۔35-اے منسوخ کیا تو جموں کے لوگ بندوق اٹھائیں گے، رکن بی جے پی

62

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیر میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ اب بھارتیہ جنتا پارٹی کے اپنے ارکین بھی دفعہ 35-A کی ممکنہ منسوخی کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق پہلے نام نہاد اسمبلی کے رکن راجیش گپتا اوراب آرایس پورہ جموں سے رکن اسمبلی ڈاکٹر گگن بھگت نے اس معاملے پر نہ صرف کھل کر بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخالفت کی بلکہ کہا کہ کشمیری عوام جموں کی لڑائی لڑرہے ہیں۔ ڈاکٹر گگن نے کہاکہ سٹیٹ سبجیکٹ قوانین مہاراجہ ہری سنگھ جموں والوں کے تحفظ کے لئے لائے
تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جموں کے لوگ کمزور ہیں اور بہاریوں سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہااگر 35اے منسوخ ہوگیا تویہاں کے نوجوان بے روزگار ہوجائیں گے اورمکان بنانے کے لئے زمین تک نہیں ملے گی۔انہوں نے کہاکہ یہ دفعہ ہٹایا گیا تو جموں میں بے روزگاری کی انتہاہوجائے گی ، کاروبارمقامی لوگوں سے چھن جائے گا اوروہ سڑکوں پر اترنے پر مجبور ہوجائیں گے،پتھربازی کریں گے اور بندوق اٹھائیں گے۔ گگن بھگت نے کہاکہ بی جے پی چاہتی ہے کہ دفعہ35Aاور370کو ہٹایا جائے کیونکہ پارٹی ملکی سطح پر اپنی تین سو سے زیادہ سیٹوں کے چکر میں ہے اور اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اسے جموں سے دو سیٹیں ملیں یا نہ ملیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ