کراچی جرائم کے اعتبار سے دنیا میں کا خطرناک ترین شہر؟

155

ڈاکٹر امیر شیخ کی بحیثیت کراچی پولیس چیف تقرری پولیس کارکردگی بہتر کرنے میں معاون ثابت ہورہی ہے۔
کراچی سے اسٹریٹ کرائمز کے خاتمہ کے لئے سیف سٹی منصوبہ شروع کیا جائے ۔میاں زاہد 

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ گزشتہ حکومت کے دور میں شروع ہونے والے آپریشن کے نتیجے میں کراچی جرائم کے اعتبار سے دنیا میں چھٹے خطرناک ترین شہر سے 69ویں نمبر پر آگیا ہے، جس کے لئے سندھ پولیس، رینجرز اوروفاقی و صوبائی حکومتیں مبارکباد کی مستحق ہیں۔ تاہم اس وقت بھی کراچی کی کرائم ریٹنگ 58فیصد جبکہ سیفٹی ریٹنگ 42فیصد ہے، جس میں بہتری کے لئے سندھ پولیس پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ ڈاکٹر امیر شیخ کی بحیثیت پولیس چیف تقرری کراچی میں پولیس کی کارکردگی مزید بہتر کرنے میں معاون ثابت ہورہی ہے۔ ڈاکٹر امیر شیخ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ پولیس افسر ہیں جنہوں نے لندن اسکول آف اکنامکس سے کرمنالوجی میں ماسٹر ز کیا ہے اورگزشتہ 28 سالوں سے پولیس ڈپارٹمنٹ میں کلیدی عہدوں پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں جن میں ڈی آئی جی فائنانس، ٹریفک، ریپیڈ رسپانس فورس،کرائم انوسٹیگیشن ڈپارٹمنٹ، کمانڈانٹ پولیس ٹریننگ سینٹر سعید آباد، ڈی آئی جی ساؤتھ ، ایسٹ ،ڈی آئی جی میرپور خاص، سکھر اور ایس ایس پی انوسٹیگیشن کے اہم عہدے شامل ہیں۔ انہوں نے ٹریفک پولیس میں مثبت اصلاحات کیں اور ٹریفک قوانین کو موثر بنانے میں اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ٹریفک چالانوں کو کمپیوٹرائزد ڈیٹا بیس قائم کیا اور ڈرائیونگ لائسنس کو اس ڈیٹا بیس سے منسلک کروایا۔ مختلف زونز کے ڈی آئی جی کی حیثیت سے دوستانہ پولیس کا تصور پیش کیا اور پولیس اور منسلک اداروں کی تطہیر کے ساتھ ساتھ پولیس کمیونٹی تعلقات کے فروغ کے لئے قابل قدر اقدامات کئے۔
میاں زاہد حسین نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف ہونے والے فوجی آپریشن سے کراچی کے حالات میں یقیناًبہت بہتری آئی ہے لیکن اسٹریٹ کرائمز سے بدستور چھٹکارا حاصل نہیں ہوسکا، بلکہ رواں سال فروری سے جولائی تک ان میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گزشتہ 6ماہ کے دوران ریکوری کے بعد کراچی کے شہری 16ہزارموبائیل فونز ، 4سو گاڑیوں اور11ہزار موٹرسائیکلوں سے اسٹریٹ کرائمز کے نتیجے میں محروم ہوئے ۔اغوا برائے تاوان کے واقعات میں انتہائی کمی دیکھنے میں آئی ہے اور گزشتہ 6ماہ میں صرف 5واقعات ریکارڈ ہوئے،تاہم بھتہ خوری کے 30 واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔صنعتی علاقوں میں اسٹریٹ کرائمز کی تعداد شہر کے دیگر علاقوں سے کہیں زیادہ ہے۔فی الوقت کراچی کے تقریباً 300مقامات پر 3ہزار کیمرے لگے ہوئے ہیں، جو کراچی جیسے بڑے شہر کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ناکافی ہیں۔ کراچی پولیس نے گزشتہ سال ایک ویڈیو سرویلنس پراجیکٹ تجویز کیا تھا جس کے تحت 2ہزار مقامات پر 10ہزار جدید کیمرے انسٹال کرنے تھے وہ تاحال تعطل کا شکار ہے،سیف سٹی منصوبہ کوتمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر فوری طور پر منظوراور نافذ کیا جائے ، جس سے کراچی کو محفوظ شہر بنانے میں مدد ملے گی۔حکومت سندھ پولیس ڈپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے اقدامات کرے اورکراچی شہر سے اسٹریٹ کرائمز اور جرائم کے خاتمہ کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ
mm
قاضی جاوید سینئر کامرس ریپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com