سرکاری زمین فروخت کرنے کاجرم ثابت ہونے پر6افراد کو سزا

40

جیکب آباد( نمائندہ جسارت) نیب سکھر کی عدالت نے سرکاری زمین فروخت کرنے کا جرم ثابت ہونے پر 3 مختاروں سمیت 6افراد کو قید کی سزائیں سنادی، ملزمان پر 71لاکھ روپے جرمانہ عائد، 3مختار کاروں سمیت محکمہ ریونیو کے 5ملازمین گرفتار، ایک ملزم فرار ۔ تفصیلات کے مطابق نیب سکھر کی عدالت نے جیکب آباد کی تحصیل ٹھل کے اے سیکشن تھانہ کے قریب واقع سرکاری زمین کے ریکارڈ میں ہیرا پھیری کرکے فروخت کرنے کے الزام میں ملوث 3مختارکاروں سمیت 6افراد پر جرم ثابت ہونے پر قید اور جرمانے کی سزائیں سنادی ہے ۔ نیب عدالت سکھر نے سرکاری زمین فروخت کرنے کے کا جرم ثابت ہونے پر ٹھل کے سابق مختار کار غلام عباس سدھایو اور ممتاز حسین چنا کو 7،7سال قید اور 5،5لاکھ جرمانہ، مختار کار عبدالحمید کٹو کو 4سال قید اور 3لاکھ جرمانہ، تپیدار غلام یاسین مہر کو 4سال قید اور 3لاکھ جرمانہ، تپیدار غلام اصغر سرکی کو 10سال قید اور 5لاکھ جرمانہ اور سرکاری زمین خرید کرنے والے مقامی وڈیرے سلیم کھوسو کو 10سال قید اور 50لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ۔ عدالت کے فیصلے کے بعد محکمہ ریونیو کے 5ملازمین کو ہتھکڑیاں لگا کر سینٹرل جیل سکھر منتقل کردیا گیا ہے جبکہ ایک ملزم سلیم کھوسو فرار ہوگیا ہے۔واضح رہے کہ 2015ء میں جیکب آباد کی تحصیل ٹھل کے اے سیکشن تھانہ کے قریب واقع سرکاری اراضی کے ریکارڈ میں جعلسازی کرکے سلیم کھوسو کو فروخت کردی گئی تھی جس کا مقدمہ نیب میں داخل کیا گیا تھا۔نیب کی جانب سے جعلسازی اور کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے بعدجیکب آباد کے افسران میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ جیکب آباد کے محکمہ ریونیو میں جعلی بھرتیوں سمیت ترقیاتی منصوبوں میں ہونے والی کرپشن کے متعلق نیب میں مقدمات کئی سالوں سے زیر سماعت ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ