چلتی پھرتی جلی کٹی تحریریں

جس ملک میں ہاتھ دیکھنے والا اور سڑک پر طوطے سے فال نکالنے والاپروفیسر اور عامل کا بورڈ لگائے بیٹھا ہو اور جس قوم میں پانی کے ٹیکے لگانے والا اپنی کلینک کے ماتھے پر اسپیشلسٹ کا اشتہاری بورڈ لگائے ہوئے ہو، بھلا اْس قوم کے ڈرائیور اپنی اپنی گاڑیوں کے پیچھے دلچسپ و عجیب معنی خیز المیہ و طربیہ عبارتیں لکھ کر اپنا کتھارسس کیوں نہ کریں گے؟
ان کی چلتی پھرتی تحریریں پورے ملک کی سیر کراتی ہیں اور لوگوں کا دل بہلاتی ہیں۔ یہ تحریں ہم نے درختوں اور دیواروں پر بھی دیکھی ہیں جو لوگوں کا ضمیر جھنجوڑنے کے لئے لکھی گئی ہوتی ہیں لیکن ہم اتنے مردہ ضمیر ہیں کہ اْن پر غور کرنے کے بجائے ہنس دیتے ہیں اور بے ترتیب جملے لکھنے والوں کو کوستے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے حکومت نے دیواروں پر وال چاکنگ سے روک رکھا ہے کہ دل جلوں کی یہ تحریریں کہیں عوام کو بیدار نہ کردیں۔ خیر دیواروں پر لکھی تحریروں کو تو روکا جاسکتا ہے لیکن ان پیغامبر عبارتوں کو کون مٹائے گا جو ڈرائیور حضرات اپنی گاڑیوں پر لکھواتے اور قوم تک اپنا پیغام پہنچاتے ہیں۔
اْس روز ہمارا سفر تھا انڈس ہائی وے شہداد کوٹ سے حیدرآباد تک کا تھا۔ اْس سفر کا اصل مقصد گاڑیوں پر لکھی گرم نرم عبارتوں کا معائنہ کرنا تھا۔
یہ عبارتیں کن کی پسند پر لکھوائی جاتی ہیں یہ کوئی نہیں جانتا، نہ ڈرائیور نہ مالکان نہ پینٹرز، اور نہ ہی کبھی کسی ادیب نے اْن الفاظ پر غور کیا ہے۔ یہ ایک روایت کی طرح بس لکھی جارہی ہیں۔ کیا کبھی کسی کالم نگار نے ان الفاظوں پر تبصرہ کیا ہے؟ کبھی نہیں۔ اگر کیا ہوگا تو زندگی میں شاید ایک آدھ بار۔ کیا کوئی ٹاک شو ان الفاظ پر چلا؟ کبھی نہیں۔ بس اگر انہیں کسی نے پڑھا اور لکھا تو یہ عوام اور ڈرائیور ہیں۔
ملک کے 75 فیصد ڈرائیور اَن پڑھ ہیں پھر بھی اْن کی گاڑیوں کے پیچھے لکھے الفاظ دل کو چھو لیتے ہیں۔ گاڑیوں کے پیچھے لکھے الفاظ کی جنگ کا نظارہ کرنے ہم جیسے ہی قنمبر شہر پہنچے تو سب سے پہلے پولیس کی گاڑی ملی جس پر جلے ہوئے الفاظ کے ساتھ لکھا تھا
’’مجرم کی تلاش‘‘
بھلا ہو سندھ کے قانون کا جنہیں مجرم کی تلاش تو ہے ملزم کی نہیں۔ ایک اور قانون کی گاڑی ملی جس پر لمبے لمبے حروف کے ساتھ لکھا تھا
’’بادشاہ‘‘
بالکل سچ لکھا تھا۔ واقعی سندھ پولیس بادشاہ ہے کچھ آگے بڑھے تو ایک رکشہ ملا جس پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے
’’تعلیم عورت کا زیور ہے اور میرا چھوٹا بھائی اْس عورت کا دیور ہے‘‘
مزید آگئے گئے تو یہ پڑھنے کو ملا
’’جسم پر گندگی بے شک ہو مگر دل پر گندگی کبھی نہ ہونے دینا‘‘
اِس تحریر کو لکھوانے والا ڈرائیور غالباً کئی دنوں سے نہایا نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ گاڑی کے پیچھے یہ الفاظ لکھوا رکھے تھے یا ممکن ہے کہ وہ گاڑی والا گندا رہنے والوں پر طنز کررہا تھا۔ جس قوم کے فراڈئیے، بہروپئیے عالم دین کا ٹائٹل سجائے ہوئے ہوں وہاں ڈرائیور کے الفاظ دل ہی دل میں اترتے ہیں۔
’’جس کی لاٹھی اس کا بھینس‘‘
بھلا ہو اْس پینٹر کا جس نے اپنے قلم سے بھینس بنا کر اْس کے آگے لاٹھی رکھ دی تھی۔ کتنی محنت کی گئی تھی اِس خیال کو حقیقت میں دکھانے کے لیے۔ واہ کیا بات ہے سندھ کے پینٹرز کی۔ سلام ہے اس ایک چھوٹے سندھی الفاظ کی جو سندھی میں لکھے مل گئے۔
’’دنیا چند تی پھئی اسان ہن خوشامد م مصروف آھن‘‘
ترجمہ ’’دنیا چاند پہ پہنچ گئی اور ہم لوگ خوشامد میں لگے ہوئے ہیں‘‘
ابھی ہمارا سفر جاری تھا کہ ایک اور جملہ سفر میں نظر آیا جسے پڑھنے کے بعد میں دنگ رہ گیا
’’بہت سے گدھے کہتے ہیں کہ وہ بندر کی اولاد ہیں لیکن ہم ڈرائیور کی اولاد ہے‘‘
اب آپ اندازہ لگائیے کہ کیسے کیسے جملے اِن گاڑیوں کے پیچھے لکھے جاتے ہیں۔ ہم سوچ میں پڑ گئے جہاں لوگوں کی سوچ ختم ہوتی ہیں وہاں اِن ڈرائیور کی سوچ شروع ہوتی ہے۔
ابھی سے پاؤں کے چھالے نہ دیکھو
ابھی یارو سفر کی ابتداء ہے
جس قوم کے منصف انصاف کے ترازو میں دولت کے وزن کے مطابق انصاف کرتے ہوں وہاں اِن ڈرائیور بے چاروں کے الفاظ بھی عجیب ہوتے ہیں۔ اگلے الفاظ کچھ اس طرح کے نظر آئے۔
’’یہ جو بڑے لوگ ہوتے ہیں پیدائش کے وقت یہ بھی چھوٹے چھوٹے ہی ہوتے ہیں‘‘
شاید کسی بچے کی فرمائش پر یہ الفاظ لکھے گئے تھے۔ کچھ آگے نکلے تو ایک پرانا رکشہ ملا جس کے پیچھے نئی نئی پینٹنگ کی ہوئی تھی۔
’’چائے والے کے بعد اب رکشہ والا، چلو جی سوار ہوجاؤ‘‘
شاید اسلام آباد کے چائے والے کی خوشبو سندھ میں ابھی آئی ہو اس لئے یہ الفاظ لکھوائے گئے ہوں۔ ابھی ہم سندھ کے ایک اور شہر نصیرآباد میں داخل ہوئے تو یہ الفاظ نظروں سے گزرے،
’’میں کس کے ہاتھ پہ تلاش کروں اپنا لہو..‘‘
ایک چنگ چی ابھی ابھی نئی نئی مارکیٹ میں آئی تھی جس پر لمبے دو حروف لکھے تھے۔
’’گبر از بیک‘‘
اِس دوران دو مزید گاڑیوں پر نظر پڑی جن پر لکھا تھا،
’’سبھی قصوروار ہیں‘‘
اور دوسری پر
’’منزل تو خوش نصیبوں میں تقسیم ہوگئی‘‘
ہمارا یہ سفر اب بھی جاری ہے، دیکھیے آگے ہمیں اور کیا کچھ نظر آتا ہے۔

حصہ
mm
ببرک کارمل جمالی کاتعلق بلوچستان کے گرین بیلٹ جعفرآباد سے ہے ۔ان کے ماں باپ کسان ہیں مگر اس کے باوجود انہوں نے انہیں ایم اے تک تعلیم جیسے زیور سے آراستہ کیا۔ ببرک نے ابتدائی تعلیم اپنے گائوں سے حاصل کیا اور اعلی تعلیم کیلئے پھر کوئٹہ کا رخ کیا ان کی پہلی تحریر بچوں کے رسالے ماہنامہ ذہین میں شائع ہوئی اس کے بعد تحاریر کا نہ رکنے والا سلسہ جاری وساری رہا اب تک دو ہزار کے لگ بھگ تحاریر مختلف رسالوں اور اخبارات میں چھپ چکی ہیں۔یہ پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں جبکہ ان کی تحاریر ان اخبارات اور رسالوں میں چھپ چکی ہیں اور چھپ رہی ہیں جن میں (روزنامہ پاکستان) بلاگ رائیٹر (روزنامہ ایکسپریس) بلاگ (حال احوال) کوئٹہ بلاگ رائیٹر جبکہ ان کی فیچر رپورٹس ( ڈیلی آزادی)کوئٹہ (ڈیلی مشرق )کوئٹہ ماہنامہ جہاں نما کوئٹہ میں آج تک چھپ رہی ہیں۔ان کی کہانیاں (ماہنامہ پھول) لاہور (ماہنامہ ذہین) لاہور (ماہنامہ اردو ڈائیجسٹ)لاہور ( ماہنامہ پیغام) لاہور (ماہنامہ روشنی)پنڈی (ماہنامہ افکار جدید) لاہور میں چھپ چکی ہیں ۔ان کاا یک مستقل سلسلہ بلوچستان کے حوالے ماہنامہ اطراف انٹرنیشنل کراچی میں بھی چل رہا ہے اس کے ساتھ یہ بچوں کے لیے بھی بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ ماہانہ (پارس) کے مدیر بھی ہیں۔ کئی ادبی ایوارڑ بھی مل چکے ہیں اور ٹی وی، پہ کچھ پروگرام بھی کر چکے ہیں۔ جبکہ اکسفورڈ پریس کی کتاب میں بھی ان کی تحریر شائع ہو چکی ہے۔ببرک پاکستان رائیٹر سوسائیٹی بلوچستان کے نائب صدر بھی ہیں۔

جواب چھوڑ دیں