میں برطانوی شہریت  چھوڑ چکا ہوں، چودھری سرو ر2013

128

لاہور (نمائندہ جسارت) تحریک انصاف کے نو منتخب سینیٹر چودھری سرور دوہری شہریت چھوڑنے کے حوالے سے اپنا موقف لے کر
سپریم کورٹ کے روبرو پیش ہو گئے۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس اعجاز الا حسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ تحریک انصاف کے نومنتخب سینیٹر چودھری سرور نے عدالت میں اپنا بیان حلفی جمع کرایا۔ انہوں نے کہا کہ میں 2013ء میں برطانوی شہریت چھوڑ چکا ہوں۔ عدالت نے چودھری سرور کو بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔ عدالت نے دوہری شہریت از خود کیس میں خالد خان اور بلال منٹو کو عدالتی معاون مقرر دیا۔ پی ٹی آئی کی رہنما عندلیب عباسی نے موقف اختیار کیا کہ وزیر اعظم کی بہن سعدیہ عباسی اور نزہت صادق‘ 5سال دوہری شہریت کے ساتھ پارلیمنٹ کی رکن رہ چکی ہیں، انہوں نے سینیٹر بننے کے لیے دوہری شہریت چھوڑنے کا فیصلہ کیا جو کہ اہل امیدواروں کے حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے حقوق کے تحفظ کے لیے بیٹھے ہیں اسی لیے از خود نوٹس لیا ہے، دوہری شہریت کا فیصلہ 2012ء میں آیا، انکی نااہلی تو پھر تب سے شروع ہونی چاہیے۔ نو منتخب سینیٹرز نزہت صادق اور سعدیہ عباسی کے وکیل نے استدعا کی کہ اس کیس کی سماعت جلد کرلی جائے تاکہ حلف برداری کا مرحلہ مکمل ہو سکے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹیفکیشن جاری ہوگا تو حلف برداری ہوگی، اس کیس کو اسلام آباد میں سنیں گے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13مارچ تک ملتوی کردی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ