غیر مسلموں کی آبادکاری،مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی کالونی گرانے کا فیصلہ

75

سرینگر(اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے جموں شہر کے قریب وادی کشمیر کے مسلمانوں کیلیے چند برس قبل قائم کی گئی ہاؤسنگ کالونی گرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہزاروں مسلمان ضلع جموں میں بیلچاراناستواری کے علاقے بشیرگجر بستی میں آباد ہیں، انہیں اپنے گھر خالی کرنے کیلیے نوٹس جاری کردیے گئے ہیں۔وادی کشمیر کے مسلمانوں کی کالونی میں 200 سے زائد گھر ہیں، انتظامیہ کایہ فیصلہ جموں ریجن سے کشمیری مسلمانوں کو نکالنے کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے منصوبے کا حصہ ہے۔علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیرمیں سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمدیاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے کہا ہے کہ تنازع کشمیر کو اس کے تاریخی تناظر میں حل کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار حیدر پورہ سرینگر میں ایک غیر معمولی اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین سیاسی صورتحال کا بغور جائزہ لیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ اب یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ ریاست کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون اور مسلم اکثریتی کردار کو زک پہنچانے میں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی سمیت تمام بھارت نواز جماعتیں برابر کی شریک ہیں۔ انہوں نے حالیہ دنوں بھارتی آئین کی دفعہ 35-A اور 370 کی مجوزہ منسوخی کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرانے پر کشمیریوں کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کشمیریوں سے بھارت کے کسی بھی قسم کے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی۔ علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کی مسلح جدوجہد میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ضلع ڈوڈہ کے علاقے فرقان آباد گھٹ سے تعلق رکھنے والے ہارون عباس وانی نامی نوجوان کی سوشل میڈیا پر ایک تصویروائرل ہوئی ہے جس میں اس نے بندو ق اٹھا رکھی ہے۔ہارون کے اہلخانہ کے مطابق وہ ایم بی اے ڈگری مکمل کرنے کے بعد کشمیر میں ادویات کی ایک کمپنی میں کام کر رہا تھا ۔پولیس نے بھی ہارون کی عسکری تنظیم میں شمولیت کی تصدیق کی ہے۔مزید برآں مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں نامعلوم مسلح افراد کے دستی بم کے حملے میں 2 بھارتی فوجی زخمی ہوگئے ہیں۔ ایس ایس پی سوپور جاوید اقبال نے واقعے کی تصدیق کی ہے ۔دوسری جانب ضلع پلوامہ کے علاقے چیوہ کلان میں محاصرے کے دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں ایک نوجوان فیاض احمد وانی کے قتل کے خلاف ضلع میں مکمل ہڑتال کے موقع پر تمام دکانیں ، تجارتی مراکز ، سرکاری دفاتر بند اور تعلیمی سرگرمیاں معطل رہیں۔
مقبوضہ کشمیر

Print Friendly, PDF & Email
حصہ