فوج کی قربانیاں قابل قدر ہیں؛ ہمارے تعاون کے بغیر امن نہیں ہوگا‘ فضل الرحمن

165
بنوں: مولانا فضل الرحمن درانی ہاؤس میں ضلعی علما کنونشن سے خطاب کررہے ہیں
بنوں: مولانا فضل الرحمن درانی ہاؤس میں ضلعی علما کنونشن سے خطاب کررہے ہیں

بنوں (آن لائن ) جمعیت علما اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ فوج کی قربانیاں قابل قدر ہیں لیکن ہمارے تعاون کے بغیر ملک میں امن نہیں ہوگا‘ فاٹا اصلاحات کے مخالفنہیں‘ قبائلیوں کی رائے بھی معلوم کی جائے‘ تحریک انصاف سے دشمنی نہیں بلکہ تہذہبی جنگ ہے‘ پختونخوا حکومت تنخواہوں کا لالچ دیکر علما کو نہیں خریدسکتی‘ ختم نبوت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میوہ خیل ہاؤس بنوں میں علما کانفرنس سے خطاب کرتے
ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر اکرم خان درانی، اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین رکن صوبائی اسمبلی اعظم خان درانی، ضلع ناظم عرفان درانی سمیت بنوں کے جید علما کرام موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اگر ملک کی سیاست میں جے یو آئی نہ ہوتی تو آج ملک میں حرام پر پابندی نہ ہو تی‘ ہم نے ملک میں حرام غذا پر پابندی کے لیے کردار ادا کیا ہے‘ اسلحہ کلچر کا خاتمہ کر نا ہوگا‘ بعض لوگوں نے ووٹ کے بجائے اسلحہ کو اسمبلیوں تک پہنچنے کا ذریعہ بنا یا ہے‘ ہم دینی مدارس، اسلام اور مساجد کو محفوظ بنارہے ہیں جو مسلم دشمن قوتوں کو قبول نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں مگریہ جماعت بیرونی ایجنڈا پر عمل پیرا ہے جس نے ہماری تہذیب پر حملہ کیا ہے‘ اس لیے ان کے ساتھ تہذیبی جنگ ہے اور یہ جاری رہے گی‘ پی ٹی آئی نے حکومت حاصل نہیں کی بلکہ اُنہیں حکومت حوالے کی گئی ہے تاکہ خیبر پختونخوا کے مہذب پشتونوں کے دلوں میں اسلام کے جذبے کو کمزورکیا جاسکے۔ اُنہوں نے کہا کہ الیکشن کے حلف نامے میں رد بدل اجتماعی غلطی ہے ‘ ہم نے دوبارہ الیکشن بل کو اسی حالت میں بحال کیا ہے اور اب اس پر ہنگامے کی کوئی ضرورت نہیں‘ ختم نبوت پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔