ملک میں مسلمانوں سے بدسلوکی نہیں ،تربیت کی جارہی ہے، چین

144

جینیوا(آن لائن) چینی حکام کا کہنا ہے کہ چینی صوبے سنکیانگ میں مسلمانوں کے ساتھ بدسلوکی نہیں کی جارہی بلکہ مذہبی انتہاپسندی کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے یورپ کے برعکس کچھ لوگوں کو تربیت فراہم کی جارہی ہے، جو اس مسئلے سے نمٹنے میں ناکام ہوگیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے مغربی صوبے میں یوغروں اور دیگر مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی اطلاعات سے عالمی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔امریکی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں مبینہ طور پر ملوث چینی کمپنیوں اور عہدیداروں پر پابندیاں عاید کرنے پر غور کیا جارہا تھا۔ مذکورہ معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے چینی اسٹیٹ کونسل انفارمیشن کے بیورو برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹرآف پبلسٹی لی زیاؤ جن کا کہنا تھا کہ یہ بدسلوکی نہیں بلکہ چین پیشہ ورانہ تربیت کے مراکز اور تعلیمی ادارے قائم کر رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر آپ اسے بہترین طریقہ نہیں کہہ سکتے تو یہ شاید اسلامی اور مذہبی انتہا پسندی سے نمٹنے کا ضروری طریقہ ہے کیونکہ مغربی ممالک، مذہبی انتہا پسندی کو ختم کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔چینی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ اسلام، چین کی نظر میں اچھی چیز تھا لیکن اسلامی انتہا پسندی انسانیت کی سب سے بڑی دشمن ہے، یہ بہت غلط عناصر ہیں جن کا سامنا افغانستان، پاکستان، شام اور عراق سمیت بیشتر ممالک کر رہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ