سب انسپکٹرتشدد کیس:دہشت گردی دفعات معطلی کی درخواست مسترد

54

لاہور(خبر ایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے وکلا کی جانب سے ایک سب انسپکٹر پر تشدد کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران مقدمے سے انسداد دہشت گردی کی دفعات معطل کرنے اور نامزد وکلا کی گرفتاریوں سے متعلق حکم امتناع کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ وہ استعفا دے دیں گے لیکن بے انصافی نہیں کریں گے۔ واضح رہے کہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر وکلا کے تشدد کی ڈیو وائرل ہونے کے بعد چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیا تھا۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے بینچ نے لاہور رجسٹری میں وکلا کی جانب سے سب انسپکٹر پر تشدد کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔سماعت کے دوران لاہور بار کے صدر نے استدعا کی زیادتی وکلا کی نہیں بلکہ پولیس کی تھی، لہٰذ اس مقدمے میں سے انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کی جائیں تاہم عدالت عظمیٰ نے مقدمے سے انسداد دہشت گردی کی دفعات معطل کرنے اور نامزد وکلا کی گرفتاریوں سے متعلق حکم امتناع کی استدعا مسترد کردی۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے ریمارکس دیے، میں استعفا دے دوں گا مگر بے انصافی نہیں کروں گا۔اس موقع پر وکلاکی جانب سے کمرہ عدالت کے اندر شیم شیم کے نعرے لگائے گئے۔ جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شیم شیم کے نعرے لگانے والے آئندہ میری عدالت میں مت آئیں۔صدر لاہور بار نے کہا کہ شیم شیم کے نعرے پولیس کے لیے ہیں۔تاہم چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ میں اس ادارے کا باپ ہوں گالیاں بھی کھانی پڑیں تو کھاؤں گا۔سیکرٹری لاہور بار نے چیف جسٹس سے مکالمہ کیا کہ اگر آپ 7 اے ٹی اے معطل نہیں کرتے تو ہم عدالت عظمیٰ کے باہر دھرنا دیں گے۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ لوگ دھرنا دیں تو میں باہر آتا ہوں، دیکھتا ہوں۔وکلا کے احتجاج کے باعث چیف جسٹس کمرہ عدالت سے باہر آگئے، تاہم تھوڑی دیر بعد دوبارہ واپس آگئے۔سماعت کے اختتام پر چیف جسٹس نے وکلا کی جانب سے سب انسپکٹر پر تشدد کی وڈیو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ وڈیو عدالت میں دکھا کے ذمے داروں کا تعین کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.