شِعارِ حکمرانی

121

 

 

کسی ملک کی حکمرانی حاصل کرنے کے لیے سیاسی جماعت کو اپنا استحقاق عوام کے سامنے ثابت کرنا ہوتا ہے، دوسروں کے مقابلے میں اپنے آپ کو اہل بلکہ زیادہ اہل ثابت کرنا ہوتا ہے، اس کا اظہار وہ اپنے منشور اور دستور العمل میں کرتے ہیں۔ جنابِ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ بائیس سال کی مسلسل جدوجہد اور سیاسی ریاضت کے بعد انہوں نے منزل کو پایا ہے، اس ریاضت میں صوبہ خیبر پختون خوا کی پانچ سالہ حکومت بھی شامل ہے۔ اقتدار پر فائز ہونے والی قیادت کے سامنے ترجیحات کی فہرست ہونی چاہیے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے حکمران سہل پسند ہوتے ہیں اور نمائشی وسطحی کام کرکے کم ا ز کم وقت میں لوگوں کی داد سمیٹنا چاہتے ہیں، المیہ یہ ہے کہ تبدیلی کے نعرے پر آنے والی حکومت نے بھی یہی شِعار اختیار کیا ہے۔ اسی سبب اُن کے دعووں اور اقدامات میں تضادات نمایاں ہوئے، جن پر یوٹرن کی پھبتی کسی جاتی ہے۔ حکومت کا کام پالیسی بنانا ہوتا ہے، پرانی گاڑیاں یا زاید از ضرورت گاڑیاں بیچنا معمول کا کام ہوتا ہے جو متعلقہ ادارے انجام دیتے ہیں، اس کی تشہیر سے کوئی ہمالیہ سر نہیں ہوتا۔ جنابِ عمران خان کی خدمت میں گزارش ہے کہ چند شعبوں کے علاوہ صوبہ خیبرپختون خوا کی گزشتہ پانچ سالہ حکومت بھی عمومی طور پر مثالی نہیں رہی، اپنے ہی قائم کردہ محکمۂ احتساب کا ناکام ہونا اور پھر بند کیا جانا، پشاور میٹرو وغیرہ اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ محکمۂ تعلیم اور محکمۂ صحت میں عملے کا اضافہ اور حاضری کے نظام کی بہتری کا ہم بار بار ذکر کرکے اس کی تحسین کرچکے ہیں، لیکن بحیثیتِ مجموعی کوئی زمین وآسمان کا فرق نہیں ہے۔
نظامِ احتساب کا مؤثر ہونا اچھی بات ہے، لیکن انتقام اور احتساب میں فرق نظر آنا چاہیے، کسی ایک سیاسی جماعت کو بطورِ خاص ہدف نہیں بنانا چاہیے، غزواتِ بدر واُحد کے تناظر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اورہم اِن دنوں کو لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں، (آل عمران: 140)‘‘۔ کل کوئی اور تخت نشین تھا، آج آپ رونق افروز ہیں، آنے والے کل کون ہوگا، اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ مسلسل اور بہت زیادہ اجلاس منعقد کرنا آپ کا اپنی پارٹی میں بھی شِعار تھا اور اب حکومت میں آنے کے بعد بھی اجلاسوں کی بھرمار ہے، سارے کاموں میں ایک ٹھیراؤ، توازن اور وقار ہونا چاہیے۔ عربی ادب کی شاہکار کتاب ’’الکامل للمبرّد‘‘ میں لکھا ہے: ’’کسی مسئلے کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے رات بھر سوچ بچار کرلیا کرو اور ایسی رائے سے ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، کہ جسے اختیار کر کے بعد میں واپس لینا پڑے ‘‘۔
ہماری نظر میں قومی ترجیحات کے مسائل یہ ہیں: خارجہ پالیسی کے میدان میں امریکا کا دباؤ، امریکا اور بھارت کا گٹھ جوڑ، امریکا کے لیے بھارت کا اسٹرٹیجک پارٹنر بن جانا، امریکا کا بھارت کو جدید ترین اسلحہ ٹیکنالوجی سمیت فراہم کرنا اور پاکستان کے لیے مشرق ومغرب دونوں طرف سے مشکلات پیدا کرنا ہے۔ نہ ہم امریکا کی دوستی کو خیرباد کہنے کے لیے تیار ہیں، نہ اس کے معیار پر پورا اترپا رہے ہیں، نہ اس کے مطالبات اس کی خواہش کے مطابق ہم انجام دے سکے ہیں۔ لیکن واحد سپر پاور ہونے کی وجہ سے دوسری بڑی طاقتیں اس کے ساتھ کھلی مزاحمت کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یورپ کے ممالک بھارت کو اسلحہ فروخت کرنے کی دوڑ میں شریک ہیں اور نیو کلیر سپلائرز گروپ میں اُس کی شمولیت کے حامی ہیں۔ چین کب تک اس کا راستہ روک پائے گا، اس کا اندازہ نہیں ہے، لیکن جس طرح چین نے برِکس اور ایف اے ٹی ایف میں مغربی ممالک کا ساتھ دیا ہے، لگتا ہے ایک وقت آئے گا کہ چین کی قوتِ مزاحمت بھی دم توڑ دے گی، کیوں کہ امریکی صدر ٹرمپ چین کے خلاف مسلسل اِقدامات کر رہا ہے اور چین کی معاشی ترقی کا انحصار اس کی عالمی تجارت پر ہے۔
پاکستان کا سب سے اہم مسئلہ اقتصادی ہے، حکومتِ وقت سرِ دست ماضی کے حکمرانوں پر لعن طَعن کر کے وقت گزار رہی ہے، لیکن یہ حربہ زیادہ دیر نہیں چلے گا، حکومت کو کچھ نہ کچھ کر کے دکھانا ہوگا، آئی ایم ایف سے بچنا بھی زیادہ آسان نہیں ہے، کیوں کہ متبادلات ابھی سامنے نہیں آئے۔ چین اور سعودی عرب اگر منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری پر آمادہ بھی ہوجائیں، تو ہماری فوری ضرورت ڈالر کی صورت میں نقد امداد ہے۔ اللہ کرے کہ ہمارے دوست ممالک ہمیں امریکا پر انحصار سے نکال لیں، لیکن یہ امر پیشِ نظر رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکا کے عالمی مفادات کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکتے۔
جنابِ عمران خان دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ میں آٹھ ہزار ارب یعنی اسّی کھرب روپے جمع کر کے دکھاؤں گا، بیرونِ ملک پاکستانیوں سے وافر مقدار میں پیسا لاؤں گا۔ لیکن یہ دعویٰ کرتے وقت کوئی ہوم ورک نہیں کیا گیا تھا، اس لیے حکومت کے پیش کردہ ضمنی بجٹ میں کوئی نئی حکمتِ عملی کارفرما نہیں ہے، روایتی قسم کا بجٹ ہے، جس کی مہارت ہماری بیوروکریسی اور معاشی منصوبہ سازوں کو ہمیشہ سے حاصل ہے، دریں اثنا تفصیلی مذاکرات کے لیے آئی ایم ایف کی ٹیم اسلام آباد پہنچ چکی ہے۔ آئی ایم ایف سے اگر دس بارہ ارب ڈالر کے پیکج پر بات ہوتی ہے تو پٹرول، گیس، بجلی کی قیمتیں بڑھانی پڑیں گی، اس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کے کرائے اور دیگر اشیائے صَرف کی قیمتوں کا بڑھنا ناگزیر ہے۔ سریا اور سیمنٹ کی قیمتیں بڑھنے کے سبب تعمیری صنعت پر بھی دباؤ پڑے گا۔ ہمیں پچھلی حکومت کے لیے گئے قرضوں پر ملامت کرنے کے ساتھ ساتھ تصویر کا صحیح رُخ بھی پیش کرنا چاہیے کہ 1999 سے 2013 تک پاور جنریشن پر کوئی کام نہیں ہوا، جبکہ اُس کی طلب غیر معمولی رفتار سے بڑھتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2013کے الیکشن کا سب سے نمایاں مسئلہ لوڈ شیڈنگ تھا، پنجاب میں اٹھارہ تا بیس گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ ہورہی تھی، اس لیے پاور جنریشن کے پلانٹ لگانا ضروری تھا، اسی طرح سی پیک میں پاکستان کے حصے کی موٹروے اپنے وسائل سے بنانا تھا۔ پس تجزیہ کرتے ہوئے یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا وہ قرض لی ہوئی رقوم برسرِ زمین خرچ ہوئی ہیں یا نہیں، اُن میں اگر کرپشن کا عنصر ہے تو وہ الگ موضوع ہے، اس پر بڑی سرعت سے کام ہورہا ہے اور اس کے نتائج کا ہمیں انتظار کرنا چاہیے۔
پچھلی حکومتوں پر قرضوں اور بطورِ خاص کرپشن کے حوالے سے تنقید آپ پانچ سال سے تسلسل کے ساتھ کر رہے ہیں، سو یہ پوری قوم کو اَزبر ہے، لیکن اب محض تنقید سے گزارا نہیں ہوگا، بلکہ آپ کو ذمے داری قبول کرنی ہوگی اور مسائل کے حل کی تدبیر سوچنی ہوگی، آگے بڑھنا ہوگا، گزشتہ دنوں میں ایک ماہر کا تجزیہ سن رہا تھا: ’’دنیا میں تبدیلی کی علمبردار قیادتوں نے ماضی کے حکمرانوں پر تنقید پر گزارا نہیں کیا، بلکہ انہوں نے اپنی اقوام کو حسنِ تدبیر، بہترین منصوبہ بندی اور عملی اِقدامات سے آگے بڑھایا ہے‘‘۔ جاپان، جرمنی، چین اور روس اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ بھارت میں بھی اگرچہ نچلی سطح پر غربت اور پسماندگی کا تناسب ہم سے زیادہ ہے، لیکن اس کی معیشت کا حُجم کافی بڑا ہے، صنعت وٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تجارت میں اس کا حصہ معتد بہ ہے۔ ہمیں حقائق کا اِدراک کر کے آگے بڑھنا ہوگا، روزانہ ایک ہی جیسے بیانات کی گردان کرنے سے قومی مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اب آپ کو مزاحمت کے عادی سیاست دان کی سطح سے بلندہو کر اور مدبّرو قائد بن کر قوم کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا، کیوں کہ اگر مشکل فیصلے کرنے ہیں تو سب کو اعتماد میں لے کر کرنے چاہییں، مگر فواد چودھری صاحب جیسے وزرا کے ہوتے ہوئے آپ دوست کم بنا پائیں گے، بلکہ بعض دوستوں کو کھو بھی سکتے ہیں، جب کہ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ہم خیال، ہم نوا اور ہمدرد بنائیں یا کم از کم دشمن نہ بنائیں۔
نیب کے چیرمین جناب جسٹس (ر) جاوید اقبال سابق چیرمین جناب چودھری قمر الزمان کے ٹریک پر آگئے ہیں اور فرمایا: ’’نیب کے قیام سے لے کر اب تک ہم نے کرپشن کے دو سو ستانوے ارب روپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کیے ہیں‘‘۔ آپ صرف اپنے دور کے اعداد وشمار بتائیں، ساتھ ہی یہ بھی بتائیں کہ اس دوران کے اخراجات کتنے ہوئے تاکہ پتا چلے کہ یہ ہاتھی قوم کو کتنے میں پڑ رہا ہے۔ پلی بارگین سے کچھ رقوم آجاتی تھیں، لیکن عدالت عظمیٰ کی مستقل آبزرویشن کے نتیجے میں اس کی طرف جانا بھی مشکل ہورہا ہے، کیوں کہ عدالت عظمیٰ اسے حرام کو حلال کرنے اور جرم کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف قرار دے چکی ہے۔ سو ہمارا شِعارِ حکمرانی یہی ہے کہ اگر ماضی کا کوئی مثبت یا ثمر آور کام ہے، اُسے اپنے کھاتے میں ڈال دو اور حکومت میں آنے کے باوجود تمام تر خرابیوں کو ماضی کے حکمرانوں کے سر تھونپ کر داد وصول کرو۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے مَحاسن اور کامیابیوں کا کھاتہ کھولیں، روز بتانا نہ پڑے، بلکہ اُن کے شواہد قوم کو نظر آئیں۔
آئین وقانون کے دائرے میں اپنے منشور کو عملی شکل دینے اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے من پسند ٹیم بنانا جنابِ وزیر اعظم کا حق ہے، لیکن حسّاس امور کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے، اِقدام سے پہلے سوچنا چاہیے تاکہ لوگوں کو بات بات پر تنقید کا موقع نہ ملے۔ پاکستان مشکلات میں گھرا ہے، پوری قوم حکومت کی کامیابی کے لیے دعا گو ہے۔ بحیثیت مجموعی میڈیا آج بھی وزیر اعظم کے ساتھ ہے۔ سرِ دست حکومت کو کسی بڑی مزاحمت کا سامنا بھی نہیں ہے، پس مناسب ہے کہ مسلسل اجلاسوں کی مشق کو کم کر کے عملی اقدام کی طرف آئیں۔ ہم بحیثیت قوم انتہا پسند انہ مزاج رکھتے ہیں، ماضی کے حکمرانوں پر طَعن تھا کہ وہ مشاورت کے قائل نہیں، اپنی پارٹی اور کابینہ کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد نہیں کرتے، پارلیمنٹ میں نہیں آتے، اس کے برعکس اجلاسوں کی بھرمار کے باوجود نتائج کا انتظار ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ