کراچی میں زیر تعمیر عمارت سے گر کر6 مزدور جاں بحق،ایک زخمی

117
کراچی: بوٹ بیسن میں زیر تعمیر عمارت کی ٹوٹی ہوئی لفٹ لٹک رہا ہی ہے،چھوٹی تصویر میں جاں بحق افراد کی لاشیں اسپتال میں رکھی ہیں
کراچی: بوٹ بیسن میں زیر تعمیر عمارت کی ٹوٹی ہوئی لفٹ لٹک رہا ہی ہے،چھوٹی تصویر میں جاں بحق افراد کی لاشیں اسپتال میں رکھی ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کلفٹن میں زیر تعمیر کثیر المنزلہ عمارت سے گرکر 6 مزدور جاں بحق ہو گئے‘ دیسی طریقے سے بنائی گئی لفٹ پرکھڑے ہوکر مزدور عمارت پر شیشے لگا رہے تھے کہ لفٹ کا رسہ ٹوٹ گیا‘ واقعے کے بعد بلڈراور اس کا عملہ موقع سے فرار ہو گیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کرلی۔ تفصیلات کے مطابق ہفتے کوکلفٹن میں بوٹ بیسن کے قریب ایک المناک حادثے میں ایک زیر تعمیر عمارت پر شیشے لگانے کا کام کرنے والے6 مزدور کام کے دوران بلندی سے گرنے کے باعث جاں بحق ہو گئے ، جن کی شناخت 30 سالہ عبدالرحمن، 21 سالہ محمد اسد، 32 سالہ فیصل اسلام، 29 سالہ ریاض خان اور 30 سالہ ناصر کے ناموں سے ہوئی۔ عینی شاہدین کے مطابق 11 منزلہ زیر تعمیر عمارت پر کام کرنے والے مزدور شیشے لگاتے ہوئے اس وقت گرے‘ جب دیسی طریقے سے بنائی گئی ایک لفٹ کا رسہ ٹوٹ گیا‘ گرنے والے مزدورں میں سے 3موقع پر ہی جاں بحق جب کہ 3 اسپتال پہنچ کر جاں بحق ہوئے۔ عمارت امین بلڈرز کی ملکیت بتائی جاتی ہے جب کہ عمارت کی تعمیر، انجینئرنگ سمیت انتظامی امور کی ذمہ داری ٹائمز گروپ کے پاس تھی‘ مزدور ں کی ہلاکتوں کے بعد بلڈر اور تعمیراتی کمپنی کا عملہ موقع سے فرار ہو گیا۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن (جنوبی) طارق دھاریجو کا کہنا تھا کہ واقعہ افسوسناک ہے‘ قتل بے سبب ہے‘ ریاست کی جانب سے مقدمے کا اندراج کیا جائے گا‘ موقع پر کوئی بھی موجود نہیں‘ سب لوگ موقع سے فرار ہوچکے ہیں‘ کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی جبکہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں‘مزدوروں کی حفاظت کے لیے کچھ تھا یا نہیں، اس حوالے سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کلفٹن میں بوٹ بیسن کے قریب گرنے والی بلڈنگ کی لفٹ کی جگہ کادورہ کیا اور صورت حال کا جائزہ لیا۔ سعید غنی کو چیف فائر آفیسر تحسین نے تمام تفصیلات سے آگاہ کیا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کرائی جائے گی‘ تحقیقات کے لیے ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کو احکامات دے دیے ہیں۔سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ جو بھی ذمہ دار ہوا اس کو قرار واقعی سزا دی جائے گی ۔ کمشنر کراچی افتخار علی شلوانی نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں‘ بلڈرز سے پوچھ گچھ بھی کی جائے گی جبکہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے حکام کے علاوہ دیگر متعلقہ اداروں کو بھی طلب کیا گیا۔ ڈی سی نے زیر تعمیر عمارت کو سیل کردیا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی۔ ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق وزیراعلیٰ نے مزدوروں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور حکام سے استفسار کیا کہ عمارت کی تعمیر کی کوالٹی کی کون نگرانی کر رہا تھا؟ یاد رہے کہ پاکستان میں گزشتہ کچھ سالوں میں آتش زدگی اور دیگر واقعات میں مزدروں کی ہلاکت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں فیکٹریوں اور دیگر تجارتی مراکز میں کام کرنے والے مزدوروں کی حفاظت کے انتظامات ناکافی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہیں۔