شوگر ملیں 15 نومبر تک کرشنگ شروع کریں، سندھ آبادگار اتحاد

39

حیدر آباد (نمائندہ جسارت) سندھ آباد گار اتحاد کے مرکزی صدر نواب زبیر تالپور نے حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر سندھ میں 15نومبر تک شوگر ملوں میں کرشنگ سیزن شروع کرکے گنے کی قیمت 200روپے فی من مقرر نہیں کی گئی تو پھرکراچی میں احتجاجی دھرنا دیا جائے گا، جس میں سندھ بھر کے آباد گار شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ شوگر کین ایکٹ کے تحت شوگر ملیں اکتوبر کے مہینے میں چالو ہو نا چاہییں لیکن نومبر کے مہینے کا ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود بھی شوگر ملیں چالو نہیں ہوسکی ہیں اور نہ ہی حکومت نے گنے کی امدادی قیمت مقرر کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں لاکھوں ایکڑ زمین پر گنے کی فصل تیار ہے جوکہ اربوں روپے کی زرعی معیشت ہے اور حکومت کی جانب سے وقت پر شوگرملیں چالو کرکے گنے کی کرشنگ شروع نہ کرنے کے سبب آبادگاروں کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچ رہاہے اور اس کے ساتھ ہی گنے کی کٹائی نہ ہونے کی وجہ سے گندم کی بوائی بھی سخت متاثر ہو رہی ہے جس کے باعث خوراک کا بحران بھی جنم لے سکتا ہے ،انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال بھی آباد گاروں سے گنے کے معاملے میں ظلم کی انتہا کی گئی تھی عدالت کی کی جانب سے گنے کی قیمت مقرر کرنے کے باوجود ابتک شوگر مل مالکان نے آبادگاروں کو وہ قیمت ادا نہیں کی ہے اور نہ ہی گنے کی مد میں بقایا جات ادا کیے گئے ہیں، نواب زبیر تالپور نے وفاقی حکومت سے اپیل کی کہ وہ گنے کے آبادگاروں سے انصاف کرنے کے لیے اپنا کردار اد اکرے۔ انہوں نے حکومت سندھ سے بھی مطالبہ کیاکہ 15نومبر تک سندھ میں تمام شوگر ملیں چلانے اور گنے کی نئی امدادی قیمت 200فی من مقررکرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے اور 15 نومبر تک نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا تو پھر 15نومبر کے بعد سندھ آباد گار اتحاد کی اپیل پر سندھ بھر کے تمام ضلعی ہیڈ کواٹرز میں احتجاجی مظاہرے کرنے کے بعد حیدرآباد میں احتجاجی دھرنا دیا جائے گا اور اگر اس کے باوجود بھی مسئلہ حل نہیں کیا گیا تو پھر دسمبر کے پہلے ہفتے میں کراچی میں تاریخی دھرنا دیا جائے گا جو کہ مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ