قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ ﷺ

84

یاد کرو وہ وقت جبکہ تم تھوڑے تھے، زمین میں تم کو بے زور سمجھا جاتا تھا، تم ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں مٹا نہ دیں پھر اللہ نے تم کو جائے پناہ مہیا کر دی، اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبْوط کیے اور تمہیں اچھا رزق پہنچایا، شاید کہ تم شکر گزار بنو ۔ اے ایمان لانے والو، جانتے بْوجھتے اللہ اور اس کے رسْولؐ کے ساتھ خیانت نہ کرو، اپنی امانتوں میں غداری کے مرتکب نہ ہو ۔ اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامانِ آزمائش ہیں اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے ۔ اے ایمان لانے والو، اگر تم خدا ترسی اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے لیے کسوٹی بہم پہنچا دے گا اور تمہاری بْرائیوں کو تم سے دْور کر دے گا، اور تمہارے قصور معاف کر دے گا اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے ۔ (سورۃ الانفال:26تا29)

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم سے دریافت کیا گیا: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ والہ وسلم)کون سے وقت کی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے؟ ارشاد فرمایا: رات کے آخری حصہ میں اور فرض نمازوں کے بعد۔ (ترمذی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مؤمن اپنے گناہ کو ایسا محسوس کرتا ہے جیسے وہ کسی پہاڑی کے نیچے بیٹھا ہو اور ڈرتا ہے کہ کہیں وہ اس پر گر نہ جائے اور بدکار گناہوں کو ناک پر بیٹھنے والی مکھی کی طرح ہلکا سمجھتا ہے جب وہ اسے اڑاتا ہے تو اڑ جاتی ہے۔ (بخاری)
سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو روٹی کا ایک ٹکڑا گرا ہوا دیکھا، آپ نے اسے اٹھایا، صاف کر کے کھا لیا اور فرمایا عائشہ! عزت والی چیز (رزق) کی عزت کیا کرو کیوں کہ جب یہ کسی قوم سے چھین لی جاتی ہے تو اس کے پاس واپس نہیں آتی۔ (ابن ماجہ)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ