سرحد پر ایف آئی اے والا کام نہیں کرنا چاہتے ،تنخواہیں فوج کے برابر ہونی چاہیءں،آئی جی ایف سی

173

اسلام آباد (آن لائن،خبر ایجنسیاں) آئی جی ایف سی میجر جنرل ندیم انجم نے کہا ہے کہ ہم سرحد پر ایف آئی اے اور کسٹمز کا کام نہیں کرنا چاہتے اور ہماری تنخواہیں فوج کے برابر ہونی چاہییں۔سینیٹر رحمان ملک کی زیرصدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا۔ آئی جی ایف سی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایف سی میں خیبرپختون خوا پولیس جیسی اصلاحات ہونی چاہییں۔ امریکا نے ہم سے 7 ہیلی کاپٹر واپس لے لیے ہیں اور اب ہمارے پاس کوئی ہیلی کاپڑ نہیں ہے۔ ہمارے مینٹیننس بجٹ میں 97 فیصد کٹوتی کر دی گئی ہے۔ چمن بارڈر پر ایف سی ایف آئی اے اور کسٹمز کا کام کرتی ہے، ہم یہ کام نہیں کرنا چاہتے، ایف سی کے جوانوں کی تنخواہیں فوج کے برابر ہونی چاہییں۔میجر جنرل ندیم انجم نے کہا کہ بلوچستان کا 90 فیصد حصہ ایف سی اور 10 فیصد سیکورٹی پولیس کے پاس ہے۔ لشکر جھنگوی کا وجود بھی بلوچستان سے ختم ہوتا جا رہاہے، جن دہشتگردوں نے سرنڈر کیا ہم نے انہیں گلے لگایا اور معاونت کی۔ ان افراد کو ہر طرح کی مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کی گئی۔ گزشتہ سال افغانستان فورسز کی جانب سے سرحد پر حملہ کیا گیا جس میں ایف سی کے 10 جوان شہید ہوئے اور جوابی کارروائی میں افغانستان فورس کے 50 اہلکار ہلاک کیے گئے۔آئی جی ایف سی نے کہا کہ داعش کا بلوچستان میں وجود نہیں ہے جب کہ لشکرجھنگوی کا وجود بھی بلوچستان سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ 2 سال کے دوران 5 ہزار 8 سو 88 آپریشن کیے گئے، 133 دہشتگرد ہلاک ہوئے اور 652 نے سرنڈر کیا، 3 لاکھ 35 ہزار 74 گولہ بارود اور اسلحہ قبضے میں لیا۔ زائرین کی سیکیورٹی میں کافی بہتری آئی ہے، پہلے ایک سال میں 15 ہزار اب ایک سال میں 1 لاکھ سے زائد زائرین جاتے ہیں۔ آئی جی ایف سی بلوچستان نے بتایا کہ صوبے میں بی آر اے، بی ایل اے، بی ایل ایف اور لشکر بلوچستان نامی جماعتیں موجود ہیں، بلوچستان میں قوم پرستی اور فرقہ واریت، دونوں ہی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اختر جان مینگل کا سگا بھائی لشکر بلوچستان کی سربراہی کر رہا ہے، جس کی شناخت جاوید مینگل کے نام سے ہوئی۔انہوں نے شکایت کی کہ بلوچستان سے متعلق میڈیا صرف بم اور بارود دکھاتا ہے کامیاب کہانیاں نہیں دکھاتا۔ان کا دعویٰ تھا کہ اب تک ہم نے 133 بڑے دہشت گرد مارے جبکہ 653 نے ہتھیار ڈالے اور 57 زخمی ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس ایسے جوان موجود ہیں، جن کا بڑا بھائی مارا گیا چھوٹا بھائی آگیا دوسرا بھائی مارا گیا تو تیسرا آگیاانہوں نے کہا کہ ہم ہزارہ کمیونٹی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں، ہزارہ برادری کی ہلاکتوں میں واضع کمی آئی ہے، ہمارے دشمنوں کا منصوبہ ہے کہ تشدد کو فروغ دے کر بلوچستان کو آزاد بنایا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ دشمن پاکستان کو لیبیا اور یمن جیسی صورتحال میں دھکیلنا چاہتے ہیں، ہم نے بلوچستان کے عوام کے ساتھ مل کر دشمن کے مقاصد کو ناکام بنایا۔میجر جنرل ندیم انجم نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان گلوبل گریٹ گیم کا میدان جنگ ہے۔اس سے قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں سابق وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بتایا کہ ہم نے بلوچستان میں ایک سیل بنایا تھا جس میں تمام خفیہ اداروں کے نمائندے شامل تھے۔ان کا کہنا تھا کہ آج سب لوگ ایک صفحے پر ہیں کہ ملک کو آگے لے کر جانا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم نے بلوچستان میں سول ملٹری عدم توازن کا خاتمہ کیا۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی داخلہ نے ایف سی بلوچستان اور آئی جی ایف سی کے لیے تعریفی قرار داد منظور کرلی۔، سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہم پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمرہ باجوہ کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں خوشی ہے کہ پاک فوج بلوچستان کے لیے بہت کچھ کر رہی ہے۔ اجلاس میں رحمان ملک نے کہا کہ فتویٰ دینے کے معاملے پر قانون سازی بہت ضروری ہے ہم معاملے کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجیں گے فیصلہ کروائیں گے کون فتویٰ دے سکتا ہے اور کون نہیں۔ رحمان ملک نے کہا آسیہ بی بی سے متعلق سپریم کورٹ فیصلے کے بعد معزز ججز اور آرمی چیف کے لیے نازیبا زبان استعمال کی گئی جو کسی صورت قابل قبول نہیں ، کمیٹی نے بلوچستان کو دیے گئے دس سالہ ترقیاتی فنڈز کا ریکارڈ طلب کرلیا۔اجلاس میں سینیٹر جاوید عباسی، سینیٹر رانا مقبول، سینیٹر کلثوم پروین، سینیٹر عتیق شیخ، سینیٹر کودا بابر، سینیٹر اسد علی جونیجو اور سینیٹر سرفراز بگٹی کی شرکت کی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ