افغانستان سے فوج نکلے نہ عبوری حکومت قائم ہوگی،زلمے خلیل زاد

152

کابل (آن لائن) امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ افغانستان سے فوج نکلے گی نہ عبوری حکومت قائم ہوگی۔ افغان صدارتی محل سے جاری بیان میں زلمے خلیل زاد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے افغان صدر اشرف غنی کو حالیہ مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ طالبان اور امریکا کے درمیان امریکی فوج کے انخلا کا کوئی معاہدہ طے نہیں پایااورافغانستان میں سیاسی نظام کی تبدیلی یاعبوری حکومت کے قیام سے متعلق بھی کوئی بات نہیں کی گئی۔ امریکی نمائندہ خصوصی نے بتایا کہ طالبان سے جنگ بندی سے متعلق مذاکرات ہوئے لیکن اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔زلمے خلیل زاد نے کہا کہ طالبان رہنماؤں نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ دہرایا تاہم اس موقع پر ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔افغان میڈیا نے دعویٰ کیا کہ طالبان اور امریکا کے درمیان باقی رہ جانے والے معاملات پر زلمے خیل زاد طالبان قیادت سے دوبارہ ملاقات کریں گے۔علاوہ ازیں افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کو براہ راست مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے پاس 2 ہی راستے بچے ہیں یا تو افغان عوام کا ساتھ دیں یا پھر دوسرے ممالک کے ہاتھوں استعمال ہوں۔اشرف غنی نے مزید کہا کہ حکومت ملک میں 40سال سے جاری جنگ کا خاتمہ چاہتی ہے اور یہی خواہش افغان عوام کی بھی ہے تاہم موجودہ صورتحال میں غیر ملکی فوجوں کی موجودگی ضروری ہے۔دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے واضح کیا کہ جب تک غیرملکی افواج کا انخلا پر سمجھوتا نہیں ہوجاتا جنگ بندی سمیت کوئی بات تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا سے مذاکرات میں اہم پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے تاہم یہ معاملہ پیچیدہ نوعیت کا ہے جس پر مزید تفصیل سے گفتگو کی ضرورت ہے چنانچہ اس حوالے سے بات چیت کا سلسلہمستقبل میں بھی برقرار رکھا جائے گا اور اس سے اپنی اپنی قیادت کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔