بلدیہ حیدرآباد کے50 لاکھ روپے ہڑپنے کا انکشاف

50

حیدر آباد (نمائندہ جسارت) بلدیہ سی بی اے یونین کے رہنما کی جانب سے عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کے نام پرلی گئی 50 لاکھ روپے سے زائد کی رقم ہڑپنے کا انکشاف۔ ملازمین سے رقم سیکرٹری بلدیات کے دفترمیں رشوت دینے کے نام پر وصول کرکے محسن احمد نامی (سینٹری ورکر) خاکروب کے اکاؤنٹ میں جمع کی گئی، عارضی سیکڑوں سینیٹری ورکرز کے نام پریونین کو ماہانہ لاکھوں روپے ادائیگیاں کی گئیں، 1800 سے زائد سینٹری ورکرز ہونے کے باوجود سٹی لطیف آباد کے علاقے گندگی غلاظت کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں۔ سیکڑوں مسلمان سینیٹری ورکرز کو سیکرٹری بلدیات سمیت حکام کے احکامات کے باوجود ملازمت سے برطرف نہیں کیا گیا۔ بلدیہ اعلیٰ حیدر آباد میں سی بی اے یونین اور افسران کی ملی بھگت سے سینیٹری ورکرز کی آڑ میں لاکھوں روپے ماہانہ کی بندر بانٹ کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے، جبکہ کرپشن کی روک تھام، غیرقانونی بھرتی کیے گئے سینیٹری ورکرز کی برطرفی سے متعلق تحقیقات پر سی بی اے یونین عرصہ دراز سے ان سینیٹری ورکرز کا ہتھیار کے طور پر استعمال کرکے ہڑتال، افسران کے دفاتر اور گھروں پر کچرا ڈالنے، افسران کو ان کے دفتر میں بند کرکے تالے لگانے کے حربے استعمال کرتی ہے، کنٹریکٹ سینیٹری ورکرز نے بتایا کہ سیکرٹری اکرم راجپوت نے 500 سے زائد ملازمین سے مستقل کرانے کے نام پرفی ملازم 10 ہزار 500 روپے کی رقم وصول کی تھی اور یقین دہانی کرائی تھی کہ مذکورہ رقم رشوت کی مد میں سیکرٹری بلدیات سندھ کے دفتر کو دینی ہے، جس کے بعد تمام عارضی ملازمین کو مستقل کردیا جائے گا، جبکہ مذکورہ رقم مقبول احمد کے بیٹے محسن احمد کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی تھی، کنٹریکٹ سینیٹری ورکرز نے بتایا کہ مذکورہ رقم کی واپسی کے لیے کئی بار احتجاج اور اعلیٰ افسران کو درخواستیں دی گئیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی جبکہ ہرماہ کنٹریکٹ ملازمین سمیت بلدیہ کے تمام افسران اور ملازمین کی تنخواہوں سے اکاؤنٹ برانچ کی جانب سے ان کی تنخواہوں سے یونین فنڈ کی مد میں 100روپے کاٹے جاتے ہیں، جبکہ بعض ملازمین نے اس کٹوتی کیخلاف تحریری درخواستیں دینے کے باوجود یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور آج تک سی بی اے یونین کی جانب سے اس رقم کے استعمال کے بارے میں ملازمین کو نہیں بتایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیکڑوں کنٹریکٹ سینیٹری ورکرز کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی سی بی اے یونین کو غیرقانونی طور پر کی جاتی رہی ہے۔ دوسری طرف بلدیہ اعلیٰ حیدرآباد میں 1800 سے زائد سینیٹری اور کروڑوں روپے کے اخراجات کے باوجود سٹی لطیف آباد کے علاقوں میں گندگی غلاظت، کوڑا کرکٹ کے ڈھیر بنے ہوئے ہیں اور میئر، ڈپٹی میئر، ہیلتھ کمیٹی کی ملی بھگت سے ماہانہ صحت وصفائی کی مد میں لاکھوں روپے کے جعلی بل بناکر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.