بہترین خاتمے کے لیے

174

 

عبدالمالک سلفی

دنیا میں سب سے قیمتی اثاثہ انسان کی اپنی جان (زندگی) ہے۔ اگر انسان نے اس کو آخرت کی بھلائی کے لیے استعمال کیا تو یہ تجارت اس کے لیے نہایت ہی مفید ہے۔ اور اگر اسے فسق وفجور میں ضائع کردیا اور اسی حال میں دنیا سے چلا گیا تو یہ بہت بڑا نقصان ہے وہ شخص دانش مند ہے جو اللہ تعالیٰ کے حساب لینے سے پہلے پہلے اپنا محاسبہ کرلے اور اپنے گناہوں سے ڈر جائے قبل اس کہ کے وہ گناہ ہی اسے ہلاک اور تباہ کردیں۔
رسول مقبولؐ نے فرمایا: جس حالت میں آدمی فوت ہوگا، اسی پر اسے قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔ (الحاکم)
ہم اللہ تعالیٰ سے اچھے خاتمے کا سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے تمام کام سنوار دے اور ہمارے اعمال کی اصلاح فرمائے، بے شک وہ سننے والا، قبول کرنے والا اور بہت قریب ہے۔
برے خاتمہ سے یہ مراد ہے کہ قرب مرگ آدمی پر برے خیالات کا غلبہ ہو اور وہ شکوک وشبہات اور انکار ونافرمانی کے ساتھ دنیا سے چمٹا رہے اور اسی حال میں اس کی موت واقع ہوجائے اور اس کا خاتمہ ایسے اعمال پر ہو جو اسے ہمیشہ کے لیے جہنم کا سزا وار بنادیں۔
بْرے خاتمے کے خوف نے صدیقین کے دلوں کو ہر وقت پارہ پارہ اور پریشان رکھا ہے کہ ان کے لیے اس دنیا میں راحت وآرام نہیں ہے۔ وہ جب کبھی کسی پرسکون گلی میں داخل ہوتے ہیں تو ان کی گھبراہٹ انہیں خوف کی راہ پر گامزن کردیتی ہے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؂
میں تکلیف کی حالت میں شام کرتا ہوں اور تکلیف کی حالت میں ہی صبح کرتا ہوں اور تُو سمجھتا ہے کہ میں کپڑوں میں صحیح سلامت ہوں
جب اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو علم عطا فرمایا اور اس پر عمل کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے کہا: عنقریب کرلیں گے۔ اور اس عنقریب نے ان کے اعمال کی عمریں کم کردی ہیں۔ وہ متنبہ ہوکر دن رات جاگتے رہے اور اپنے بڑے بڑے بھیانک ارادوں کو عملی صورت دے دی، جب انہوں نے جی بھر کے گناہ کرلیے اور کوئی کسر نہ چھوڑی تو ان کے انجام سے ڈرنے لگے۔
اور یہ بات حدیث میں رسول مقبولؐ سے ثابت ہے کہ (لوگوں کے) دل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں کے درمیان ہیں۔ اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا ہے، پھیر دیتا ہے اور ہم نے کتنے لوگوں کے متعلق سنا کہ وہ ایمان لانے کے بعد مرتد ہوگئے اور کتنے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ استقامت اختیار کرنے کے بعد منحرف ہوگئے۔ اسی لیے رسولؐ یہ دعا کثرت سے پڑھتے تھے: ’’اے دلوں کو پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنے دین پرثابت رکھ۔
رسول مقبولؐ کے زمانے میں بعض لوگ ایمان لانے کے بعد مرتد ہوگئے اور نوراسلام سے نکل کر کفر کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں چلے گئے۔ ان مرتد ہونے والوں میں سے عبیداللہ بن جحش بھی تھا۔ اس نے حبشہ کی طرف ہجرت بھی کی تھی اور پھر وہ اسلام سے مرتد ہوکر عیسائیت میں داخل ہوگیا۔ رسول مقبولؐ کی وفات کے بعد کتنے لوگ فتنہ ارتداد کا شکار ہوگئے جن کے خلاف ابو بکرؓ نے جہاد کیا۔ اسی طرح عمرفاروقؓ کے زمانہ خلافت میں کئی لوگ دائرہ اسلام سے نکل کر کفر میں داخل ہوگئے۔ ان میں ایک ربیعہ بن اْمیہ بن خلف بھی تھا جو صحابہ کرامؓ کے ساتھ ایک لشکر میں شامل تھا اور شراب پیتا تھا۔ عمرؓ نے اس پر شراب کی حد نافذ کرکے خیبر کی طرف اسے جلا وطن کردیا تو وہ ہرقل شاہ روم کے پاس چلاگیا اور جا کر عیسائیت میں داخل ہوگیا۔ نعوذ باللہ من ذلک (الاصابہ)
اسلاف کرام کا برے خاتمہ سے ڈرنا:
حافظ ابن رجبؒ فرماتے ہیں کہ اسلاف پر برے خاتمے (انجام موت) کا خوف طاری رہتا تھا۔ ان میں ایسے بھی تھے جو اپنے اعمال پر قلق محسوس کرتے تھے اور کہاجاتا ہے کہ نیکوکاروں کے دل خاتمے کے بارے میں ہر وقت فکرمند رہتے ہیں کہ ہم نے آگے کما کر کیا بھیجا ہے؟
سفیان ثوریؒ کہتے ہیں کہ انہوں نے بعض سلف صالحین سے پوچھا کہ کیا آپ کو اس بات نے کبھی رْلایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا آپ کے متعلق فیصلہ کیا ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو مجھے مہلت دی ہے، میں اس پر کبھی مطمئن نہیں رہتا۔ امام سفیان بھی اپنے اعمال اور خاتمے کی وجہ سے قلق محسوس کیا کرتے تھے اور رو کر کہتے تھے کہ کاش! میں اْم الکتاب میں بدبخت نہ لکھا جاؤں، میں ڈرتا ہوں کہ موت کے وقت میرا ایمان کہیں مجھ سے چھین نہ لیاجائے۔
مالک بن دینار رات کو بہت طویل قیام کرتے اور اپنی داڑھی پکڑ کرکہتے کہ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ جنت میں کون ہے اور جہنم میں کون ہے، اے اللہ! میری جگہ تو نے کہاں بنائی ہے: جنت میں یاجہنم میں!
موت کے وقت سلف کے چند اقوال:
سیدنا ابوہریرہؓ جب فوت ہونے کے قریب ہوئے تو رونے لگے۔ جب آپ سے رونے کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ میں اس لیے رورہا ہوں کہ سفر بہت لمبا ہے اور زادراہ بہت تھوڑا ہے۔ اور یقین کمزور ہے اور اترنے کی گھاٹی بہت مشکل ہے یا تو جنت کی طرف اور یا پھر جہنم کی طرف!
امیر معاویہؓ جب فوت ہونے کے قریب ہوئے تو فرمانے لگے کہ مجھے اٹھا کر بٹھا دو چنانچہ آپ کو بٹھا دیا گیا۔ آپ اللہ کا ذکر اور تسبیح وتقدیس کرنے لگے اور اپنے آپ کو مخاطب کرکے فرمانے لگے کہ اے معاویہ! تو اپنے آپ کو گرتا ہوا دیکھ کر اب اپنے رب کا ذکر کرنے لگا۔ جب جوانی کی ٹہنیاں تر وتازہ تھیں، اس وقت تونے کیوں نہ سوچا اور پھر رونے لگے حتیٰ کہ رونے کی آواز بلند ہونے لگی اورپھر فرمانے لگے: موت سے کسی کو نجات نہیں جس موت سے میں ڈرتا ہوں وہ نہایت سخت اور ہولناک ہے۔
پھر کہنے لگے: اے اللہ! سیاہ کار اور سخت دل بوڑھے پر رحم وکرم فرما، اے اللہ! زادراہ تھوڑا ہے میری خطاؤں کو معاف فرما اور اسے بخش دے جس کا تیرے سواکوئی سہارا اور جائے پناہ نہیں۔
عمرو بن عاصؓ کے متعلق مروی ہے کہ جب وہ فوت ہونے کے قریب ہوئے تو اپنے محافظوں اور خادموں کو اپنے قریب بلا کر فرمانے لگے کہ کیا تم اللہ سے میرے متعلق کچھ کفایت کرسکتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہرگز نہیں۔ تو فرمانے لگے: تم یہاں سے چلے جاؤ اور مجھ سے دور ہوجاؤ پھر انہوں نے پانی منگوا کر وضو کیا اور کہنے لگے کہ مجھے مسجد کی طرف لے چلو۔ آپ کو مسجد میں لایا گیا تو آپ فرمانے لگے: اے اللہ! تو نے مجھے حکم دیا اور میں تیری نافرمانیاں کرتا رہا تو نے مجھے امانت سونپی اور میں خیانت کرتا رہا، تو نے میرے لیے حدود متعین کیں اور میں انہیں توڑتا رہا۔ اے اللہ! میرے پاس کوئی عذر نہیں ہے جسے میں آج تیرے سامنے پیش کرسکوں اور نہ کوئی طاقتور میری مدد کرسکتا ہے۔ بلکہ میں تو گناہگار ہوں اور میری بخشش کا طلب گار ہوں اور مجھے اپنے گناہوں پر اصرار بھی نہیں اور نہ ہی میں تکبر کرنے والا ہوں۔
(اغتنام الاوقات فی الباقیات الصالحات از شیخ عبدالعزیز سلمان)
جب سلف صالحین کا یہ حال ہے تو ہمیں ان سے زیادہ ڈرنا چاہیے۔ ہمارے دل سخت ہیں اور ہم اپنی لاعلمی کی وجہ سے بے پرواہ ہیں۔ اس لیے بھی کہ صاف دل معمولی مخالفت سے بھی ڈرتے ہیں جبکہ سخت دلوں پر وعظ ونصیحت بھی اثر نہیں کرتے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے دل، رونے والی آنکھ اور ذکر کرنے والی زبان کا سوال کرتے ہیں، بے شک وہی یہ چیزیں عطا فرمانے پر قدرت رکھتاہے!

Print Friendly, PDF & Email
حصہ