ملائیشیا میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ڈسپلے سینٹر قائم کیاجائے گا، پاکستانی ہائی کمشنر

282
صدر FPCCIزبیر طفیل، سابق چیف ایگز یکٹوTDAP، ایم منیر ملا ئیشیا میں نامز د پاکستانی ہا ئی کمشنر محمد نفیس زکریا کو شیلڈ پیش کر رہے ہیں
صدر FPCCIزبیر طفیل، سابق چیف ایگز یکٹوTDAP، ایم منیر ملا ئیشیا میں نامز د پاکستانی ہا ئی کمشنر محمد نفیس زکریا کو شیلڈ پیش کر رہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ملائیشیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد نفیس زکریا نے کہا ہے کہ تاجروصنعتکار برادری کے تعاون سے پاکستان ہائی کمیشن ملائیشیا میں’’ اسٹیٹ آف دی آرٹ ڈسپلے سینٹر‘‘ قائم کیاجائے گا۔اگلے سال اپریل میں ایک سنگل کنٹری نمائش بھی منعقد کی جائے گی جو کراچی چیمبر آف کامرس کی اپریل میں ہونے والی سالانہ ’’ مائی کراچی‘‘ کی تاریخوں کے علاوہ ہوگی۔ یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورے کے موقع پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہی۔پاکستانی ہائی کمشنر نے کراچی چیمبر کو ملائیشیا میں ہونے والی نمائش میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے مختلف شعبوں کی نشاندہی کرنے اور شرکت یقینی بنانے میں تعاون کی بھی درخواست کی ۔ اجلاس کے موقع پر کے سی سی آئی کے صدر مفسر عطا ملک،سینئر نائب صدر عبدالباسط عبدالرزاق، نائب صدر ریحان حنیف،سابق صدر کے سی سی آئی مجید عزیز اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔پاکستانی ہائی کمشنر یقین دہانی کروائی کہ وہ اپنے تین سال کی مدت کے دوران پاکستان کا امیج بہتر بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور وطن عزیز کے حقیقی رنگ اور اصل مواقعوں کو اجاگر کریں گے۔
لیکن وہ ان مقاصد کو تاجربرادری کی حمایت اور تعاون کے بغیر حاصل نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ ایسے ملائیشین تاجروصنعتکاروں کو تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے جو پاکستان کے ساتھ تجارت بڑھانے کے خواہش مند ہیں۔ وہ نہ صرف تجارت کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز رکھیں گے بلکہ سیاسی تعلقات کو فروغ دینے پر بھی توجہ دیں گے جو تجارت کے حوالے سے سہولتوں کی فراہمی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔نفیس زکریا نے کہاکہ صنعتکاری میں کمی اور مقامی پیداوار کے محدود ہو جانے کی وجہ سے پاکستانی برآمدات سکڑ رہی ہیں۔ برآمدات کے لیے کوئی سرپلس نہیں جبکہ پاکستانی مینوفیکچررز کی جانب سے ویلیو ایڈیشن کو بھی نظر انداز کیاجارہاہے نیز بڑی مقدار میں خام مال برآمد کیاجارہاہے جو ملکی مصنوعات کی برآمدات میں نمایاں کمی کی بنیادی وجہ ہے۔انہوں نے کراچی کی تاجروصنعتکار برادری کو مشورہ دیا کہ وہ اعلیٰ معیاری اشیاء کی برآمدات پر توجہ دیں کیونکہ یہ مصنوعات پاکستان کی نمائندگی کرتی ہیں لہٰذا برآمدی مصنوعات کو بے عیب ہونا چاہیے۔پاکستانی برآمدکنندگان عموماً روایتی اشیاء کی برآمدات کو ترجیح دیتے ہیں جن میں ٹیکسٹائل،سرجیکل آلات اور چاول وغیرہ شامل ہیں جبکہ دیگر اہم اشیا بشمول فشریز، ڈیری مصنوعات اور باسمتی چاول و دیگر اشیا پر توجہ نہیں دی جارہی جو کہ ملائیشیا سمیت دنیا بھر کی مختلف مارکیٹوں میں متعارف کرائی جانی چاہیے۔انہوں نے کے سی سی آئی کو تجویز دی کہ وہ اس ضمن میں تفصیلی اسٹڈی کرے جس میں ایسی پاکستانی مصنوعات اور خدمات کی نشاندہی کی جائے جو ملائیشیا کی مارکیٹ میں برآمد کی جاسکیں۔اگرچہ یہ 30ملین آبادی کی چھوٹی مارکیٹ ہے لیکن ملائیشیا کے آس پاس واقع دیگر ممالک ویتنام،تھائی لینڈ اور برونائی سمیت دوسری اہم مارکیٹوں کومدنظر رکھتے ہوئے اس اسٹڈی کو مرتب کیا جائے تاکہ تاجر ان مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرسکیں۔ اسی طرح ملائیشین تاجربرادری کے لیے نہ صرف پاکستان بلکہ پڑوسی ممالک میں بھی بے پناہ مواقع دستیاب ہیں جن تک پاکستان کے ذریعے رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ مفسر عطا ملک نے اس موقع پر کراچی چیمبر کی 20، 21اور 22اپریل2018ء کو منعقد ہونے والی 15ویں ’’ مائی کراچی‘‘ نمائش کو ملائیشین تاجروں کے درمیان فروغ دینے کے سلسلے میں پاکستانی ہائی کمشنر سے تعاون طلب کیا جو 10لاکھ افراد کے سامنے ملائیشن تاجربرادری کے لیے اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے ایک بہترین موقع فراہم کرے گی۔