پاک امریکا تعلقات؟

114

 

عالمگیر آفریدی

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور امریکی فوج کے جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل جوزف ڈنفرڈ نے پاکستان کے حالیہ دورے میں وزیر اعظم، آرمی چیف اور وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات کے بعد نئی دہلی میں بھارتی سرکار پر جو نوازشات کی ہیں اس کے بعد بھی اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاک امریکا تعلقات بحال ہو گئے ہیں یا پھر یہ تعلقات جلد ہی دوبارہ اس سطح پر آ جائیں گے جو کبھی پاک امریکا تعلقات کا خاصا تھے تو وہ لوگ یا تو عقل سے عاری ہیں یا پھر ان کی آنکھوں پر خوش فہمیوں کے دبیز پردے پڑے ہوئے ہیں۔ نئی دہلی میں امریکی اور بھارتی وزراء خارجہ کی خوشگوار موڈ میں وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات کا جو مشترکہ اعلامیہ اور تصویر جاری کی گئی ہے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکا اور بھارت کے دو طرفہ تعلقات کن بلندیوں کو چھونے والے ہیں۔امریکا بھارت کو حساس فوجی ٹیکنالوجی دے گا، دونوں ممالک مشترکہ جنگی مشقیں بھی کریں گے۔ ماہرین کے مطابق مواصلات اور سیکورٹی کے طے پانے والے معاہدوں سے بھارت کو جدید امریکی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوجائے گی جب کہ واشنگٹن نے نیوکلیئر سپلائر گروپ میں بھارتی شمولیت کی حمایت کا اعادہ بھی کیا ہے۔ دوسری جانب امریکا اور بھارت نے پاکستان پر دباؤ بڑھانے کے لیے جہاں پاکستانی سرزمین سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے وہاں دونوں ممالک نے داؤد ابراہیم کی پاکستان میں تلاش کے معاہدے کے علاوہ پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ پٹھان کوٹ، اڑی اور سرحد پار دہشت گرد حملوں کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ بھارت اور امریکا کے درمیان مواصلات اور سیکورٹی کے معاہدوں سمیت افغان امن عمل اور دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع کے درمیان محفوظ کمیونی کیشن سسٹم قائم کرنے کے علاوہ امریکا نے بطور اہم دفاعی شراکت دار بھارت کی اسٹرٹیجک اہمیت کا اعتراف کیا اور دفاعی سازو سامان کی تجارت اور پیداواری رابطوں میں توسیع کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ جمعرات کو دستخط کیے گئے (کمیونیشنز کامپیٹبلٹی اینڈ سیکورٹی ایگریمنٹ کے تحت امریکا کو ہائی ٹیکنالوجی ایکوپمنٹ بشمول نگرانی کے مسلح ڈرونز بھارت کو دینے کی اجازت مل جائے گی۔
یاد رہے کہ نئی دہلی ان ڈرونز کے حصول کا خواہش مند رہا ہے تاکہ بحرہند کی نگرانی کی جاسکے جہاں بھارت کی جانب سے چین پر حالیہ برسوں میں مبینہ طور پر بھارتی پانیوں کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی وزیر خارجہ کے دورے کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ امریکا نے پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ سے ملاقاتوں کے دوران پاکستان کا رویہ مثبت تھا۔ آپ کو باڈی لینگویج سے اندازہ ہوا ہوگا کہ یہ ملاقات خوشگوار تھی۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس ملاقات سے یہ عندیہ ملا ہے کہ امریکا افغانستان میں غیر معینہ مدت کے لیے نہیں رہنا چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ چوں کہ پاکستان کو ہمیشہ امداد طلب نہیں کرنی اس لیے انہوں نے اس حوالے سے بات کرنا مناسب نہیں سمجھا کیوں کہ ہمارا تعلق صرف لینے دینے کا نہیں ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی وزیر خارجہ کے دورے کی اپنے مخصوص انداز میں جو تصویر کشی کی ہے اس سے تو بظاہر یہی تاثر ابھرتا ہے کہ یہ دورہ کافی کامیاب رہا ہے اور جلد ہی پاک امریکا تعلقات واپس اسی ٹریک پر آجائیں گے جیسا کہ یہ تعلقات جنرل ضیاء الحق یا پھر جنرل پرویز مشرف کے ادوار حکومت میں تھے حالاں کہ شاہ صاحب سے زیادہ اس حقیقت کو کون سمجھ سکتا ہے کہ اب وہ دور واپس لوٹ کر آنے والا نہیں ہے کیوں کہ اس عرصے میں پلوں کے نیچے سے اتنا پانی بہہ چکا ہے اور اس خطے میں اتنی بڑی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں کہ اب ان ادوار کی واپسی ممکن نہیں ہے۔ اس صورت حال پر امریکا میں مقیم پاکستان کے ممتاز دانشور ڈاکٹر عادل نجم نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچھلے سات عشروں کے دوران پاک، امریکا تعلقات میں تین ادوار آئے ہیں جن میں لیاقت علی خان سے لے کر جنرل ایوب خان تک کے پہلے دور میں پاکستان اور امریکا کا باہمی رشتہ اتحادی اور دوستی کا تھا، جنرل ضیاء الحق سے جنرل پرویز مشرف تک پاکستان اور امریکا کا تعلق طفیلی مصاحب کا تھا جبکہ آج کل یہ تعلق مخالفت اور دشمنی میں بدل چکا ہے۔ اِس تجزئیے کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ گزشتہ ستربرسوں کے دوران پاک امریکا تعلقات میں ہرگزرتے دن کے ساتھ بہتری کے بجائے بتدریج ابتری آتی گئی ہے۔ پاک امریکا تعلقات کے مستقبل پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں نائب امریکی وزیر دفاع رینڈل شریور کے ایک حالیہ خطاب میں پاکستان سے ببانگ دہل کیے جانے والے ان مطالبات کو بھی ہرگز نہیں بھولنا چاہیے جن میں کہا گیا ہے کہ (۱) افغانستان میں کامیاب امریکی جنگ کے خاتمے سے پہلے پاکستان کی سیکورٹی امداد بحال نہیں کی جائے گی۔ (۲) پاکستان کے چین سے مسلسل بڑھتے معاشی تعلقات پر امریکا کو سخت تحفظات ہیں اور (۳) بہتر تعلقات کے لیے پاکستان کو امریکا کی افغان پالیسی پر عمل کرنا ہوگا، کیا پاکستان کے لیے ان مطالبات کو پورا کرنا ممکن ہوگا دراصل یہی وہ ملین ڈالر سوال ہے جس کے جواب پر پاک امریکا تعلقات کے مستقبل کاتمام تردار ومدار ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ