تحریک انصاف نے بھی عوام کو مایوس کیا،قوم کا سڑکوں پر نکلنا المیہ ہوگا،سراج الحق 

136
لاہور:امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں
لاہور:امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جما عت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت کو آئے ابھی2 ماہ ہوئے ہیں ، مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام کی مایوسی میں اضافہ ہورہاہے ۔ نئی حکومت بڑے بڑے دعوؤں اور وعدوں کے ساتھ آئی تھی ۔ عوام سمجھتے تھے کہ انہوں نے بہت ہوم ورک کیا ہوگا مگر حکومتی پالیسیوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ محض میڈیا کے ذریعے لوگوں کو چاند ستارے توڑ لانے کی خوش خبریاں سناتے رہے ۔ جو پالیسیاں عوام کو آسانیاں دینے کے بجائے ان کی مشکلات اور پریشانیوں میں اضافہ کریں ، انہیں راوی میں پھینک دینا چاہیے۔ اگر احتساب کے لیے قوم کو ایک بار پھر سڑکوں پر آناپڑا تو یہ بہت بڑا المیہ ہوگا۔ سیاستدانوں ، جرنیلوں اور بیوروکریٹس جس نے بھی ملک کو لوٹاہے ، اسے احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کر کے لوٹی گئی دولت واپس لی جائے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں تربیت گاہ سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بھی موجود تھے ۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ نیب کے پاس کرپشن کے 150 سے زائد میگا اسکینڈلز ہیں مگر بااثر ملزموں پر ہاتھ نہیں ڈالا جارہا۔ نوازشریف کی نااہلی کے بعد پاناما لیکس کے حوالے سے پر اسرار خاموشی ہے ۔ قوم چاہتی ہے کہ پاناما کے دیگر 436 ملزموں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے ۔ نیب حکومت اور عدالت عظمیٰ اس معاملے پر کیوں خاموش ہیں؟۔ قوم کے علم میں لانا چاہیے ۔چیف جسٹس صاحب بڑی سرعت اور دلیری سے مختلف معاملات پر از خود نوٹس لیتے ہیں ۔ لوٹی گئی قومی دولت کی واپسی کے لیے بھی انہیں نوٹس لیناچاہیے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک میں کوئی ہنگامی صورتحال ہے نہ کوئی آفت آئی ہے مگر حکومتی فیصلوں نے ایک دن میں بیرونی قرضے میں 902 ارب روپے کا ہمالیہ لاددیا ہے اور ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کاغذ کا ایک بے وقعت پرزہ بن کر رہ گیاہے، اب تو بنگالی ٹکہ اور افغان کرنسی بھی روپے کے مقابلے میں مضبوط ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ گاڑی بیک مرر میں دیکھ کر نہیں چلتی آگے دیکھنا پڑتاہے ۔ اگر یہ گاڑی اسی طرح چلتی رہی تو عوام جمہوریت ہی سے مایوس ہو جائیں گے۔ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کار مایوس ہوکر باہر بھاگ رہے ہیں ۔ لوگ سمجھتے تھے کہ پی ٹی آئی حکومت میں باہر سے سرمایہ کار آئیں گے مگر یہاں سب کچھ الٹ ہورہاہے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومتی وزرا کے متضاد بیانات نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیاہے ۔ وزرا22کروڑ عوام کو غلط خبریں دے کر پریشان کرنے کے بجائے سچ بولیں ۔ سی پیک کے حوالے سے بہت بڑے خدشات پیدا ہوگئے ہیں وزرا کے بیانات نے جو گرد و غبار اڑایا ہے ، اسے صاف کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ایک بار پھر قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کو بلا کر ان خدشات کو دور کرے اور قوم کو اعتماد میں لیا جائے ۔ سینیٹر سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے حکومت ایک واضح روڈ میپ دے اور تحریک آزادی کشمیر کو حکومتی پالیسی کے بجائے ریاستی پالیسی بنایا جائے تاکہ حکومتوں کے بدلنے سے اس پالیسی پر کوئی اثر نہ پڑے ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام 70سال سے تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں اور انہوں نے بھارت سے آزادی کے لیے ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں ۔ جماعت اسلامی 27 اکتوبر کو اسلام آباد میں عظیم الشان آزاد�ئکشمیر مارچ کر رہی ہے تاکہ عالمی برادری کو اس دیرینہ مسئلے کے حل کی طرف متوجہ کیا جائے اور مظلوم کشمیریوں کو حوصلہ دیا جاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے ۔ سینیٹر سراج الحق نے ایک بار پھر حکومت کو مشورہ دیاہے کہ آئی ایم ایف کے در پر سجدہ ریز ہونے کے بجائے اللہ سے مدد مانگیں اور سودی نظام معیشت سے توبہ کرتے ہوئے زکوٰۃ و عشر کا بابرکت نظام اپنالیں تو اس کی تمام پریشانیاں دور ہوسکتی ہیں ۔ حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے سے قبل قومی قیادت کو اعتماد میں لے ۔ حکمران جن پالیسیوں کو خود کشی قرار دیا کرتے تھے ، اب خود وہی پالیسیاں اختیار کر رہے ہیں اور وزیراعظم کہہ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے قیامت نہیں آگئی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ