جمہوریت کا حسن

142

حبیب الرحمن

مشہور قول ہے کہ بد ترین جمہوریت بھی بہترین آمریت سے بہتر ہوتی ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں اس قول کی سچائی کو نہ صرف دیکھا جا سکتا ہے بلکہ دنیائے جمہوریت میں اس کی مثال شاید ہی کسی اور ملک میں مل سکے۔ کون نہیں جانتا کہ کئی دھائیاں ایسی گزری ہیں جس میں ہر آنے والے نے اس جمہوریت کی ناک پکڑ کر نہیں رگڑی ہو لیکن ہر مرتبہ لنگڑی لولی ہی سہی، جمہوریت کی کوئی نہ کوئی مورتی بنائی گئی تو اس نے یہی ثابت کیا کہ جمہوریت کو خواہ کتنا ہی لنگڑا، لولا، اندھا کیا جائے یا گونگا بہرہ بنا کر عوام کے سامنے لایا جائے وہ بہرحال کہلائے گی جمہوریت ہی اور اس کی بد صورت شکل بھی آمریت کے جن بھوت سے بہر حال اچھی ہی ثابت ہوگی۔ پاکستان میں پہلا مارشل لا ایوب خان نے نافذ کیا۔ جب تک وہ صرف مارشل رہا اور کرسی پر بیٹھنے والے نے اپنی کینچلی نہیں بدلی اس وقت تک پاکستان کے عوام کی کراہیں تک ساؤنڈ پروف مارشل لائی دیواروں سے باہر نہ سنائی دے سکیں لیکن جونہی مارشل لا نے اپنے رنگ روپ جمہوریت میں تبدیل کرنا شروع کیے اور عوامی رائے طلب کرنے کے لیے ’’بی ڈی سسٹم‘‘ کا تجربہ کیا وہیں سے لوگوں کو ساؤنڈ پروف مارشل لائی دیواروں سے باہر نکلنے کا موقع ملا اور ایک نحیف سی جمہوریت نے سر ابھارا جس سے آمریت کے سارے درودیوار ہل کر رہ گئے اور دبے ہوئے لوگوں نے اپنے آپ کو ساری زنجیروں سے آزاد کرا لیا۔ اس ساری جکڑ بندیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ آمریت کا دھڑم تختہ تو ہوا ہی آدھا ملک بھی ہاتھ سے نکل گیا۔
ایوب خان کی رخصتی کے بعد آمروں والی شکل و صورت لیے ایک جمہوریت سامنے آئی۔ یہ بگڑی ہوئی شکل و صورت والی جمہوریت بھی عوام کو سکھ تو نہ دے سکی لیکن کہلاتی تو بہر صورت جمہوریت ہی تھی اس لیے اس کے وہ تمام اقدامات جو عوام کی فلاح و بہبود کے خلاف ہوتے تھے وہ عوام کے احتجاجوں کے آگے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوجایا کرتے تھے جس میں سب سے زیادہ سخت ترین فیصلہ قادیانیوں کو غیر مسلمان قرار دینے کا تھا۔ یہ جمہوریت کا ہی ثمرہ تھا کہ اس وقت کی بدترین جمہوریت کو عوام کے اس فیصلے پر اپنا سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اگر یہ ایوب خان کے اولین دور کی طرح کا مارشل لا ہوتا تو ایسا فیصلہ، ایسے فیصلے کے متعلق اظہار خیال کرنے والے اور قادیانیوں کو کافر قرار دینے والی ہر آواز کا گلا گھونٹ دیا جاتا جس کی سب سے بڑی مثال اس تحریک کے روح رواں جناب مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ تھے جن کو محض اسی بنیاد پر ملک کی سب سے بڑی عدالت نے سولی پر چڑھانے کا فیصلہ سنایا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ عوامی اور بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا تھا۔ جمہوریت کے مروڑ سب سے زیادہ فوجی حکمرانوں کو ہی اٹھتے رہیں ہیں۔ عجیب تماشا ہے کہ پہلے وہ جمہوریت کے ساحل پر گیلی ریت سے بنائے گھروندوں کو لات مار کر توڑتے ہیں، اپنی طاقت اور قوت کا مظاہرہ کرتے ہیں، پھر خیال آتا ہے کہ گھروندے دوبارہ بنائے جائیں لیکن اس کو اپنے ہی انداز میں سجایا یا سنوارا جائے۔ جونہی وہ ’’پکی‘‘ آمریت سے جمہوریت کا روپ دھارنے کی کوشش کرتے ہیں وہیں جمہوریت کا حسن اپنا کام کر جاتا ہے اور آمریت میں کچلے انسانوں کو ابھرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ یہی غلطی ضیا الحق نے غیر جماعت الیکشن کراکر اپنی مرضی کی جمہوریت لوگوں پر مسلط کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں وہ حسن جمہوریت کے حلقہ دام میں آگئے۔ پرویز مشرف کو موقع ملا لیکن وہ بھی جمہوریت کے فریب حسن کا شکار ہوئے اور وہی پارٹی جس کی شکل و صورت خود انہوں نے اپنے ہاتھوں سے سنواری تھی، ان کے کچھ کام نہ آسکی اور اس لنگڑی لولی جمہوریت نے بھی ان کی آمرانا اور منافقانہ پالیسیوں کو نہ چلنے دیا۔
آج بھی جمہوریت ایک بھیانک روپ میں سامنے آئی ہے۔ اور اس کی مثال کچھ ایسی ہے کہ ’’سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے‘‘۔ اس تفاوت کے باوجود بھی جو بات جمہوریت کا حسن کہلاتی ہے اس سے یہ جمہوریت بھی آزاد نہیں۔ ملک میں ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ تو کر ہی دیا گیا تھا جس سے وہ صارفین جو اپنے ایندھن کی ضرورت ایل پی جی سیلنڈرز کے ذریعے پوری کیا کرتے تھے وہ شدید مشکلات کا شکار ہوئے۔ یہ ظلم تو ہو ہی گیا تھا کہ گزشتہ دو ہفتوں سے ایل این جی اور سوئی گیسوں کی قیمتوں میں بھی 46 فی صد اضافے کا فیصلہ اور بجلی کے نرخوں میں 2 روپے کا اضافہ جیسے امکانات نے عوام کے ہوش اڑا کر رکھ دیے تھے۔ یہ اسی جمہوریت کے حسن کا کرشمہ تھا جس کی وجہ سے حکومت وقت نے عوام کی جانب سے آنے والے شدید رد عمل کی وجہ سے فی الحال اپنے فیصلوں کو مؤخر کرکے اس پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ تمام اضافہ جو کھاد کے سلسلے میں کیا گیا تھا اس پر نہ صرف غور کرنے کا کہا ہے بلکہ کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے ایک لاکھ میٹر ک ٹن یوریا کھاد درآمد کرنے اور فی بوری 960 روپے سبسڈی (زرِ تلافی) کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی کو جمہوریت کا حسن کہتے ہیں۔ نیز ایل این جی اور سوئی فیس گیس کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق فیصلے کو بھی موخر کردیا ہے۔ کمیٹی نے ایل پی جی گیس سلنڈرز کی قیمتوں میں ہوشر با اضافے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے قیمتوں کو معمول پر لانے کے لیے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی سفارش کردی بھی کی ہے۔ گزشتہ دنوں عاطف ایم میاں جن کو ماہر معاشیات کا خوش رنگ لباس پہناکر قوم کے سامنے پڑے تعریفوں کے پل باند کر لایا گیا تھا، جب اس کے متعلق قوم کو یہ خبر ہوئی کہ یہ شخص تو نہ صرف قادیانی ہے بلکہ یہ مرتد بھی ہے تو عوام کا شدید رد عمل سامنے آیا۔ حکومت بشمول نئے پاکستان کے پہلے وزیراعظم اس کی دفاع کے لیے خود بھی میدان میں کود پڑے اور ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ وہ اپنے عوام کو قائل کر سکیں کہ ایسا پاکستان کے مفاد میں کیا جا رہا ہے، ان کے ساتھ ان کی پوری ٹیم بھی میدان کفر میں کودی اور چاہا کہ عمران خان کو اپنا فیصلہ واپس نہ لینا پڑے لیکن جمہوریت نے بد صورتی کے باوجود حسن جمہورت کی اعلیٰ مثال پیش کرتے ہوئے حکومت وقت کو پسپائی پر مجبور کیا۔ عاطف ایم میاں کی تو بے شک چھٹی ہو گئی لیکن ان کے مصاحب اب تک بڑی تکلیف میں ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنی آہیں اور کراہیں ریکارڈ کرانے میں تاحال مصرف ہیں۔ اللہ ان کو قرار نصیب کرے تو کرے ورنہ وہ اپنے درد کو درد لا دوا ہی بنا کر دم لیں گے۔
خبر ہے کہ پیر کے روز وزیر خزانہ اسد عمر کی زیرصدارت میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس ہوا جس میں گیس کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق غور کیا گیا اور کمیٹی نے فوری طور پر گیس کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے قیمتوں میں اضافے کے لیے گائیڈ لائنز طے کرلی ہیں تاہم گیس کی قیمتوں میں اضافے کا حتمی فیصلہ وزیراعظم عمران خان کریں گے۔ اجلاس میں کھاد فیکٹریوں کو 50 فی صد مقامی گیس اور 50 فی صد ایل این جی مہیا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ایل این جی کا 50 فی صد بل کھاد کمپنیاں ادا کریں گی جب کہ 50 فی صد حکومت ادا کرے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام کھاد فیکٹریاں پوری صلاحیت کے مطابق کھاد پیدا کریں گی جب کہ یوریا کھاد پوری کرنے کے لیے کھاد درآمد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک اور شبہ نہیں کہ موجودہ جمہوری حکومت گزشتہ لنگڑی لولی جمہوری حکومتوں سے بھی کہیں زیادہ جکڑی بندھی ہے اور شاید ہی یہ ان جکڑ بندیوں سے آزاد ہوسکے۔ جس انداز میں اس حکومت کو لایا گیا ہے وہ بھی کسی کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں لیکن اس کے باوجود اس میں جمہوریت کے حسن کی ہلکی ہی سی سہی رمق موجود ہے جس کا نتیجہ حکومت کی مسلسل پسپائی کی صورت میں عوام کے سامنے آرہا ہے۔ عمران خان اور ان کی حکومت پر جو جو دباؤ ہیں ان کا احساس صرف عوام ہی کو نہیں ہے بلکہ انھیں خود بھی ہے۔ حقیقتاً وہ سخت مشکل میں ہیں لیکن وہ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا مستقبل عوام ہی کے ہاتھ میں ہے ۔ اگر عوام کی نظروں میں وہ گر گئے تو طاقتور سے طاقتور ادارے بھی ان کو سیدھا گھڑا نہیں کر پائیں گے۔ اب وہ غیر جمہوری دباؤ سے کیونکر نکل پائیں گے، یہ ان کے سوچنے کی بات ہے۔ وہ دودھاری تلوار سے بر سر پیکار ہیں اس لیے اس الجھاؤ سے نکلنے میں اور جمہوری فیصلہ کرنے میں یقیناًکچھ وقت تو لگے گا۔ وہ اس بات سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ وہ خود عوام ہی سے ہیں اور اگر انہوں نے عوام کی خواہشات اور اپنے دعووں کے برعکس کوئی کام کیا تو سخت نقصان والوں میں شامل ہو جائیں گے اس لیے وہ عوامی رد عمل پر عمل کرنا زیادہ محفوظ تر سمجھیں گے بنسبت اداروں کے اشارہ ابرو پر چلنے کے، جس کا سب سے بڑا ثبوت ختم نبوت پر سمجھوتے سے پھرجانا، عاطف مرتد کو عہدے سے ہٹا دینا، بجلی کے نرخوں پر عمل در آمد کو مؤخر کرنا، گیس کی قیمتوں کا تعین از سر نو کرنے پر سوچ بچار اور ایل پی جی کی بڑھ جانے والی قیمتوں کا دوبارہ جائزہ لینے والے اقدامات ہر عام و خاص کو سوچ لینا چاہیے کہ خواہ جمہوریت کی شکل کتنی ہی مسخ کردی جائے لیکن جو حسن اس کی ذات میں پوشیدہ ہے وہ کسی طورپر مسخر نہیں کیا جا سکتا اس لیے ضروری ہے کہ جمہوریت کو ڈی ڈریل نہیں ہونے دیں۔ وہ تما م شکلیں جو جمہوریت کے جسم کے اندر چھپ چھپ کر اپنے پنجے گاڑنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں ان کا خود بخود خاتمہ ہو جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ