قانون ناموس رسالتؐ کو چھیڑ کر ایک نیا بحران پیدا نہ کیا جائے،مولاناعبدالرؤف

43

لاہور (نمائندہ جسارت) امت مسلمہ کے تمام مکاتب فکر کی نمائندہ تنظیم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام قانون توہین رسالت کو عملی طورپر غیرمؤثر بنانے کے ضمن میں سینیٹ قائمہ کمیٹی میں توہین رسالت قانون میں متنازع ترمیمی بل دوبارہ پیش کرنے کیخلاف ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا جس کے تحت تمام مکاتب فکر کے علما و خطبا نے مساجد میں اجتماعات جمعہ پر قانون تحفظ ناموس رسالت کو غیرمؤثر کرنے کی اس نئی سازش کیخلاف بھرپور صدائے احتجاج بلند کی اور عوام سے مذمتی قراردادیں پاس کرائیں ۔ملک کے دیگر مختلف شہروں کی طرح اسلام آباد اور راولپنڈی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف، مبلغ اسلام آباد مولانا محمدطیب فاروقی، مولانا قاضی مشتاق احمد ، مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالنعیم، قاری عبدالوحیدقاسمی، مولانا قاضی ہارون الرشید ، مولانا اعظم خان ، مولانازاہداوروسیم،خالدمبین نے کہا کہ ملک میں موجود یہودی و قادیانی لابی آئین کی اسلامی شقوں باالخصوص ختم نبوت و ناموس رسالت ایکٹ کو غیرمؤثر کرنے کیلیے آئے روز نت نئے سازشوں کے جال بنتی رہتی ہے۔سینیٹ میں حالیہ توہین رسالت کا متنازع ترمیمی بل اسی سازش کی ایک کڑی ہے اس متنازع ترمیمی بل میں جہاں قرآن و احادیث کی عظیم تعلیمات کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں وہاں پر 73ء کے متفقہ اسلامی آئین سے بھی صریح طورپر غداری کی گئی ہے اس بل میں توہین رسالت کے مرتکب مجرم اور کیس کے مدعی کے لیے قانونی سزا سزائے موت دینے کی شق شامل کی گئی ہے جو سراسر قانون تحفظ ناموس رسالت سے امتیازی سلوک برتنے کا منہ بولتاثبوت ہے ۔علما نے کہا کہ حکومتی وزرا نے پریس اور الیکٹرونک میڈیا پر آ کر اعلان کیا تھا کہ قانون تحفظ ناموس رسالت 295-cکو ہرگز نہیں چھیڑا جائیگا اورعلما کی ایک میٹنگ میں ان وفاقی وزرا نے یقین دلایا کہ متنازع ترمیمی بل واپس لے لیا گیا ہے ، اب جبکہ یہ متنازع بل دوبارہ پیش کر کے وعدہ خلافی اور کروڑوں مسلمانوں سے دھوکا کیا۔مبلغین ختم نبوت نے کہا کہ موجودہ حکومت بیرونی دباؤ اور اشاروں پر قانون تحفظ ناموس رسالت سے غداری کر کے قہر الٰہی کو دعوت نہ دے ۔وطن عزیز پہلے ہی معاشی بحران اور کئی قسم کے بحرانوں سے دوچار ہے قانون ناموس رسالت کو چھیڑ کر ایک نیا بحران پیدا نہ کیا جائے۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سینیٹ قائمہ کمیٹی میں پیش کردہ بل کی شق نمبرG27جو کہ قانون تحفظ ناموس رسالت کو غیرمؤثربنانے سے متعلق ہے، کو فی الفور حذف کیا جائے ورنہ کروڑوں اسلامیان پاکستان سراپااحتجاج بن جائینگے۔حکومت نے ابھی تک آفیشلی طورپر سینیٹ سے بل واپس نہیں لیا جس سے مسلمانوں میں اضطراب کی کیفیت پائی جاتی ہے حکومت اس ترمیمی بل کوفی الفور پر سینیٹ کے فلور پر واپس کرنے کا اعلان کرے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.