نوجوانوں کو نظر انداز کر کے مثبت تبدیلی نہیں لائی جا سکتی ، امیر العظیم

66

لاہور (وقائع نگار خصوصی) امیر جماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب امیر العظیم نے کہا ہے کہ نوجوان پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کو نظر انداز کرکے ملک میں مثبت تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔ ہمیں نوجوانوں کو کسی بھی موقع پر تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ نوجوان طبقہ پاکستان کی کل آبادی کے 60فیصدحصے پر مشتمل ہے۔ اس وقت ملک بھر میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لے کر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں عوامی وفود سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیزاس وقت مسائل کی دلدل میں دھنستاچلا جارہا ہے۔ لوگوں کوکوئی ریلیف میسر نہیں۔ بہت بڑی تعداد میں پڑھے لکھے نوجوان حالات سے دلبرداشتہ ہوکر حصول روزگار کی تلاش میں بیرون ملک کا رخ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی برین کو ڈرین ہونے سے بچایا جائے۔ آج کا نوجوان ہی مستقبل کا بہترین ہنرمند، کھلاڑی، سیاستدان اور حکمران ہوگا۔ ہمیں نئے اور ایماندار لوگوں کو آگے لانا ہوگا۔ پاکستان کی موجودہ سیاست میں اچھی تبدیلی تب ہی آسکتی ہے جب نوجوان آگے بڑھ کر ملکی مسائل حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ماضی کے حکمرانوں کی عاقبت نااندیش پالیسیوں کی بدولت نوجوانوں کو ترقی کے نئے مواقع میسر نہیں آئے، جس کی وجہ سے ان میں مایوسی بڑھی۔ تحریک انصاف کی حکومت نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے فوری اقدامات کرے۔ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ تاریخ گواہ ہے کہ جس بھی قوم نے ترقی کی اس نے سب سے پہلے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کارلایا۔ باصلاحیت افراد کسی بھی ملک کی ترقی کا بنیادی ذریعہ ہوتے ہیں، ان کی انفرادی و اجتماعی تربیت کر کے ہی مثبت نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ امیر العظیم نے مزیدکہاکہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے وسائل کی دولت سے نوازاہے مگر حکمرانوں کی ڈنگ ٹپاؤپالیسیوں کے سبب ہم ان سے بھر پورانداز میں استفادہ کرنے سے قاصر ہیں بلکہ الٹاان قدرتی وسائل سے غیر ملکی کمپنیاں فائدہ اٹھاتے ہوئے ثمرات حاصل کررہی ہیں۔ ہمیں قرضوں کے بجائے خود انحصاری اور وسائل سے استفادہ کرنا ہوگا، تب ہی جاکر ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہوسکتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ