مجالس شوریٰ واجتماعات (۱۹۴۲ء تا ۱۹۴۵ء) (باب چہارم)

64

محمود عالم صدیقی

مجلس شوریٰ کا اجلاس۔ شوال ۱۳۶۱ھ (اکتوبر ۱۹۴۲ء) دہلی
جماعت کی مجلس شوریٰ کا یہ دوسرا اجتماع تھا۔ اس کی غرض و غایت دراصل ابتدائی مرحلے میں رونما ہونے والے چند ایسے اختلافات کا حل تلاش کرنا تھا‘ جن سے اقامت دین کی منظم کوشش کو دھچکا لگنے کا خطرہ لاحق ہوگیا تھا۔ اس اجلاس میں مولانا ابوالحسن علی صاحب (لکھنؤ)‘ محمد یوسف صدیقی صاحب (بھوپال)‘ مولانا صبغۃ اللہ صاحب (عمر آباد)‘ مولانا حکیم عبداللہ صاحب اوڑی‘ (حصار)‘ سید عبدالعزیز صاحب شرقی (جالندھر)‘ ملک نصراللہ خان عزیز‘ (لاہور)‘ قاضی حمید اللہ (سیالکوٹ)‘ عبدالجبار غازی (دہلی)‘ محمد علوی (کارکووی)‘ مولانا محمد منظور نعمانی (بریلی)‘ مولانا سید محمد جعفر (کپورتھلہ)‘ قمر الدین خان اور عطاء اللہ خان (پتوا کھالی بنگال) شریک تھے۔
اعتراضات اور ان کا پس منظر
مولانا محمد منظور نعمانیؒ اپنے علم و فضل کی بنا پر دینی حلقوں میں مقام رکھتے تھے اور بریلی سے ماہنامہ ’’الفرقان‘‘ نکالتے تھے جس میں وہ بڑے زور شور سے جماعت اسلامی کی دعوت پیش کرتے رہتے تھے اور ان لوگوں میں سے تھے جو سید مودودیؒ کی تحریریں پڑھ کر ان سے متاثر ہوئے تھے وہ ان کے سر گرم حامی تھے۔ تحریک دار الاسلام کا دستور بنانے میں بھی انہوں نے حصہ لیا تھا۔ جماعت کی امارت کے لیے سید مودودی کا نام انہوں نے ہی پیش کیا تھا۔ سید مودودیؒ کی اہلیت کی گواہی انہوں نے یہ کہہ کر دی تھی کہ دستور کے لحاظ سے امیر میں جو اوصاف ہونے چاہئیں خدا کے فضل سے وہ سب ان میں موجود ہیں۔
مولانا منظور نعمانیؒ کے بدلتے ہوئے رویے
طے شدہ قرار داد کے مطابق مولانا منظور نعمانیؒ مرکز تشریف لائے مگر صرف دو ہفتے مقیم رہے جبکہ وہ اپنے اس سفر کو سفر ہجرت قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ وہ اپنا اثاث البیت فروخت کرکے اور مکان خالی کرکے آئے ہیں۔ جبکہ مولانا جلیل احسنؒ ندوی انکشاف کرتے ہیں کہ وہ صرف دو ہفتے کے لیے تشریف لائے تھے لیکن ہر جگہ یہ بات مشہور کردی تھی کہ وہ ہجرت کرکے جارہے ہیں اور ’’الفرقان‘‘ وہاں ہی سے شائع ہوگا۔ وہیں سے وہ دعوت اسلامی کا کام کریں گے۔ مولانا منظور نعمانیؒ نے اپنے ملنے جلنے والوں میں مشہور یہی کیا تھا کہ وہ ہمیشہ کے لیے ہجرت کر رہے ہیں جبکہ صحیح صورت حال یہ تھی اور جو وہ مرکز کو بھی تحریر کرچکے تھے کہ وہ صرف دو ہفتوں کے لیے آرہے ہیں۔ مولانا منظور نعمانیؒ اپنے ہمراہ صرف ایک اٹیچی کیس لے کر گئے تھے اس سے پتا چلتا ہے کہ وہ گئے ہی واپس آنے کے لیے تھے۔ انہوں نے اپنے قیام کے ان دوہفتوں کے دوران میں مرکز کے احوال کو اپنے دوستوں کی زبان سے سن کر محسوس کیا اور امیر جماعت کے خلاف کئی روز تک ایک طویل چار ج شیٹ (الزامات کی فہرست) تیار کرکے ان کے حوالے کردی۔
دیکھا جو تیر کھا کے …..
مولانا جلیل احسنؒ ندوی اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ جب مولانا منظور نعمانیؒ دار الاسلام پہنچے تو وہاں پہلے ہی سے ایک فتنہ باز صاحب موجود تھے جو بڑی چرب زبان اور لچھے دار گفتگو کے ماہر تھے جو بعض ناگفتنی وجوہ سے مودودیؒ صاحب کے شدید مخالف ہوگئے تھے۔ یہ صاحب قمر الدین خاں تھے جماعت کے شعبہ تنظیم کے ناظم۔ سید مودودیؒ کے ایک خط سے پتا چلتا ہے جو انہوں نے مسعود عالمؒ ندوی کے نام لکھا تھا۔ وہ اس خط میں رقم طراز ہیں۔
’’۔۔۔ پھر قمر الدین خاں نے جو دوتین سال سے میرے دست بازو بنے ہوئے تھے میرے خلاف بدگمانیوں کی اشاعت شروع کی۔ میں نے انتہائی نرمی‘ محبت اور احسان کے طریقے سے ان کو راہ راست پر لانے کی کوشش کی لیکن میری ہر تدبیر کا الٹا اثر ہوا۔ لاہور سے اٹھ کر اسی بستی (دار الاسلام) میں آگیا تو ان کے پروپیگنڈے کی نوعیت اور بھی شدید ہوگئی۔ میں نے مولانا محمد منظور نعمانیؒ اور سید محمد جعفرؒ کو یہاں بلایا کہ سینئر ارکان کی موجودگی سے اس قسم کے فتنوں کو زیادہ اچھی طرح دبایا جاسکتا لیکن شومئی قسمت کہ یہ دونوں حضرات بھی اس سمیّت سے مسموم ہوگئے اور ایک طویل چارج شیٹ مرتب کرکے ان دونوں نے میرے سامنے پیش کی‘‘۔
خواجہ اقبال احمد ندوی نے بڑی شائستگی مگر قدرے تفصیل سے اپنے سلسلہ مضامین میں ’’میں بھی حاضر تھا وہاں‘‘ میں ان پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ خواجہ محمد اقبال احمد ندوی جو لاہور اور دارالاسلام دونوں جگہ قمر الدین خاں کے ساتھ ایک ہی مکان میں رہتے اور ایک ساتھ کھاتے پیتے رہے ہیں اور ان کے مسائل و نفس و معاش کے قریبی شاہد تھے لکھتے ہیں کہ اُن کا مسئلہ معاشی تھا۔ ان کے نزدیک مولانا کی آمدنی اور ان کے مشاہرے کا تفاوت رفتہ رفتہ ان کے لیے ایک ناقابل برداشت خلش بن گئی تو انہوں نے مولانا سے مطالبہ کیا کہ اپنی دوسری کتابوں کی طرح وہ رسالہ دینیات اور ترجمان القرآن بھی جماعت کو دے دیں اور جماعت سے مشاہرہ لے کر کام کریں ظاہر ہے کہ یہ مطالبہ کسی طرح بھی جائز نہ تھا چنانچہ مولانا نے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کیا تو انہوں نے طیش میں آکر بد دلی اور بد گمانی پھیلانی شروع کردی۔ دارالاسلام میں مقیم اور وہاں آنے جانے والے ارکان اور دوسروں کے کانوں میں بدگمانیوں کا زہر ٹپکاتے رہے۔ اب انہوں نے مولانا نعمانی کو گھیر لیا تھا۔ قمرالدین خاں نے مستری محمد صدیق اور مولانا جعفر شاہؒ پھلواری کو جو مولانا منظور نعمانیؒ کے دوست تھے بھی کامیابی سے بدظن کردیا اور جھوٹ اور بہتان تراشی کا زہر گھولتے رہے۔ مولانا نعمانیؒ کے کمرے میں ان سب حضرات کا جمگھٹا رہنے لگا اور مولانا مودودیؒ کے خلاف چارج شیٹ بنتی رہی۔
(جاری ہے)