،اس میں عمران خان اور اس کے ساتھی ملوث سمجھیں جائیں گے اور وہ اس سے بچ نہیں سکیں گے،نواز شریف کی طبیعت ٹھیک نہیں ،سب صحت یابی کی دعا کریں، لاہور کے سروسز و جناح اسپتا ل میں امراض قلب کا شعبہ ہی نہیں، نوازشریف کو پنجاب کارڈیالوجی یا این آئی سی وی ڈی میں علاج کی اجازت نہیں دی جارہی، نوازشریف کو جیل سے نکال ہی نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پورے ملک کا ہوتا ہے،صرف پارٹی کا نہیں ہوتا، عمران خان نے خود کو ابھی تک وزیراعظم نہیں سمجھا،وہ اب تک کنٹینر کی سیاست کررہے ہیں، عمران خان کی سیاست گالم گلوچ اور کنٹینر کی سیاست ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سیاست میں ذاتیات سے ہٹ کر بات کرتے ہیں، ہماری سیاست گالم گلوچ کی نہیں، ہم نے بہت اتار چڑھاؤ دیکھے اور کبھی بھی اقتدار کی بات نہیں کی بلکہ عوام کی بات کی ہے۔خورشید شاہ نے کہا کہ بدقسمتی سے عمران خان کو کنٹینر پر چڑھایا گیا اور وہ اب تک کنٹینر سے اترنے کو تیار نہیں ۔چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری کی پارلیمنٹ میں انگریزی میں تقریر اور اس پر وزیراعظم عمران خان کی تنقید پر انہوں نے کہا کہ قائد اعظم انگریزی میں تقریر کرتے تھے اور قوم قائد اعظم کے ہر ایک لفظ کو سمجھتی تھی۔نواز،بلاول ملاقات کے پر تبصرہ کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ بلاول سیاست دان ہیں،(ن)لیگ اور پیپلزپارٹی شروع سے ہی بڑی سیاسی پارٹیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جوشخص یوٹرن کا ماسٹر ہے اس کی سیاست پر بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، وزیراعظم ریاست کا ہوتا ہے، جو وزیراعظم بدزبانی اور بے حیائی کی سیاست لے آئے،اس آدمی پر کیا تبصرہ کریں، قوم کو چاہیے کہ دیکھے عمران خان کس قسم کی سیاست کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان پر بہت ساری باتیں ہو سکتی ہیں لیکن ہم وہ ملحوظ خاطر نہیں لاتے کیوں کہ وہ ذاتیات کی باتیں ہیں اور ہم سیاست میں ذاتیات کو نہیں لاتے۔