نبی مہربانؐ اور غزوۂ بنو قریظہ

127

حافظ محمد ادریس
نبی اکرمؐ کے مقابلے پر یہودیوں نے کئی جنگیں لڑیں اور ہر جنگ میں شکست کھائی۔ غزوہ بنو قریظہ ان تمام جنگوں میں سب سے مختلف تھی۔ ہر جنگ میں آنحضورؐ نے فتح کے بعد مفتوح لوگوں کی جان بخشی کی اور انھیں مدینہ سے جلاوطن کر دیا۔ کسی کو قتل نہیں کیا۔ آپؐ انھیں اجازت دے دیتے تھے کہ وہ اپنے اونٹوں پر جتنا سامان لے جاسکتے ہوں ، لے جائیں۔ بنو قریظہ کو جب شکست ہوئی تو انھوں نے آنحضورؐ سے فیصلہ کروانے کی بجائے حضرت سعد بن معاذؓ کو اپنا حکم مقرر کیا۔ حضرت سعدؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کی موجودگی میں کیسے فیصلہ کروں؟ آپؐ نے فرمایا کہ ان کا اصرار ہے اور اللہ کا بھی حکم ہے اس لیے تم فیصلہ کرو۔ حضرت سعدؓ نے بنوقریظہ (جو زمانۂ جاہلیت میں ان کے حلیف تھے) سے کہا اللہ کے رسولؐ سے فیصلہ کرواؤ تو فائدے میں رہو گے۔ مگر وہ بضد رہے تو سعدؓ نے ان کا فیصلہ تورات کے مطابق کیا۔ تورات میں لکھا تھا کہ جب تُو کسی دشمن پر فتح پائے تو اس کے سب مردوں کو قتل کردے اور عورتوں، بچوں اور مال کو قبضے میں لے لے۔ (تفصیل تورات کتاب استثناء باب 20 میں آج بھی دیکھی جاسکتی ہے) چنانچہ یہ فیصلہ لاگو ہوا۔
اس جنگ میں دو صحابہ شہید ہوئے، ایک کا اسم گرامی خلّاد بن سْوَیدؓ ہے۔ ایک یہودی عورت مزنہ نے دھوکے سے ان کے سر پر پتھر گرا کر شہید کیا تھا اور مزنہ قصاص میں قتل کی گئی تھی۔ حضرت خلّادؓ بدری صحابی تھے۔ نبی اکرمؐ نے مالِ غنیمت میں سے ان کا حصہ ان کے ورثا کو ادا کیا اور ساتھ ہی فرمایا کہ ان کے لیے دو شہیدوں کا اجر ہے (ایک تو اوپر سے پتھر گرنے سے آدمی کی موت واقع ہوجائے تو وہ شہید ہوتا ہے، دوسرے وہ میدانِ قتال میں شریک تھے جہاں انھوں نے اپنی جان قربان کی)۔
دوسرے صحابی حضرت ابو سِنَان بن مِحصَنؓ تھے۔ وہ مشہور صحابی حضرت عکاشہ بن مِحصَن کے بھائی تھے۔ حضرت عکاشہ کے بغیر حساب جنت میں جانے کی بشارت آنحضورؐ نے دی تھی، جسے شیخین نے اپنی صحیحین میں نقل کیا ہے۔ (صحیح بخاری) یہ حضرت ابوسِنان محاصرے کے دوران بیمار پڑے اور اچانک وفات پاگئے۔ آنحضورؐ نے انھیں بھی شہید قرار دیا۔ یہ بالکل اسی طرح کی مثال ہے جس طرح بعد کے دور میں حضرت عبداللہ ذوالبجادینؓ کی مثال تاریخ میں محفوظ ہے۔ حضرت عبد اللہ قیصرِ روم کا مقابلہ کرنے کے لیے آنحضورؐ کے ہم رکاب مدینے سے نکلے تھے۔ تبوک کے سفر میں کسی منزل پر ان کی وفات پر ان کو شہادت کی خوش خبری دی گئی تھی۔ فتحِ بنو قریظہ کے بعد حضرت ابوسِنان کے ورثا کو مالِ غنیمت میں سے حصہ بھی دیا گیا۔
نبی اکرمؐ نے بنو قریظہ کی خواتین کی دیکھ بھال کے لیے انصار کی خواتین صحابہ کو ذمے داری سونپی تھی۔ ان میں سے ایک بہت ذہین خاتون ریحانہ بنت عمرو بھی تھی۔ اس کا قبیلہ بدترین شکست اور عبرت ناک انجام سے دوچار ہوا۔ اسے اس کا بہت افسوس تھا مگر اللہ نے اس کی قسمت کو چار چاند لگانے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔ یہ خاتون جنگ کے وقت تک مسلمان نہیں تھی، جبکہ اس کے والد جن کا نام شمعون بیان کیا گیا ہے اور انھیں عمرو کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا، مسلمان تھے۔ ریحانہ بنت شمعون کا خاوند بھی بہت بڑا اسلام دشمن یہودی تھا، جو بنوقریظہ کے دیگر مردانِ جنگی کی طرح قتل کر دیا گیا۔ ریحانہ جنگی قیدی بنیں تو آنحضورؐ نے انھیں حضرت ام المنذر بنت قیس انصاریہ کے گھر میں ٹھہرایا۔ ریحانہ کی ذہانت و فراست سے حضرت ام المنذرؓ بہت متاثر ہوئیں جبکہ ریحانہ اپنی میزبان کی فیاضی اور مہمان نوازی سے بہت ممنون ہوئیں۔ بلاشبہ یہ موقع ان کے لیے انتہائی غم کا باعث تھا لیکن اس گھر میں انھیں جو ماحول ملا، اس نے ان کے صدمے کو کافی حد تک کم کیا اور ان کے دل کے زخموں کو مندمل کرنے کا سبب بنا۔
نبی اکرمؐ جنگی قیدیوں کے احوال معلوم کرنے کے لیے ان کے پاس جاتے رہتے تھے۔ آنحضورؐ کے ایک صحابی حضرت ثعلبہ بن سِعیَہ بھی ریحانہ کی شخصیت اور قدروقیمت سے کسی حد تک واقف تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ آنحضورؐ ریحانہ کو اپنی ازواج مطہرات میں شامل فرمالیں۔ آنحضورؐ نے ریحانہ سے ایک ملاقات میں کہا کہ اگر وہ چاہیں تو اسلام قبول کرلیں اور اگر دل نہ مانے تو اپنے مذہب پر قائم رہنے کی انھیں پوری آزادی حاصل ہے۔ اس ملاقات میں ریحانہ بنت شمعون نے اپنے آبائی مذہب کو ترجیح دی۔ کچھ عرصے بعد ایک دن آنحضورؐ صحابہ کی مجلس میں تشریف فرما تھے کہ کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ آنحضورؐ متبسم ہوئے اور صحابہ سے فرمایا کہ یہ ثعلبہ آرہے ہیں اور کوئی خوش خبری لارہے ہیں۔ مورخ ابن ہِشام کے مطابق ثعلبہ نے آنحضور کی خدمت میں آکر کان میں سرگوشی کی اور حضرت ریحانہ کے قبولِ اسلام کی خوش خبری سنائی۔
حضرت ثعلبہ بن سِعیَہ یہودیوں کے احبار میں سے تھے۔ مؤرخ ابن ہِشام کے مطابق مشہور صحابی حضرت عبد اللہ بن سلّام کے قبولِ اسلام کے بعد جن اہم یہودی علما نے اسلام قبول کیا اور جماعتِ صحابہ میں شامل ہوئے، ان میں حضرت ثعلبہ بن سِعیَہ، حضرت اْسَید بن سِعیَہ اور حضرت اسد بن عبید بھی معروف شخصیات تھیں۔ قرآن مجید میں ارشادِ ربانی ہے: ’’مگر سارے اہلِ کتاب یکساں نہیں ہیں۔ ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو راہِ راست پر قائم ہیں، راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے ہیں اور اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں‘‘۔ (آل عمران113) یہ آیت انھی سابق علماے یہود کی تعریف میں نازل ہوئی ہے۔
روایات مختلف انداز میں مؤرخین نے بیان کی ہیں لیکن ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضورؐ نے حضرت ریحانہؓ کو اپنی ملک یمین میں لیا، بعد میں انھیں آزاد کردیا اور آزاد کرنے کے بعد ان سے نکاح کیا۔ حضرت ریحانہؓ کے بارے میں بہت زیادہ معلومات تاریخ میں نہیں ملتیں، البتہ مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ وہ سلیقہ شعار اور خوب صورت خاتون تھیں اور اس کے ساتھ قبولِ اسلام کے بعد انھوں نے خود کو اسلام کے سانچے میں مکمل طور پر ڈھال لیا تھا۔ نبی اکرمؐ نے ان کو مستقل گھر بھی عطا فرمایا تھا اور دیگر ازواجِ مطہرات کی طرح ان کی باری بھی مقرر کر رکھی تھی۔ یہ خاتون آنحضورؐ کی رحلت سے کچھ عرصہ قبل فوت ہوئیں اور جنت البقیع میں آنحضورؐ نے جنازہ پڑھانے کے بعد ان کو قبر میں اتارا۔ یوں آپؐ کی ازواج میں سے حضرت صفیہ کے علاوہ حضرت ریحانہ بھی یہودی خاندان میں سے تھیں (اس واقعے کی تفصیلات سیرۃ الحلبیہ ج2 میں دیکھی جاسکتی ہیں، نیز شبلی نعمانی نے بھی سیرۃ النبی ج1، ص251۔250 پر اس کی تفصیل لکھی ہے)۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ