قال اللہ تعالیٰ و قال رسول اللہ ﷺ

116

نکلو، خواہ ہلکے ہو یا بوجھل، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ، یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو اے نبیؐ، اگر فائدہ سہل الحصول ہوتا اور سفر ہلکا ہوتا تو وہ ضرور تمہارے پیچھے چلنے پر آمادہ ہو جاتے، مگر ان پر تو یہ راستہ بہت کٹھن ہو گیا اب وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہیں گے کہ اگر ہم چل سکتے تو یقیناًتمہارے ساتھ چلتے وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں ۔ اے نبیؐ، اللہ تمہیں معاف کرے، تم نے کیوں انہیں رخصت دے دی؟ (تمہیں چاہیے تھا کہ خود رخصت نہ دیتے) تاکہ تم پر کھل جاتا کہ کون لوگ سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی تم جان لیتے ۔ جو لوگ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے یہ درخواست نہ کریں گے کہ انہیں اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرنے سے معاف رکھا جائے اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے ۔ (سورۃ التوبہ:41تا 44)

سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمؐ نے ایک مرتبہ ایک لشکر روانہ کیا۔ اس میں گنتی کے لوگ تھے۔ آپ ؐ نے ان سے قرآن پڑھنے کو کہا جسے جو یاد تھا پڑھا پھر آپ ؐ ان میں سے ایک کمسن کے پاس تشریف لائے اور فرمایا تمہیں کتنا قرآن یاد ہے۔ اس نے کہا کہ مجھے فلاں فلاں سورت اور سورہ بقرہ یاد ہے۔ آپ ؐ نے فرمایا تو پھر جاؤ تم ان کے امیر ہو۔ رسول اللہ ؐ نے فرمایا۔ قرآن سیکھو اور پڑھو اس لیے کہ جس نے قرآن کو سیکھا اور پھر اسے تہجد وغیرہ میں پڑھا اس کی مثال ایک مشک سے بھری ہوئی تھیلی کی سی ہے کہ اس کے خوشبو ہر جگہ پھیلتی رہتی ہے اور جس نے اسے یاد کیا اور پھر سو گیا تو وہ اس کے دل میں محفوظ ہے جیسے مشک کی تھیلی کو باندھ کر رکھ دیا گیا ہو۔ یہ حدیث حسن ہے۔ (جامع ترمذی)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ