ہم کجا وہ کجا

112

حبیب الرحمن

چہرے کا پردہ ایک ایسا حکم ہے جس سے سراسر انکار ارتداد میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ کسی واضح حکم پر عمل نہ کرنا ایک قابل تعزیر جرم ہے لیکن کسی واضح حکم کو ماننے سے انکار کردینا کفر میں آتا ہے۔ کفر یا انکار کا مطلب ’’رد‘‘ ہے جس کا مطلب ارتداد ہے۔ اسلام کے کسی بھی حکم کا انکار کرنے والا مرتد کہلاتا ہے جس کی سزا گردن زدنی کے سوا اور کچھ نہیں۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم یہ تو کہتے ہیں کہ اللہ کے بندے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے قانون کے مطابق زندگی گزارنے اور اس کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کے لیے تیار نہیں۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ ؂
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی
روز ازل نیکی و بدی ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہیں بلکہ یوں کہنا زیادہ درست اور صحیح ہوگا کہ نیکی سے بدی ٹکراتی چلی آرہی ہے اور بدی کی ہر ممکن کوشش یہی رہی ہے کہ نیکی کے تمام نور کو تاریکی و ظلمات میں بدل کر رکھ دے۔ نیکی کی روشنی کو قائم و دائم رہنا ہے بلکہ آخر کار اس کو اس طرح چھا جانا ہے کہ کائنات کے کسی بھی گوشے میں تاریکی کا کوئی نام و نشان تک باقی نہیں رہے۔ یہ ایک ایسی عالم گیر سچائی ہے جس سے مفر ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی روشنیوں پر تاریکی و ظلمات کا حملہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے کوئی نہ کوئی روشنیوں کا شیدائی کھڑا ہوجاتا ہے اور وہ کفر و الحاد کے طوفان کے سامنے چٹان کی طرح ڈٹ جاتا ہے۔
خواتین کا پردہ کرنا، اپنی زینتوں کو پوشیدہ رکھنا، اپنے حسن و جمال کو رال ٹپکاتی نظروں سے بچا کر رکھنا خود ان کے لیے تو ضروری ہے ہی ساتھ ہی ساتھ معاشرے کو بگڑنے سے بچانے کے لیے بھی بے حد ضروری ہے۔ خواتین کو اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ اسی معاشرے میں صرف غیر ہی نہیں رہتے خود ان کے بھائی، باپ، چچا، ماموں، تایا، پھوپھا، بھتیجے، بھانجے اور سب سے بڑھ کر ان کے شوہر اور بچے بھی اسی معاشرے میں پر ورش پا رہے ہوتے ہیں۔ معاشرے کے بگاڑ کی صورت میں صرف یہی نہیں ہوگا کہ وہ غیر محفوظ ہوجائیں گی بلکہ ان کے سارے مرد معاشرے میں برباد ہو کر رہ جائیں گے۔ مردوں کی اخلاقی بربادی گھر کے اندر تک داخل ہوجائے گی اور پھر ہوگا یہ کہ گھر میں
بہنوں، ماؤں، بیٹیوں اور بہووں تک کی عزت محفوظ نہیں رہ سکے گی۔ کسی معاشرے کو گندا کرنا ہو، تباہ و برباد کرنا ہو اور اس کو ہلاک کرنا ہو تو وہاں قتل و غارت گری کرنے سے کہیں زیادہ خطرناک کام اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ وہاں کی خواتین میں شرم و حیا کو مٹا کر رکھ دیا جائے۔ آج یورپ اور امریکا میں کیا ہو رہا ہے اور معاشرہ اخلاقی انحطاط کا کس بری طرح شکار ہو کر رہ گیا ہے اس کا اندازہ دنیا میں بسنے والے ہر فرد و بشر کو بہت اچھی طرح ہے لیکن عالم یہ ہے کہ کوئی پلٹنے کے لیے تیار و آمادہ نظر نہیں آرہا۔ رواں ماہ میں ڈنمارک میں ایک قانون پاس ہوا ہے جس میں خواتین کا چہرہ ڈھانپ کر کسی بھی عوامی مقام پر آنا جانا قابل گرفت و تعزیر قرار دیدیا گیا ہے اور ایسی خواتین جو اس قانون کی خلاف روزی کی مرتکب پائی گئی ہیں ان پر ہزاروں روپے جرمانے لگادیے گئے ہیں۔
بی بی سی نے اپنی ایک رپورٹ میں بیان کیا ہے کہ 5 اگست کو لکھے گئے اپنے کالم میں ’’بورس جانسن‘‘ نے ڈنمارک میں نافذ کیے گئے اس نئے قانون کا ذکر کیا تھا جس کے تحت ملک میں چہرہ چھپانے یا نقاب پہننے پر پابند عائد کر دی گئی تھی۔ انہوں نے اپنے مضمون میں لکھا کہ وہ ڈنمارک کے نئے قانون کے حامی نہیں ہیں لیکن انہوں نے برقع پہننے والی مسلمان خواتین کا مذاق اڑاتے ہوئے انہیں ’’بینک ڈاکو‘‘ اور ’’ڈاک خانہ‘‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے مزید یہ بھی لکھا کہ وہ اپنے حلقے کے عوام سے ملاقات کے دوران ان سے توقع کرتے ہیں کہ وہ نقاب ہٹا کر بات کریں۔ ڈنمارک کوئی اسلامی ملک نہیں، ان کو حق ہے کہ وہ جس قسم کا قانون بنانا چاہیں بنائیں لیکن دنیا کے ہر ملک میں مختلف الخیال لوگ آباد ہوتے ہیں اور ہر ملک میں کئی کئی مذاہب کے حامل افراد پائے جاتے ہیں۔ اس بحث سے ہٹ کر کہ وہ اکثریت میں ہوتے ہیں یا نہایت اقلیت میں، لیکن دنیا کا ہر ملک اپنے اندر رہنے والی اقلیتوں کا خیال رکھتا ہے اور قوانین وضع کرتے ہوئے ان کے بہت سارے حقوق کا خیال رکھتا ہے جس میں مذہبی رسوم و عقائد کو خاص طور سے بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ لیکن معلوم نہیں کیوں دنیا میں دوسرے مذاہب کو تو بہت فوقیت دی جاتی ہے اور ان کے مذہبی حقوق کاخیال رکھا جاتا ہے لیکن جب بات اسلام کی آتی ہے تو دنیا ان کے عقائد کو تاراج کرنے میں ذرا بھی تامل سے کام نہیں لیتی۔ کچھ ایسا ہی ڈنمارک میں مسلم خواتین کے ساتھ پیش آرہا ہے اور ان کے پردہ کرنے سے قانوناً منع کیا جارہا ہے۔
اگر ایماندارانہ انداز میں دیکھا جائے تو اس قانون کے خلاف مسلم امہ کو سخت احتجاج کرنا چاہیے تھا اور ڈنمارک کی حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے تھا کہ وہ ایسے قوانین وضع کرنے سے باز رہے اور اگر کوئی قانون اسلامی نقطہ نظر سے خلاف شرع بن گیا ہو تو اس کی تنسیخ کر دینی چاہیے لیکن افسوس تو یہی ہے کہ ایسا کچھ کسی بھی مسلمان ملک کی جانب سے نہیں ہوا۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ نور حق کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ازل سے ہی ظلمتِ کفر و شر بر سر پیکار رہی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی کو ان کی شرارتوں سے بچانے کے لیے کھڑا کر دیتا ہے۔ جس بات پر مسلم ممالک میں ایک بیداری ہوجانی چاہیے تھی بے شک نہیں ہوئی لیکن ’’بورس جانسن‘‘ کے اس اداریہ کو ان ہی کے ملک میں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بورس جانسن کے اس کالم پر برطانوی وزیر اعظم نے ان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے جماعت کے چئیرمین برانڈن لوئیس کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس کالم پر بورس جانسن کو معافی مانگنی ہوگی کیوں کہ اس سے مسلمان برادری کی دل آزاری ہوئی ہے۔ یہی نہیں، بی بی کے مطابق کنزرویٹو مسلم فورم کے لارڈ شیخ نے بھی وزیر اعظم کی تنقید کے بعد زور دیا ہے کہ بورس جانسن کے خلاف کاروائی کی جائے اور ان کو پارٹی کے عہدے سے ہٹایا جائے۔ تاہم بورس جانسن نے ابھی تک معافی کی کسی بات کو قبول نہیں کیا بلکہ اس کے برعکس اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ان سے چابک لے لینی چاہیے۔ وہ کوئی مافوق الفطرت شخص نہیں ہیں۔ وہ صرف پارٹی کے ایک رکن ہیں اور جماعت کے چئیرمین اور وزیر اعظم کے پاس پورا حق ہے کہ وہ ان سے ’وہپ‘ لے لیں اور میں یہی دیکھنا چاہتا ہوں‘‘۔ رپورٹ کے مطابق کنزرویٹو جماعت کے سابق چئیرمین ایرک پکلز نے بھی زور دیا کہ بورس جانسن اپنے بیان پر معافی مانگیں۔
تشویشناک بات یہ ہے بورس جانسن کے بیان سے برطانیہ میں اسلام مخالف قوتوں کو تقویت مل سکتی ہے اور وہاں پر موجود ایسے عناصر جو مسلمانوں کے مخالف ہیں ان کے رویوں میں شدت آسکتی ہے۔ جب برطانوی وزیر اعظم سے پوچھا گیا کہ کیا بورس جانسن اسلام کے خلاف ہیں تو انہوں نے برہ راست اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا البتہ انہوں نے کہا کہ جو بھی اس معاملے میں کچھ کہے اسے بہت سوچ سمجھ کر کوئی بات اپنے منہ سے نکالنی چاہیے اور لفظوں کا چناؤ خوب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔
باقی صفحہ9پر
حبیب الرحمن
یہ ساری باتیں اپنی جگہ لیکن افسوس یہ ہے کہ جن کے دین کے ساتھ یہ معاملہ ہے وہ اس تضحیک آمیز قانون اور لکھے گئے کالم پر منہ میں ایلفی ڈالے بیٹھے ہوئے ہیں۔ کسی مسلم ملک کی جانب سے کسی آواز کا اٹھنا تو کجا، کہیں سے کسی قسم کا کوئی مؤثر دباؤ تک ڈنمارک کی حکومت پر ڈالا جاتا نظر نہیں آرہا۔
یاد رہے کہ ’’ٹرمپ‘‘ نے بھی اپنی انتخابی مہم میں مسلمانوں اور اسلام کو حرف تنقید بنایا تھا۔ یہی بات ان کی شہرت کا سبب بنی تھی اور شاید بورس جانسن کی یہ ہرزہ سرائی بھی کسی ایسی ہی جدو جہد کا حصہ ہو۔ یہ دونوں باتیں اور کچھ ثابت کرتی نظر آئیں یا نہ آئیں، ایک بات ضرور واضح کرتی ہیں کہ تمام ترقی یافتہ ممالک کی یہ بات کہ وہ کسی بھی مذہب یا ان پر چلنے والوں سے کسی بھی قسم کی کوئی نفرت نہیں رکھتے، محض زبانی دعوں کے علاوہ اور کچھ نہیں اگر ان میں ذرا بھی سچائی ہوتی تو ٹرمپ کو اپنا الیکشن ہار جانا چاہیے تھا اس لیے کہ اس کی کامیابی میں مسلم دشمنی کے سوا اور کسی کا ہاتھ نہیں تھا۔
ہم جس بری طرح یورپ اور امریکا کی مسلم دشمنی کا ذکر کرتے ہیں اگر اس سے دس گنا کم بھی اپنی جانب دیکھ لیں تو ہمیں اپنے اندر بڑے بڑے گھن نظر آنے لگیں گے۔ جس پردہ دشمنی کا ہم یورپ کے حوالے سے ذکر کر رہے ہیں کبھی اس بات پر بھی غور کیا کہ ہمارے معاشرے میں کس بیدردی کے ساتھ نقاب نچ رہے ہیں۔ ہماری گلیاں، سڑکیں، بازار، مذہبی رسوم، شادی بیاہ کی تقاریب میں کس بے رحمی کے ساتھ پردے کی توہین کی جارہی ہے۔ بے پردگی کا شعور تو اب ثانوی بات ہو کر رہ گئی ہے اب تو بات عریانیت کی حدود میں داخل ہو چکی ہے۔ اگر سچائی سے کام لیا جائے تو بات عریانیت سے بھی تجاوز کرکے بیہودگی اور فحاشی میں داخل ہوچکی ہے۔ ٹی وی چینلوں پر چلنے والے اشتہارات میں تو مسلمانوں نے اپنی تہذیب کا جلوس نکال کر رکھ دیا ہے۔ جب عالم یہ تو یہ کسی ایسے ملک کو جو اسلامی شعائر کے خلاف کوئی قانون بنارہا ہو یا اسلامی تہذیب کی تضحیک کر رہا ہو تو کوئی بھی مسلمان کس طرح اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ کھڑی کر سکتا ہے۔ ہم اپنی اصلاح کیے بغیر اگر پوری قوت کے ساتھ بھی ایسے عناصر کے خلاف کھڑے ہوجائیں تب بھی اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اور اپنے معاشرے کی اصلاح کریں اور تیزی سے بڑھتے ہوئے فحاشی اور عریانی کے رجحان کو ختم کریں۔ اسی میں ہماری اصلاح ہے اور یہی وہ راستہ ہے جس کو اپنا کر ہم اپنی اور اپنے معاشرے کی کردار سازی کر سکتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.