مردم شماری میں سندھ کی آبادی کم دکھائی گئی،وزیراعلیٰ سندھ

102
کراچی :وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ پاپولیشن ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدرات کررہے ہیں 
کراچی :وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ پاپولیشن ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدرات کررہے ہیں 

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ پاپولیشن ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ2017ء میں ہونے والی مردم شماری میں سندھ کی آبادی کم دکھائی گئی ہے،بڑھتی ہوئی آبادی سے وسائل کم ہورہے ہیں،جس سے روزگار ، صحت ، تعلیم، کھاد،خوراک اور گھر وغیرہ کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ٹاسک فورس سی سی آئی میں ہونے والے فیصلے اور عدالت عظمیٰ کے از خود نوٹس کی روشنی میں قائم کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ کہا کہ سندھ کی آبادی تیزی سے بڑھنے کی2وجوہات ہیں جن میں پیدائش کا عمل اور ملک بھر سے سندھ کے شہرں میں نقل مکانی شامل ہے،انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی 207.8 ملین ہے جبکہ سندھ کی آبادی 47.8 ملین ہے جو ہم سمجھتے ہیں کہ کم دکھائی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے فوکل پرسن ڈاکٹر طالب لاشاری نے بتایا کہ ورکنگ گروپ نے بڑے فیصلے کیے ہیں جس میں صحت اور آبادی کے محکموں کا انضمام ،لیڈی ہیلتھ ورکرز اور لیڈی ہیلتھ وزیٹرس کا ٹاسک شیئرنگ ،متعلقہ این جی اوز کے لیے مفت مانع حمل کی تقسیم اور حاملہ ہونے کے بعد خاندانی منصوبہ بندی کے لیے مناسب صحت کی سہولیات کی فراہمی شامل ہیں۔ سندھ میںآبادی کی شرح 2.4 فیصدسالانہ ،شرح پیدائش میں کمی سلو ہے ، سی آئی پی سندھ کا ایک نہایت اہم منصوبہ ہے جس میں صحت کے محکموں،پاپولیشن پروگراموں مثلاً ایل ایچ ڈبلیو ،ایم این سی ایچ اور تنظیموں پی پی ایچ آئی کے ساتھ ساتھ ڈیولپنگ پارٹنرز اور سول سوسائٹی کو خاندانی منصوبہ بندی کی ترغیبات فراہم کرنا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے پروگراموں کے باقاعدہ بجٹ کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت سی آئی پی کو 2.15 بلین روپے کی فنڈنگ کررہی ہے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 2020 ء تک سی پی آر کوسندھ میں 986260 اضافی مانع حمل کے استعمال کرنے والے درکار ہوں گے۔دسمبر 2018 میں 201498 اضافی استعمال کرنے والے جنریٹ کیے گئے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے آبادی پر قابو پانے کے لیے چائلڈ میرج ری اسٹرینٹ ایکٹ 2013ء ، ریپروڈکٹیو ہیلتھ رائٹس بل، پاپولیشن پالیسی آف سندھ 2016ء اور کوسٹل قابل عمل منصوبہ برائے فیملی پلاننگ 2015 ء جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔اجلاس میں پاپولیشن ٹاسک فورس کے ورکنگ گروپ کی سربراہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرہ پیچوہو، سیکرٹریز صحت ، پاپولیشن، تعلیم،خزانہ،انفارمیشن، شہناز وزیر علی،سی پی او پی پی ایچّ آئی وہاب سومرو، بل اور ملنڈا گیٹس کے نمائندے، یو ایس ایڈ، آغا خان اسپتال،یو این ایف پی اے اور دیگر نے شرکت کی۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے انسپکٹر لیگل اور انویسٹی گیشن کوآفر لیٹرز تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے استغاثہ کو مضبوط بنانے کے لیے 294 انسپکٹرز (لیگل اور انویسٹی گیشن) شامل کیے ہیں 76 مزید بھرتی کیے جائیں گے۔ آفر لیٹر لینے والوں میں 168 انسپکٹر (انویسٹی گیشن) اور 126 انسپکٹر (لیگل) شامل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ ایمانداری اور تندہی کے ساتھ کام کریں گے۔