منصف ہو تو اب۔۔۔

81

اختر بھوپالی

نشہ ایک ایسا زہر ہے جو نشئی کو اپنے ساتھ ہی لے کر جاتا ہے نشہ کرنے والا تو صرف اپنی جان سے جاتا ہے مگر اسے دوست احباب اشکبار آنکھوں سے صرف یہی سوال کرتے ہیں کہ یہ موت کے سوداگر کون لوگ ہیں ان کو گرفت میں کیوں نہیں لیا جاتا، ان کو نشان عبرت کون بنائے؟ کون ہے جو ان سے آنے والی نسل کو محفوظ کرسکے گا؟۔ ہوا کچھ یوں کہ ہمارے آفس کا ایک خوبرو نوجوان سلمان خان جو اپنی شوخ مزاجی کی وجہ سے مشہور ہے وہ ہمارے آفس میں بحیثیت کمپیوٹر آپریٹر کام کرتا ہے، اس کی ایک خوبی یہ ہے کہ جب ہمارا آفس بوائے نہیں آتا تو نہ صرف پورے آفس اسٹاف کے لیے چائے تیار کرتا ہے بلکہ پیش بھی کرتا اور یوں ڈھیروں دعائیں سمیٹ لیتا ہے۔
آج جب وہ آفس آیا تو خلاف توقع اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب تھی اور کچھ بجھا بجھا سا لگ رہا تھا۔ اس نے اپنے سامنے بیٹھے اسٹاف سے ہاتھ ملایا اور جا کر خاموشی سے اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ اس کی اس تبدیلی کو سب نے محسوس کیا مگر مجھے اس کے رویے میں دُکھ سا محسوس ہوا۔ میں خاموش نہ رہ سکا اور اس کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔ اس نے نظر اُٹھا کر دیکھا اور پھر نظریں نیچی کرکے بیٹھ گیا۔ میں سمجھ گیا کہ اسے کچھ درد ہے ورنہ یہ چہکتا نوجوان ایسے خاموش رہنے والا نہیں۔ میں نے اس کو ٹٹولنے کی کوشش کی تو وہ پھٹ پڑا۔ اس کی آنکھوں سے نہ تھمنے والا طوفان اُمنڈ آیا۔ میں نے اس کو تسلی دی اور کہا کہ اپنا دُکھ بیان کرو کہ دُکھ بانٹنے سے کم ہوجاتا ہے۔ اس نے اپنا موبائل آن کیا اور ایک خوبصورت سڑک کی تصویر دکھاتے ہوئے بولا۔ اختر بھائی یہ میرا دوست۔۔۔ اس کے آگے اس کی زبان رک گئی، کیا ہوا؟ میں نے بیچ میں ٹوکا۔ نشے نے اس کو کہیں کا نہ چھوڑا اور وہ ہم لوگوں کو روتا چھوڑ گیا۔ پر موت کے سوداگر کون لوگ ہیں؟ جو ہماری نئی نسل کو تباہ کررہے ہیں، کوئی ان کو کیوں نہیں پکڑتا، ہمارے علاقے میں منشیات کھلے عام فروخت ہورہی ہے اور نوجوان دھڑا دھڑ اس کی جانب راغب ہورہے ہیں۔ اختر بھائی آپ تو اخبار میں لکھتے ہو ان بے غیرتوں کے بارے میں بھی کچھ لکھو۔ وہ بولتا جارہا تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک ٹپک کر اس کا دامن تر کررہے تھے۔ اختر بھائی، ان لوگوں کو بے نقاب کرنا ہوگا ورنہ آج میرا دوست گیا ہے کل اوروں کے دوست۔ دوسرے دن وہ نہیں آیا پھر جب تیسرے دن وہ آیا تو اس نے میری طرف ایسی نظروں سے دیکھا کہ جیسے وہ طالب ہو۔ میں سمجھ گیا اور کاغذ قلم لے کر اس کے قریب جا بیٹھا۔
سلمان کا تعلق چوں کہ پشاور سے ہے اس لیے میں سمجھا کہ یہ کوئی کے پی کے کے کسی علاقے کا کوئی واقعہ ہوگا مگر جب اس نے یہ بتایا کہ یہ واقعہ کراچی کے مضافاتی علاقے کالا پل کا ہے تو کوئی حیرت نہ ہوئی کہ کراچی کے اکثر مضافات میں یہ کاروبار عروج پر ہے مگر اس وقت حیرت ہوئی جب یہ بات علم میں آئی کہ یہ علاقہ تحریک انصاف کا مضبوط گڑھ ہے۔ 2013ء کے انتخاب میں ثمر علی خان یہاں سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور 2018ء کے انتخاب میں اس نشست پر عمران اسماعیل کا انتخاب ہوا جو اب گورنر سندھ ہیں اور پھر اسی علاقے سے جناب عارف علوی رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے جو کہ اب صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان ہیں۔ جب میں نے اسے کریدنا شروع کیا تو وہ بولا۔ محمود الحسن میرا بہت اچھا دوست تھا اس کا تعلق بری کوٹ سوات سے مگر وہ اپنے والدین، 2چھوٹے بھائیوں اور ایک چھوٹی بہن کے ہمراہ کراچی میں مقیم تھا۔ والد نے محنت مزدوری کرکے میٹرک تو کرایا پھر وہ ایک گارمنٹ فیکٹری میں ملازمت کرنے لگا مگر اردگرد کے ماحول کی وجہ سے جلد ہی نشے کا عادی ہوگیا۔ جب نشہ سرچڑھ کر بولتا تو ملازمت ختم ہوجاتی پھر طبیعت سنبھلتے ہی دوبارہ ملازمت کی تلاش۔ آپ کے محلے میں منشیات کھلے عام فروخت ہورہی ہے اور اہل محلہ کچھ نہیں کرتے؟ میں میرا اگلا سوال تھا۔ اہل محلہ نے تمام سیاسی جماعتوں کے لوگوں کو بلا کر اپنا مسئلہ بتایا مگر سب ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھیرا کر چلتے بنے۔ یہ اس کا جواب تھا پھر وہ خود ہی یوں گویا ہوا۔ دراصل ہمارے علاقے میں ایک کھیل کا میدان تھا جس کے برابر میں ایک اسکول ہے پہلے یہ ریلوے کا تھا پھر تحریک انصاف والوں نے لے کر اس کو نئے سرے سے تعمیر کیا مگر اس کے ساتھ ہی میدان بند کردیا گیا کہ وہاں کھیل کود سے اس کی عمارت اور خصوصاً شیشے کو نقصان کا اندیشہ تھا۔ جب کھیل کا میدان ہی ختم ہوگیا تو نوجوان گلی کوچوں میں بیٹھنے لگے جو منشیات فروشوں کی توجہ کا مرکز بنتا چلا گیا اور ہمارے نوجوان اس کی لت میں مبتلا ہونے لگے۔ وہ رُکا تو میں یہ سوچنے لگا کہ اس کا ذمے دار کون۔ اگر تحریک انصاف اس کی ذمے دار نہیں تو اب یہ اس کی ذمے داری بنتی ہے کہ علاقے کو منشیات فروشوں سے آزاد کرائیں اور اسکول چہار دیواری بنا کر میدان کو کھیل کود کے لیے کھلا چھوڑ دیا جائے۔
چاہتا تو یہ تھا کہ اس سلسلے میں چیف جسٹس جناب ثاقب نثار سے کچھ عرض کروں پھر خیال آیا اکیلا آدمی کیا کیا کرے گا اس کے علاوہ اور بھی چیف جسٹس صاحبان (ہائیکورٹ) اور جج صاحبان (سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، سیشن کورٹ) بھی تو ہیں اگر وہ اپنے اردگرد حالات اور واقعات پر نظر رکھیں اور منشیات جیسے گھناؤنے کاروبار کرنے والوں پر گرفت نہیں رکھیں گے تو آج ایک محمود دنیا سے رخصت ہوا ہے کل کوئی ایاز اپنے دوست احباب کو روتا بلکتا چھوڑ جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ