پلانٹ بائیوٹیکنالوجی سے پیدوار میں اضافہ ممکن ہے‘ ڈاکٹر سیف اللہ خان

38

کراچی ( اسٹاف رپورٹر )زراعت کے شعبہ میں پلانٹ بائیو ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے بلکہ کیمیائی کھاد اور کیڑے مار ادویات کے استعمال کی ضرورت بھی باقی نہیں رہتی ہے جس کی وجہ سے زراعت کے شعبہ میں اس کی نئی ٹیکنالوجی کا استعمال بہت ضروری ہوگیا ہے، پلانٹ بائیو ٹیکنالوجی کے استعمال کی بنا پر کسی بھی پودے کی اچھی خصوصیات کو کسی دوسرے پودے میں منتقل کیا جاسکتا ہے جس سے استفادہ کرکے پاکستان میں اعلیٰ معیار کی بی ٹی کاٹن بنائی گئی ہے اور کیلے کی فصل کو مختلف بیماریوں سے بچایا گیا ہے۔یہ بات ڈیفنس،سائنس اور ٹیکنالوجی آرگنائیزیشن(ڈیسٹو) کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر سیف اللہ خان نے گزشتہ روز محمد علی جناح یونیورسٹی کراچی (ماجو) کے بائیو سائینسز کے شعبہ کے طلبہ کو” پلانٹ بائیو ٹیکنالوجی،اس کی وسعت اور پاکستان میں اس کے رجحانات” کے موضوع پر ایک لیکچر دیتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ماجو کے بائیو سائینسزکے شعبہ کے سینئر اساتذہ ڈاکٹر خطاب گل،ڈاکٹرہماجاوید، بشریٰ بلال،انعم طارق اور فیضان سلیم بھی موجود تھے۔ڈیسٹو کے ڈاکٹر سیف اللہ خان نے اپنے لیکچر کے دوران پاکستان میں ٹشو کلچر کی اہمیت اور فروغ پر زور دیا تاکہ ہمارا ملک عالمی سطح پر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوسکے۔انہوں نے پلانٹ ٹشو کلچر ٹیکنا لوجی کے استعمال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کا استعمال فصل کی اچھی پیداوار اور نشوونما کے لیے بے حد ضروری ہے جس کی مدد سے زرعی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جاسکتا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ