ٹرمپ کے نامزد جج کے خلاف مظاہرے‘ سیکڑوں گرفتار

87
واشنگٹن: امریکی صدر ٹرمپ کے نامزد کردہ سپریم کورٹ کے جج کے تقرر کے خلاف دارالحکومت میں احتجاج کیا جا رہا ہے
واشنگٹن: امریکی صدر ٹرمپ کے نامزد کردہ سپریم کورٹ کے جج کے تقرر کے خلاف دارالحکومت میں احتجاج کیا جا رہا ہے

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی عدالت عظمیٰ کے جج کے لیے ٹرمپ کی جانب سے بریٹ کیواناح کی نامزدگی پر واشنگٹن میں مظاہرے شروع ہوگئے۔ پولیس نے مظاہروں کے دوران سیکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق مجموعی طور پر 302 افراد حراست میں لیے گئے، جن میں کئی مشہور شخصیات بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل حکمران جماعت ری پبلکن پارٹی نے اعلان کیا تھا کہ ایف بی آئی کی طرف سے کی گئی انکوائری میں بریٹ کیواناح کو جنسی نوعیت کے الزامات سے بری قرار دے دیا گیا ہے۔ تاہم اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی نے کہا ہے کہ ان الزامات کی صرف 5روزہ چھان بین ایک نامکمل عمل ہے۔یہ صرف وائٹ ہاؤس تک ہی محدود رکھی گئی تھی۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے نامزد کردہ جج بریٹ کیواناح کی سپریم کورٹ میں تعیناتی اس وقت امریکا بھر میں ایک تنازع کا باعث بن گئی تھی، جب ایک خاتون نے ان پر زیادتی کا الزام عائد کیا تھا۔ اب تک 2 خواتین کہہ چکی ہیں کہ ماضی میں کیواناح نے انہیں زیادتی کا نشانہ بنایا۔ مبصرین کے مطابق کیواناح سپریم کورٹ میں بطور جج اپنے تقرر کے حوالے سے امریکی سینیٹ سے اکثریتی حمایت حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ بات یقینی نہیں کیوں کہ کئی سینیٹرز تاحال فیصلہ نہیں کر سکے کہ وہ کیواناح کی حمایت کریں یا نہیں۔ متوقع طور پر آج سینیٹ اس تناظر میں اپنا حتمی فیصلہ سنا دے گی۔ امریکی سپریم کورٹ میں کسی بھی جج کی تعیناتی تاحیات ہوتی ہے۔ اگر 53سالہ کیواناح سپریم کورٹ کے جج متعین کر دیے گئے تو وہ کئی اہم معاملات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی پارٹی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکیں گے۔ امریکا کی اعلیٰ ترین عدالت کے 9 رکنی پینل میں شامل جج اسقاط حمل، گن کنٹرول اور انتخابی قوانین کے علاوہ کئی دیگر اہم اور حساس معاملات میں حتمی رائے دینے کا اختیار رکھتے ہیں۔
نامزد جج/مظاہرے

Print Friendly, PDF & Email
حصہ