ورک چارج ملازمین کی حالت زار

174

 

تحریر
**
جمیل الدین
شیخ

HDA

شعبہ واسا میں 20سال سے ورک چار ج میں ملازمت کرنے والے ملازمین کا استیصال بند کیا جائے کیونکہ HDA شعبہ واسا میں ورک جارج میں ملازمت کرنے والے ملازمین عرصہ 20 سالوں سے ایک ہی پوسٹ پر کام کر رہے ہیں جبکہ لیر قوانین کے مطابق 90دن اگر کوئی ورکر ایک پوسٹ پر کام کرتا ہے تو اس کا قانونی حق ہے کہ اس کو ریگولر کردیا جائے مگر افسوس کہHDAشعبہ واسا میں عرصہ دراز سے لیبر قوانین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور اس پر ستم ظریفی یہ ہے کہ حکومت پاکستان کے اعلان کردہ کم از کم اجرت15ہزار روپے کے قانون کو بھی یکسر نظر انداز کر کے ان ملازمین کو قلیل تنخواہ ماہانہ6ہزار روپے ادا کی جا رہی ہے۔ وزیر بلدیات کا قلمدان تو ہر سیاسی لیڈر بڑی بڑی خوش اسلوبی سے تسلیم کرتے ہیں مگر اس سے جڑے
ملازمین کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اب جبکہ وزیر بلدیات کا قلمدان سعید غنی کے پاس ہے اور ملازمین کی کافی امیدیں وابستہ ہیں کہ شاید اس بار منسٹر صاحب کی نظرکرم ہو جائے۔ جبکہ HDA شعبہ واسا میں تقریباً 900سے زائد ریگولر اسامیاں خالی ہیں مگر حکومت سندھ کی منظوری نہ ہونے کی وجہ سے 20سال سے کام کرنے والے ورک چارج ملازمین کو ریگولر نہیں کیا جا رہا ہے جبکہ ادارہ میں ورک چارج ملازمین کی سنیارٹی لسٹ بھی سابقہ یونین نے تیار کروادی ہے تا کہ یہ ملازمین HDA ایمپلائیز یونین کے معاہدہ کے مطابق سنیارٹی کی بنیاد پر جلد از جلد ریگولر کیے جا سکیں اور سنیارٹی کی بنیاد پر کسی بھی ملازمین کی حق تلفی نہ ہو۔ لہٰذا وزیر بلدیات سندھ سے پرزور اپیل ہے کہ وہ زاتی دلچسپی لیتے ہوئے HDAشعبہ واسا کے ورک چارج ملازمین کو ریگولر کرنے کے لیے عملی اقدامات کرتے ہوئے ورک چارج ملازمین کو ریگولر کرنے کے احکامات صادر فرمائیں یہ غریب ملازمین آپ کے لیے دعا گو رہیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ