پی ایس ایل اور صوبائی اداروں کی دورنگی

149

 

محمد عارف میمن

پی ایس ایل کا جوش جس طرح اپنے عروج پر ہے اسی طرح مختلف صوبائی اور بلدیاتی ادارے بھی چوبیس گھنٹے کاموں میں جتے ہوئے ہیں، ہر لحاظ سے اس میگا ایونٹ کو کامیاب بنانے کے لیے کئی جتن کیے گئے ہیں۔ سیکورٹی صورت حال کے باعث لاہور کے میچز بھی کراچی میں منعقد کرنے کے اعلان کے بعد سے شہر قائد کی انتظامیہ میں نیا جوش وولولہ سا نظرآرہا ہے۔
میگا ایونٹ کی میزبانی ملنے پر شہری بھی خوش دکھائی دے رہے ہیں، سڑکوں، چوہراہوں، فٹ پاتھوں اور دیگر تفریحی مقامات کو انتہائی خوبصورتی سے سجا کر انتظامیہ نے واقعی مثال قائم کی ہے جس پر ان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ لیکن ٹھیریے۔۔۔ یہ وہی سندھ حکومت ہے اور یہ وہی بلدیاتی انتظامیہ ہے جس کے پاس کسی بھی کام کے لیے کوئی فنڈ ہی نہیں تھا تو پھر اچانک سے کس طرح پیسہ آنا شروع ہوگیا اور کس طرح چند دنوں میں شہر کی بدترین حالت کو بہترین بنادیا گیا؟ ۔ سڑکوں کی صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ دھلائی بھی کی جارہی ہے، جو گاڑی یہ کام سرانجام دے رہی ہے اس کے لیے کبھی ڈیزل کے پیسے بھی نہیں تھے پھر اچانک یہ سب کس طرح ہوگیا کہ پیسہ بھی مل گیا اور کام بھی چل پڑا۔ کراچی دنیا کے بڑے شہروں میں سے ایک ہے جسے گلوبل سٹی کا خطاب بھی مل چکا ہے، یہ وہ شہر ہے جو پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جو مظلوم بھی ہے مگر سیاسی مفادات کی خاطر اسے ظالم بناکر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ تمام صوبوں کے لوگوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور ایک ماں کی طرح ان کی دیکھ بھال کررہا ہے۔ مگر گندگی کے ڈھیر پر سیاست کرنے والے آج اسی گندگی کو دفنا کر شہر کی خوبصورتی کو چار چاند لگانے میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔ کل تک کسی بھی بلدیاتی اور صوبائی ادارے کے پاس نہ تو اختیارات تھے اور نہ ہی کسی کے پاس فنڈز تھے کہ وہ شہر کی تعمیر وترقی پر بھی توجہ دیتے۔ مگر اچانک پی ایس ایل کی کراچی آمد کا اعلان ہوتا ہے اور پھر سب کچھ بدل جاتا ہے۔ سڑکوں سے کچرا غائب، دیواروں پر سفیدی، فٹ پاتھوں پر برقی قمقے اور ہر طرف خوش گوار ماحول بناکر کراچی کو دلہن کی طرح سجا دیا گیا۔
یہ سجاوٹ عارضی ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس عارضی سجاوٹ پر اداروں نے کروڑوں روپے خرچ کردیے۔ یہ عوام کا پیسہ تھا اس کا حساب کس کے کھاتے میں جائے گا۔ اس عارضی سجاوٹ کو ملکی خوش حالی کا نام دیا گیا ہے۔ کل تک وزیر بلدیات کو فرصت ہی نہیں تھی کہ وہ شہر کے حالات پر بھی دو لفظ کہہ دیتے۔ مگر آج وہ ہر وقت شہر کی رونق کی بات کرتے نہیں تھکتے۔ کل تک میئر کراچی کے پاس شہر کی صفائی ستھرائی کے لیے فنڈ نہیں تھا اب وہ دن رات کام میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں۔ عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ جس طرح کراچی میں وردی والوں نے امن قائم کیا کہیں اس صفائی ستھرائی کے پیچھے بھی تو وردی کا ہاتھ نہیں؟ اور اگر جمہوری بچوں کا کہنا یہ ہے کہ یہ خالصتاً حکومتی اداروں کی محنت ہے تو پھر پی ایس ایل سے قبل یہ فنڈز کہاں غائب تھے جو آج اچانک تجوریوں سے باہر آگئے؟
پی آئی ڈی سی سے لے کر نیشنل اسٹیڈیم تک ہر جانب پولیس کمانڈوز، رینجرز اور فوج کے دستے تعینات ہیں، بڑی عمارتوں پر اسنائپر موجود ہیں، تمام علاقوں کو جدید کیمروں کی مدد سے مانیٹر کیا جارہا ہے، جہاں کوئی پرندہ بھی ان کی نظروں سے بچ کر نہیں جاسکتا۔ بے شک غیرملکی مہمانوں کی حفاظت ہماری ذمے داری ہے، مگر کیا عوام کے جان ومال کے لیے کبھی اس طرح کے اقدامات کیے گئے؟ کیا کبھی عوام کے لیے اداروں نے اتنی محنت کی؟ کیا کبھی صوبائی اور وفاقی حکومتوں میں اس طرح کا اتحاد نظرآیا جو آج پی ایس ایل کی خاطر نظرآرہاہے؟ جتنا پیسہ آج محض عارضی سفیدی اور چمک دمک پر کیا گیا ہے اگر یہی فنڈز درست سمت میں استعمال کیا جاتا تو شاید یہ ایک عرصے تک برقرار رہتا اور عوام بھی اپنی تکلیفوں کوکچھ عرصے کے لیے بھول جاتے۔ چند دن پہلے تک ان ہی سڑکوں پر ہر وقت بدترین ٹریفک کی صورت حال نظرآتی تھی، مگر آج انہیں سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں رہتا ہے۔ اس کی وجہ ٹریفک پولیس کا ایمانداری سے ڈیوٹی دینا ہے جو اس سے قبل کبھی نہیں دی گئی۔ ٹریفک پولیس جو ہر وقت چالان اور جیب خرچ کے پیچھے بھاگتی نظرآتی تھی آج وہی ٹریفک پولیس ہے جسے نہ تو چالان کی فکر ہے اور نہ ہی اپنی جیب کی، بس ایک ہی چیز پر نظرہے کہ ٹریفک رواں دواں رہے۔ اگریہی ٹریفک پولیس ایمانداری سے اپنا کام ہروقت کرتی رہے تو شہر میں ٹریفک جام کا مسئلہ ہی پیدا نہ ہو۔ شہر میں کوئی ایسا شخص نہیں جو نہ جانتا ہوں کہ ٹریفک پولیس ہمیشہ ٹریفک کے دوران غائب رہتی ہے، یا پھر کسی کونے میں کھڑی شکار کا انتظار کرتی نظر آتی تھی۔
اسی طرح پولیس کمانڈوز جو ہر وقت پروٹوکول اور قافلوں میں دکھائی دیتے تھے آج وہی کمانڈوز سڑکوں کی خاک چھان رہے ہیں اور ہر آنے جانے والی گاڑیوں اور لوگوں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔ یہ کمانڈو اچانک کہاں سے آگئے؟ کیا اب وی آئی پی ڈیوٹیاں ختم ہوگئیں ہیں جو انہیں فارغ کرکے سڑکوں پر نکال دیا گیا ہے؟ محکمہ باغات کے پاس فنڈز نہیں تھے اس لیے شہر کے پودے اور درخت سوکھ کر ختم ہونے کے قریب آچکے تھے مگر اچانک وہ محکمہ باغات ہر دو، تین گھنٹے بعد پودوں اور درختوں کو پانی دیتا نظرآرہا ہے۔ کتابوں میں پڑھا تھا کہ کراچی کی سڑکوں کی دھلائی بھی ہوتی تھی مگر آج اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی رہے ہیں، اس سے پہلے یہ ادارے کہاں تھے جو آج اچانک خلائی مخلوق کی طرح برآمد ہوکر عوام کو حیران وپریشان کررہے ہیں؟
پی آئی ڈی سی برج پر دس پندرہ برس سے اسٹریٹ لائٹس روشن نہیں ہوئیں، آج انہیں بھی روشن کردیا گیاہے۔شاہراہ فیصل پر لگی اسٹریٹ لائٹس بھی آج روشن ہو گئی ہیں اطراف کے علاقوں میں لوڈشیڈنگ بھی کم کردی گئی ہے جو اس قبل کے الیکٹرک کے بس کی بات نہیں تھی۔ محکمہ سالڈ اینڈ ویسٹ مینجمنٹ بھی ہروقت گلی، محلوں اور سڑکوں پرگشت کرتا دکھائی دیتا ہے تاکہ جہاں کوئی گندگی ہو تو اسے فوری طور پر ہٹا دیاجائے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں اڑانے والا محکمہ ایڈورٹائز بھی غفلت کی نیند سے بیدار ہوکر جی جان سے کام میں مصروف ہے۔ جس کا ثبوت مختلف شاہراہوں سے ہٹائے گئے اشتہاری بورڈ ہیں۔
پی ایس ایل کے باعث روزانہ کی بنیاد پر صوبائی اور مقامی حکومتی اداروں کے اجلاس باقاعدگی سے ہورہے ہیں تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مگر درحقیقت یہ اجلاس عوام کو پریشانی سے بچانے کے لیے نہیں بلکہ اپنی نوکریاں بچانے کے لیے ہورہے ہیں۔ اگر یہ ادارے روزانہ کی بنیاد پر نہ سہی پندرہ دن بعد بھی صرف ایک دن عوام کے لیے اجلاس کریں اور عوام کو درپیش مسائل پر بات کریں تو شاید برسوں کے مسائل مہینوں میں ختم ہوجائیں۔