آبنائے ہرمز کی بندش 

161

ایران عراق طویل جنگ کے دوران تیل کی قیمتوں میں زبردست کمی سے اس کی مالکان کمپنیوں کا کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ ان کے وارے نیارے ہوگئے۔ جو مالکان ان تیل کی کمپنیوں کے ہیں، وہی اسلحہ ساز بنانے والی کمپنیوں کے بھی مالک ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہی بینکوں کے مالک ہیں، یہی انشورنس کمپنیوں کے مالک ہیں اور یہی جہاز راں کمپنیوں کے بھی مالک ہیں۔ جیسے ہی تیل کی قیمتیں گریں، ایران عراق کے ساتھ اس علاقے میں تیل پیدا کرنے والے ممالک کی معیشت بھی تباہ ہونا شروع ہوگئی اور انہوں نے ان ممالک کو بھاری قرضوں کے جال میں جکڑنا شروع کردیا۔ جنگ جاری رہنے کا مطلب تھا کہ بھاری مقدار میں اسلحے کی فروخت۔ خلیج فارس میں تیل کے ٹینکروں پر حملوں کا مطلب تھا سیکورٹی کی خراب صورت حال۔ اب ان ہی مالکان کی انشورنس کمپنیوں کے مزے آگئے۔ انہوں نے اس علاقے سے گزرنے والے تمام جہازوں پر بھاری انشورنس پریمیم وصول کرنا شروع کردیا۔ اس پریمیم کے بدلے بس اتنا کرنا تھا کہ ان جہازوں پر امریکی پرچم لہرادیا جاتا۔ طرفین کو پہلے ہی متنبہ کردیا گیا تھا کہ امریکی پرچم بردار جہاز نشانہ نہیں بنائے جائیں گے۔ بس ایک پرچم لہرانے کے بدلے بھاری بھرکم رقم کی وصولی۔ یہ کہیں سے بھی گھاٹے کا سودا نہیں تھا۔ تیل کی مالک ان کمپنیوں کا نقصان تو یہیں سے پورا ہو گیا تھا۔ اسلحے کی فروخت بونس تھی۔ اس سے بھی بڑھ کر ایران، عراق سمیت اس خطے میں واقع تیل پیدا کرنے والے تمام ممالک کی معیشت اچانک گرداب میں پھنس گئی تھی اور انہیں اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے عالمی بینکاروں سے اُن کی شرائط پر قرض لینا پڑ رہا تھا۔ جنگ کا اصل مقصد بھی یہی تھا۔
اب دوبارہ سے آبنائے ہرمز میں کسی ایڈونچر کے ہونے کا مطلب ہے خطے کے ممالک کی غلامی میں آخری کیل ٹھونک دینا۔ خطے کے سارے ہی ممالک پہلے سے شدید معاشی گرداب کا شکار ہیں۔ دبئی جیسی ریاست معاشی بحران میں آچکی ہے۔ جائداد کی قیمتیں مسلسل گراوٹ کا شکار ہیں۔ مارکیٹیں بند ہورہی ہیں اور مشہور ہوٹلوں میں واقع معروف ریسٹورنٹ یکے بعد دیگرے بند ہوتے چلے جارہے ہیں۔ کویت، قطر، بحرین کی بھی کچھ اچھی حالت نہیں ہے۔ عراق پہلے ہی تباہ و برباد ہوچکا ہے۔ سعودی عرب اور ایران تو براہ راست معاشی نشانے پر ہیں۔ سعودی عرب کو یمن اور ایران کو شام و یمن لے بیٹھے ہیں۔ پس پردہ ڈائریکٹروں کی کوشش ہے کہ کسی طرح ہلا شیری کرکے خلیج فارس میں نیا محاذ کھول دیا جائے۔ اس محاذ کے کھُلتے ہی سارا کھیل خوکار ہوجائے گا اور مزید کسی کوشش کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس ہلا شیری کو اس طرح سے دیکھیں کہ گزشتہ مرتبہ جب ایران پر امریکا نے پابندیاں عائد کی تھیں تو چین اور بھارت نے انہیں تسلیم نہیں کیا تھا۔ البتہ ان ممالک نے اس کی آڑ میں ایران کو دونوں ہاتھوں سے ضرور لوٹا تھا اور خوب سستا تیل حاصل کیا تھا۔ تاہم اس مرتبہ جب کہ یورپ بھی امریکا کے ساتھ نہیں ہے، مگر چین و بھارت نے عملاً امریکا کا ساتھ دینا شروع کردیا ہے تاکہ ایران کو دیوار سے لگا کر مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکیں۔
معاشی پنڈت اب کی مرتبہ تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے بجائے اس میں اضافے کی بات کررہے ہیں۔ ان معاشی پنڈتوں کے مطابق جیسے ہی آبنائے ہرمز کی ناکا بندی ہوگی، خام تیل کی قیمتیں راتوں رات بڑھیں گی اور 250 ڈالر فی بیرل تک جاسکتی ہیں۔ واضح رہے کہ اب تک خام تیل کی زیادہ سے زیادہ قیمت 150 ڈالر فی بیرل رہی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ اس سے خلیج فارس میں تو تیل پیدا کرنے والے ممالک کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیوں کہ وہ تو بندش کا شکار ہوں گے تاہم اس سے باہر کے ممالک میں واقع تیل کی پیداوار بڑھا کر راتوں رات دولت لوٹ لی جائے۔ گو کہ قطر جیسے ممالک اس خوش فہمی میں ہیں کہ سعودی مخالف بلاک میں ہونے کی وجہ سے ان کی برآمدات ایرانی ناکا بندی کا شکار نہیں ہوں گی تاہم ایسا نہیں ہے۔ اس علاقے میں اگر ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکا بندی کی تو پھر کسی بھی ملک کے بھی جہاز آبنائے ہرمز کو پار نہیں کرسکیں گے۔
اس دوران یمن اور شام میں جنگی درجہ حرارت میں مزید اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے تاکہ سعودی اور ایرانی دونوں بلاکوں کا معاشی خون زیادہ سے زیادہ بہایا جاسکے۔ یہ ضرور ہے کہ دونوں بلاکوں میں شامل ممالک کو روپے پیسے کی کوئی کمی نہیں ہوگی کیوں کہ بین الاقوامی مہاجن اپنے خزانوں کے منہ کھولے کھڑے ہوں گے تاہم یہ خزانے ان کی شرائط پر ہی حاصل کیے جاسکیں گے۔ یہ شرائط کیا ہوسکتی ہیں، اس کا اندازہ اس سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں نگراں حکومت کے آتے ہی روپے کی قدر میں 20 فی صد کمی کردی گئی۔ یعنی صرف ایک ہی ہلے میں پاکستان پر بیرونی قرضوں کی مالیت میں اچانک 20 فی صد کا اضافہ ہوگیا۔ اس کے علاوہ عوام پر مہنگائی کا بوجھ مزید 60 فی صد تک بڑھ گیا۔ بین الاقوامی بینکار کیا کچھ کرتے ہیں، اس کا مطالعہ امریکا کی سول وار، برطانیہ اور فرانس کے انقلابات کے ساتھ ساتھ دونوں جنگ عظیم میں کیا جاسکتا ہے۔ (اس سب کا تفصیلی ذکر میں اپنی کتاب جنگوں کے سوداگر میں کرچکا ہوں)۔
ایک مرتبہ پھر سے یاد دہانی۔ تیل کے وسائل، جہاز راں کمپنیاں، بینک و انشورنس کمپنیاں، اسلحہ ساز کمپنیاں، ادویہ ساز کمپنیاں، نجی فوجی کمپنیاں جیسے بلیک واٹر وغیرہ وغیرہ ان سب کے مالکان مشترک ہیں۔ اس سے امریکا اور یورپ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا البتہ ان ممالک میں قائم یہ کمپنیاں ضرور لوہے کو سونے سے بدل لیں گی۔ واضح رہے کہ یہ کمپنیاں امریکا اور یورپ کو ٹیکس تک کی ادائیگی نہیں کرتی ہیں۔ ناٹو اور دیگر افواج کے استعمال کی بناء پر امریکی اور یورپی معیشت ضرور مزید قرض تلے دب جائے گی۔ جنگ ہی وہ ہتھیار ہے جس کے بل پر ان کمپنیوں کے مالکان راتوں رات نہ صرف اپنی دولت کو ضرب دیتے ہیں بلکہ نیو ورلڈ آرڈر کی جانب کئی قدم آگے بڑھ جاتے ہیں۔ جنگ ہی وہ آزمودہ ہتھیار ہے جس کے بناء پر یہ آزاد قوموں کو قرض تلے دبا کر غلام بنا لیتے ہیں۔ اس خطے کے لوگوں کی غلامی کا درجہ بڑھانے کے لیے علاقے میں کثیر القومی جنگ ناگزیر ہے۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے۔ ہشیار باش۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ