گجرات فسادات سے متعلق بھارتی فوجی جنرل نے حیران کن انکشافات کردیے

205

بھارتی ریاست گجرات میں بدترین فسادات روکنے کی ذمے داری سنبھالنے والے بھارتی جنرل ضمیر الدین شاہ کے نئے انکشافات سامنے آگئے۔

ایک انٹرویو میں جنرل ریٹائرڈ ضمیر شاہ نے بتایا کہ احمد آباد جل رہا تھا اور ہم بے بسی سے دیکھ رہے تھے۔ 34 گھنٹوں تک فوج کو ایئرپورٹ پر گاڑیاں فراہم نہ کی گئیں، ٹرانسپورٹ کا بروقت انتظام ہوجاتا تو کم سے کم 300 زندگیاں بچائی جاسکتی تھیں۔

ریٹائرڈ جنرل کا کہنا تھا کہ فوج کو راجستھان سے بلایا گیا، پورا ایک دن ایئرپورٹ پر بٹھایا گیا، ریاستی حکومت نے بروقت ذمے داری نہیں نبھائی۔

خیال رہے کہ بھارتی ریاست گجرات میں ہندوؤں کی اکثریت ہے اور یہاں اکثر ہندو مسلم فسادات ہوتے رہتے ہیں۔ 2002 میں بھی اس ریاست میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں ایک ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی ان دنوں گجرات کے وزیراعلیٰ تھے۔

نریندر مودی اس وقت گجرات کے وزیراعلیٰ تھے جبکہ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ہندو انتہاپسندوں کو مسلمانوں پر حملوں سے روکنے کی کوشش نہیں کی اور ان سے چشم پوشی اختیار کی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ