کوٹری ، خاکروبوں کی ہڑتال ختم، صفائی ستھرائی کا کام سست روی کا شکار

46

کوٹری (نمائندہ جسارت) واٹر کمیشن سربراہ کے آبائی شہر کوٹری میں صحت وصفائی کا نظام بہتر نہ ہوسکا، خاکروبوں کی ہڑتال ختم ہونے کے باوجود صفائی ستھرائی کا کام سست روی کا شکار، مرکزی شاہراہ پر سیوریج کا پانی کھڑا ہونا معمول بن گیا، علاقوں میں گندگی وکچرے کے ڈھیر لگ گئے، شہری وسماجی حلقوں کا احتجاج۔ واٹر کمیشن سندھ کے سربراہ امیر ہانی مسلم کے آبائی شہر کوٹری میں صحت وصفائی کا نظام بہتر نہ ہوسکا ہے۔ کوٹری کی مرکزی شاہراہ لیاقت روڈ پر سیوریج کا آلودہ پانی کھڑا ہونا معمول ہے، جس کی وجہ سے دکانداروں کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور کاروباری زندگی بھی متاثر ہورہی ہے، جبکہ شہری وتجارتی علاقوں میں صفائی ستھرائی نہ ہونے کے باعث گندگی وکچرے کے ڈھیر لگ چکے ہیں اور علاقوں میں مچھروں کی افزائش نسل میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، جس سے ملیریا کا مرض بھی پھیل رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بلدیہ کوٹری کے 56 خاکروبوں نے گزشتہ ہفتے مطالبات کے لیے کام بند کردیا تھا، جس پر ڈپٹی کمشنر جامشورو نے نوٹس لیتے ہوئے دیگر اداروں سے ورکروں کو بلوا کر صفائی مہم کا آغاز کیا تھا اور ہڑتالی ملازمین کو ڈیوٹی جوائن نہ کرنے پر فارغ کرنے کا عندیہ دیا تھا، جس پر ہڑتالی ملازمین نے ڈیوٹیاں جوائن کرلی تھیں مگر خاکروبوں کے واپس آنے کے باوجود شہر میں صفائی کا کام سست روی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ اس ضمن میں کوٹری کے سماجی رہنما شاہد راؤ کا کہنا ہے کہ بلدیاتی حکام نے عوامی مسائل سے مجرمانہ چشم پوشی اختیار کرکھی ہے۔ پسند و ناپسند کی بنیاد پر صفائی کا کام کرایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی واحد عید گاہ بھی بلدیہ حکام کی غفلت کے سبب گندگی کی لپیٹ میں آچکی ہے اور عیدگاہ کے سامنے کچرے کا ڈھیر افسوسناک عمل ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری کوٹری میں ہنگامی بنیادوں پر صفائی کا کام کرایا جائے بصورت دیگر شہری احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ