گئورکھشاکے حمایتی ہی اصل دہشت گرد ہیںہجوم کے ہاتھوں تشدد اور قتل کا عفریت بھارتی استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہوگا

109

ڈاکٹرعابد الرحمن

بھارتی عدالت عظمیٰ نے ہجوم کے ہاتھوں افواہوں اور نام نہاد گئو رکھشا کے نام پر سرعام تشدد اور قتل کے بڑھتے واقعات پر سخت رویہ اپناتے ہوئے انہیں روکنے کے لیے سنجیدہ کارروائی اور ٹھوس اقدامات سمیت اس کے لیے الگ قانون بنانے کی ہدایت کی ہے اور یہ حکم بھی دیا ہے کہ ان معاملات میں ملوث لوگوں پر نفرت پھیلانے کی تعزیرات بھی لگائی جائیں نیز ان پولیس افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے جو اس طرح کے واقعات روکنے کے لیے ناکافی کار کردگی دکھاتے ہیں یا پھر مجرموں کے خلاف کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے میں صرف قانون سازی اور ہدایات ہی کافی نہیں۔
؎یہ معاملہ اس وقت تک حل نہیں ہو سکتا جب تک کہ ایک مشتعل مجمع کے ہاتھوں تشدد اور قتل خاص طور سے نام نہاد گئو رکھشا کے نام پر کی جانے والی کارروائیوں کو دہشت گردی قرار دے کر خاتمے تک اس کے پیچھے نہیں لگا جاتا۔ گئو رکھشکوں کی اس دہشت گردی کا پورے ملک میں ایک ہی پس منظر، ایک ہی منظر، ایک ہی پیٹرن، ایک ہی جذبہ اور ایک ہی مقصد ہے اور اسکا ہدف بھی ایک ہی برادری ہے اور دہشت گردی ہی کی طرح اس کے لیے اصل مجرموں سے زیادہ وہ لوگ ذمے دار ہیں جو ان کی کھلی یا چھپی حمایت کرکے ان کی پیٹھ تھپتھپاتے ہیں، ہمت دیتے ہیں، انہیں قانون کے تئیں نڈر بناتے ہیں۔ شکنجے میں پھنس جانے پر انہیں قانونی مدد مہیا کرواتے ہیں، رہا ہونے پر گل پاشی کرتے ہیں اور اس طرح دوسروں کو بھی اکساتے ہیں۔ ان لوگوں کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جانا چاہیے جو ایک مجرم کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
ہجوم کے ہاتھوں تشدد اور قتل کا یہ عفریت بھی دہشت گردی ہی کی طرح ملک کی داخلی سلامتی اور لا اینڈ آرڈر کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ گئو دہشت گردی کے خلاف اب تک کی گئی ڈھیلی ڈھالی اور ہلکی پھلکی کارروائیوں، اور گئو دہشت گردوں کو وزرا اور بر سر اقتدار پارٹی کے اہم لوگوں کی حمایت کی وجہ سے ان لوگوں میں قانون کا احترام اور ڈر دونوں ختم ہو چکے ہیں، وہ خود اپنے آپ کو قانون اور اور اپنی دہشت گردی کو انصاف سمجھنے لگے ہیں۔ سپریم کورٹ ملک میں قانون و انصاف کا سب سے بڑا اور قابل صد احترام ادارہ ہے لیکن ان دہشت گردوں اور ان کے حمایتیوں نے اسے بھی انتہائی مجبور کر رکھا ہے ۔
عدالت کی مجبوری دیکھیے کہ مذکورہ فیصلے کے محض 3 دن بعد ہی راجستھان کے الور میں گئو دہشت گردوں نے ایک مسلمان کو سرعام پیٹ پیٹ کر ادھ مرا کردیا اور اس کی حفاظت کی اولین ذمے دار پولس نے اسپتال پہنچانے میں دانستہ اور مجرمانہ تاخیر کرتے ہوئے اسے موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ ان معاملات میں پولیس کا رویہ یہی ہوتا ہے کہ وہ مظلوم سے زیادہ مجرم کی حامی نظر آتی ہے اور یہ بھی دراصل اس لیے ہے کہ بر سرا قتدار افراد یہی چاہتے ہیں۔ اس معاملے میں اس نے مظلوم شخص کو پولیس اسٹیشن سے محض 50 میٹر دور دواخانے میں لے جانے سے پہلے گایوں کو 10 کلومیٹر دور گئو شالہ میں پہنچا نا ضروری سمجھا۔ یہ بھی الزام لگا ہے کہ پولیس نے گئو دہشت گردوں سے پہلے ان کے مظلوم ہی سے پوچھ تاچھ کی اور اس دوران اسے مارا پیٹا بھی گیا۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے کے بعد بھی وزرا اوربر سر اقتدار پارٹی کے افرادنے وہی کچھ کیا جو گئو دہشت گردی کے ہر معاملے ہوتا آیا ہے یعنی مجرموں کو بچانے کی کوشش۔ مجرموں کے بجائے مظلوموں کو اور ان کی پوری برادری ہی کو مجرم قرار دینے کی کوشش اور مختلف قسم کی بیان بازیوں کے ذریعے سارے معاملے کو کوئی الگ رنگ دینے کی مذموم کوشش۔
اس ضمن میں کسی نئے قانون کی حیثیت کیا ہو گی اس کا اندازہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے اس بیان لگایا جا سکتا ہے جو انہوں نے لوک سبھا میں دیاکہ 1984ء کے سکھ مخالف فسادات ملک میں ’لنچنگ‘ کی سب سے بڑی واردات تھی، گویا انہوں نے اس طرح کے حالیہ واقعات کو معمولی قرار دینے کی کوشش کی۔ ویسے بھی گئو رکھشکوں سے ان کی محبت اور ان کے شکار مسلمانوں کے تئیں تعصب تو اسی وقت عیاں ہو گیا تھا جب انہوں نے پچھلے مہینے لنچنگ کے متعلق ریاستوں کو جاری کی گئی تجاویز کو ’بچہ چوری کی افواہوں ‘ تک محدود اور مخصوص کر کے گئو رکھشکوں کے ذریعے کی جانے والی لنچنگ کا ذکر بھی نہیں کیا تھا۔ اب سپریم کورٹ کے مذکورہ حکم کی بجاآوری کے لیے حکومت نے وزرا کا جو گروپ بنایا ہے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اس کے سر براہ ہیں لیکن جو شخص خود ایسے جرائم کے معاملات کو الگ الگ چشموں سے دیکھتا ہو اور متعصب بھی ہو، اس سے اس ضمن میں کسی مثبت اقدام کی کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔ ویسے بھی حکومت نے سپریم کورٹ میں اس ضمن میں اسپیشل قانون بنانے کی مخالفت ہی کی تھی اور ابتدا ہی سے وہ ریاستوں کو اس کا ذمے دار قرار دے کر اپنا دامن جھٹکتی رہی ہے اور ریاستی حکومتیں اس معاملے میں انتہائی سست رفتاری سے کام کرتی رہی ہیں۔ اس طرح کے زیادہ تر معاملات میں یہ ہوتا رہا ہے کہ اول تو پولیس اس وقت پہنچتی ہے جب گئو دہشت گرد اپنا کام پو را کرلیتے ہیں اور اگر پولیس پہنچتی بھی ہے تو مجرموں سے پہلے مظلوموں کے خلاف قانونی شکنجہ کستی ہے ۔
یعنی سیاسی لوگوں، وزیر داخلہ اور مقامی ایم ایل الے کا آدھا کام پولیس ہی کرلیتی ہے ، لیکن راجستھان کے اس تازہ معاملے میں ایسا نہیں ہو سکا۔ پولیس نے گئو رکھشکوں میں سے 3 کو گرفتار کرلیا تو خود اس کے باس یعنی وزیر داخلہ ہی اس کے خلاف ہو گئے۔ اس معاملے میں وہ گئو دہشت گردوں کے شکار اکبر کی موت کے لیے پوری طرح پولیس ہی کو ذمے دار ٹھہرارہے ہیں کہ اگر پولیس گایوں کو گئو شالہ پہنچانے سے پہلے اکبر کو اسپتال پہنچاتی تو اس کی جان بچ سکتی تھی۔ بہت صحیح ہے لیکن سوال اٹھتا ہے کہ وزیر موصوف اپنی ہی پولیس پر الزام کیوں لگا رہے ہیں؟ مطلب صاف ہے کہ ان کا مقصد گئو دہشت گردوں کو بری الذمہ قرار دینا یا کم از کم اس کیس کو کمزور کرنا ہے اور الور کے مقامی ایم ایل اے نے اس کی وضاحت بھی کردی ہے کہ اس معاملے میں اکبر کی موت کے لیے پولیس ہی ذمے دار ہے۔ گئو رکھشک نہیں۔ یہ بھی کہا کہ انہوں نے گئو رکھشکوں کو کہہ رکھا ہے کہ کسی پر حملہ مت کرو، بلکہ اسے پولیس کے حوالے کردو۔ سو تین چار تھپڑ مارنے کے بعد انہوں نے اسمگلروں کو پولس کے حوالے کردیا (انڈین ایکسپریس آن لائن 24، جولائی 2018ء) یعنی ان کا کہنا ہے کہ اکبر کو پولیس نے مارا، اسے گئو رکھشکوں نے اتنا مارا ہی نہیں تھا کہ اس کی موت ہوجائے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے مزید آگے بڑھ کر اس معاملے میں گرفتار کیے گئے 3 افراد کو بے قصور قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی اورگایوں کی اسمگلنگ کے الزام میں مارے گئے اکبر کے ساتھی اسلم کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا (The wire 25/07/2018)۔
اسی طرح بی جے پی اور اس کے اتحادی اس ضمن میں بھی بھانت بھانت کی بولیاں بول کر اس کیس کو کمزور کر نے کی کوشش کر رہے ہیں کوئی مسلمانوں سے اپیل کررہا ہے کہ ’وہ ہندوؤں کے جذبات کو سمجھیں اور گائیں اسمگل کرنا بند کردیں ۔‘ کوئی اسے وزیر اعظم مودی جی کی شہرت کے خلاف سازش قرار دے کر دوسرا رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے تو کوئی دھمکی دے رہا ہے کہ ’ گئو رکھشا کی جنگ اور لنچنگ کے واقعات اس وقت تک نہیں رُکیں گے جب تک گائے کو’ راشٹر ماتا‘کا درجہ نہیں مل جاتا۔ تو کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ یہ ماب لنچنگ اسی وقت رُکے گی جب لوگ بیف کھانا بند کردیں گے ۔
یہ سب بی جے پی ہی کے لوگ ہیں اورکسی ایک مقام کے یا جائے واقعہ الور یا راجستھان کے مقامی رہنما ہی نہیں بلکہ ملک کے مختلف مقامات کے رہنما ان میں شامل ہیں یعنی پوری بی جے پی ہی گئو دہشت گردوں کی حمایت میں پیش پیش ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ جو کچھ کر رہے ہیں اس میں بی جے پی کی مرکزی لیڈر شپ ہائی کمانڈ اور وزیر اعظم مودی جی کی مرضی اور آشیرباد بھی شامل ہے کیونکہ ان میں سے کسی چھوٹے سے چھوٹے رہنما کے خلاف بھی کسی تادیبی کارروائی کی کوئی خبر نہیں ہے۔ دراصل یہ سب لوگ ہی گئو رکھشکوں کی دہشت گردی اور گائے کے نام پر ہونے والی ماب لنچنگ کے اصل ذمے دار ہیں۔ سپریم کورٹ کو اس بات کا بھی نوٹس لینا چاہیے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ