کوٹری،پلاٹ کے تنازع پر جامشورو اتحاد کا پولیس کیخلاف احتجاجی دھرنا 

34

کوٹری (نمائندہ جسارت) پلاٹ کے تنازع پر جامشورو اتحاد کا پولیس کیخلاف وائس چیئرمین ضلعی کونسل جامشورو کی قیادت میں احتجاجی دھرنا، کوٹری تھانہ کا گھیراؤ، مظاہرین کی پولیس اور مقامی ایم پی اے کیخلاف سخت نعرے بازی، دو گھنٹے طویل دھرناسے گاڑیوں کی آمدورفت بند۔ کوٹری کے علاقے مریم گارڈن کے نزدیک پلاٹ کے تنازع پر جامشورو اتحاد کی جانب سے وائس چیئرمین ضلع کونسل جامشورو صادق شورو کی قیادت میں پولیس کیخلاف احتجاجی ریلی نکالتے ہوئے کوٹری تھانہ کا گھیراؤ کیا اور مظاہرین نے دھرنا دیکر مرکزی شاہراہ لیاقت کوٹریفک کے لیے بند کردیاجبکہ مشتعل مظاہرین نے خاتون پولیس افسر سوہائی عزیز اور مقامی ایم پی اے کیخلاف سخت نعرے بازی کی۔ اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جامشورو اتحاد کے رہنماؤں سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے ممتاز گورڑ، حسین بخش خاصخیلی، سابق تعلقہ ناظم عبدالرحمن میمن نے کہا کہ مقامی ایم پی اے کے ساتھیوں نے اعجاز خاصخیلی کے پلاٹ پر قبضہ کرکے تعمیراتی کام شروع کردیا ہے، جس کی شکایت مقامی تھانے پر کی گئی مگر تھانہ انچارج نے یہ کہہ کر کارروائی سے منع کردیا کہ وہ کچھ نہیں کرسکتا، جس پر انہوں نے اے ایس پی کوٹری سوہائی عزیز تالپور کو شکایت لیکر پہنچے تو انہوں نے معاملہ کو کورٹ میٹر کہہ کر ٹال دیا، مجبوراً ہمیں ڈی آئی جی حیدرآباد کے پاس جانا پڑا جنہوں نے ہماری درخواست پر کوٹری پولیس کو فوراً 145کی کارروائی کرنے کو کہا مگر پولیس نے کوئی کارروائی نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس مقامی ایم پی اے کی ایما پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور ایم پی اے کے برفت برادری کے افراد پلاٹ پر قابض ہوکر بیٹھ گئے ہیں جس کی وجہ سے کوئی ناخوشگوار واقعہ بھی رونما ہوسکتا ہے جس کی ذمے داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری غیر قانونی تعمیرات کو بند کرایا جائے اور قبضہ مافیا کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ دو گھنٹے طویل دھرنا کے باعث شہریوں کو شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا تاہم کسی پولیس افسر نے مظاہرین سے بات چیت کرنا گوارا نہیں کیا۔ بعد ازاں سائٹ تھانہ انچارج نے رہنماؤں کو یقین دہانی کراتے ہوئے دھرنا ختم کرایا جس پر مظاہرین پُر امن طور پر منتشر ہوگئے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ