فوجی اڈے برقرار رکھنے پر اصرار،طالبان امریکا مذاکرات تعطل کا شکار

126

کابل،واشنگٹن (صباح نیوز)امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات افغانستان میں 2امریکی فوجی اڈے برقرار رکھنے کے اصرار پر تعطل کا شکار ہو گئے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس بات کا انکشاف سابق طالبان اہلکار وحید مزدہ نے کیا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ امریکا چاہتا ہے کہ طالبان بگرام اور شورابک میں 2امریکی اڈوں کی موجودگی برقرار رکھنے کو تسلیم کرلیں۔ طالبان یہ شرط تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں اعلیٰ سطحی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا ہے کہ افغانستان میں فوجی اڈوں کی موجودگی امریکاکے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ پینٹاگون کے سابق مشیر کرسٹوفر کولینڈا کا کہنا ہے کہ طالبان چاہتے ہیں کہ قابض امریکی فوجی افغانستان سے نکل جائیں۔کرسٹوفر کولینڈانے کہا کہ طالبان نے افغان فوجیوں کی تربیت کے لیے کچھ غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کوامن سمجھوتے کے بعد نئی حکومت میں طالبان کے شامل ہونے کی شرط پر رضامندی کا اظہار کیاہے۔ان کے مطابق جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے جولائی میں دوحہ میں ہی طالبان سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات طالبان کی طرف سے افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت کے بجائے امریکا سے براہ راست بات چیت کی خواہش پر ہوئی۔ برطانوی میڈیاکے مطابق طالبان نے اپنے قیدیوں کی رہائی کی شرط کے ساتھ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کے لیے 3 یا 4ر رکنی وفد تشکیل دینے پر کام شروع کر دیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ