قال اللہ تعالی و قال رسول اللہ ﷺ

91

فرعون سے اْس کی قوم کے سرداروں نے کہا ’’کیا تو موسیٰؑ اور اْس کی قوم کو یونہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھے؟‘‘ فرعون نے جواب دیا ’’میں اْن کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا اور اْن کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے‘‘۔موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا ’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور آخری کامیابی انہی کے لیے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں‘‘۔اس کی قوم کے لوگوں نے کہا ’’تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں‘‘ اس نے جواب دیا ’’قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو‘‘۔ (سورۃ الاعراف: 127تا 129)

رسول کریم ؐ نے فرمایا: اہل ایمان کو دوزخ سے پار ہو جانے کے بعد پھر ایک اور پل پر روک لیا جائے گا جو دوزخ اور جنت کے درمیان میں ہے اب ان کے آپس میں جو حقوق ایک دوسرے پر رہ گئے تھے، ان کا تصفیہ کیا جائے گا مظلوم کو ظالم سے بدلہ ملے گا۔ جب کسی کا حق دوسرے پر نہیں رہے گا تب ان کو جنت میں داخلے کی اجازت ملے گی۔ (بخاری) ۔۔۔گزشتہ امتوں میں ایک شخص کو اللہ نے خوب دولت دی تھی۔ جب اس کی موت کا وقت آیا، اس نے بیٹوں سے پوچھا میں تمہارا کیسا باپ تھا؟ بیٹوں نے کہا، بہترین باپ۔ اس نے کہا مگر میں نے عمر بھر کوئی نیکی نہیں کی۔ اس لیے جب میں مرجاؤں تومجھے جلا کر میری ہڈیوں کو پیسنا اور راکھ ہوا میں اُڑا دینا۔ بیٹوں نے ایسا ہی کیا۔ اللہ نے اُسے جمع کیا اور پوچھا، تونے ایسے کیوں کیا؟ عرض کی یارب! تیرے خوف سے۔ پس اللہ نے اسے معاف کردیا۔ (بخاری)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ