روہنگیا مسلمانوں کیلیے آوازاٹھانے والے 2صحافیوں کوسزا ظلم ہے،انتخاب سوری

58

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ہیومن رائٹس نیٹ ورک کے صدر انتخاب عالم سوری نے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کیلیے حق کی آواز اٹھانے والے 2صحافیوں کو 7سال قید کی سزا ظلم اور ناانصافی ہے۔27سالہ کیاؤ سوئی اور31سالہ والواو کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے میانمار فوج اور حکومت کی جانب سے مسلمانوں پرڈھائے جانے والے بدترین مظالم کیخلاف رپورٹنگ کی اوران کے جرائم بے نقاب کرنے کی کوشش کی ،جس کی پاداش میں انہیں قید کی سزا سنادی گئی جوناانصافی اورظلم پر مبنی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایک بیان میں کیا۔انتخاب عالم سوری نے کہا کہ میانمار میں 2010ء سے قبل سے
مسلمانوں پر مظالم جاری ہیں اورآج بھی مسلم اکثریتی صوبے راکھائن میں مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ان ہی مظالم کے نتیجے میں 6لاکھ 90ہزار لوگ ملک سے نقل مکانی کر کے بنگلا دیش اور ترکی جا چکے ہیں، جہاں اب بھی لوگ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انتخاب عالم سوری نے کہا کہ صحافیوں کو حق کی آواز اٹھانے پرسزا دینا انصاف کے عالمی چارٹرکے منافی ہے۔میانمار حکومت ملک میں مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز اقدامات اور مظالم سے بازرہے ،اقوام متحد ہ کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر میانمار حکومت کے اقدام کا نوٹس لے اور حق کا ساتھ دینے والے دونوں صحافیوں کی رہائی کیلیے اس پر دباؤ ڈالے۔میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کی جانب سے صحافیوں کی سزا کا دفاع قابل مذمت ہے ،سوچی نے بین الاقوامی مذمت کے باوجود ایک خبر رساں ادارے سے وابستہ 2صحافیوں کو جیل بھیجنے کا دفاع کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی کمیٹی نے اس سزا کی مذمت کی ہے ،اور اس پر اپنا سخت ردعمل ظاہر کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آنگ سان سوچی کے طرزعمل سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف روہنگیا مسلمانوں کی بلکہ ان کے حق میں آواز اٹھانے والوں کی بھی بڑی دشمن ہے ،عالمی برادری کو اس کے طرز عمل کا نوٹس لینا چاہیے۔
انتخاب سوری

Print Friendly, PDF & Email
حصہ