سری لنکا :فسادات پر قابو پانے کیلیے سوشل میڈیا بھی بند 

86
کولمبو: بدھ انتہاپسندوں کے ہاتھوں نذرآتش ہونے والا رکشا مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے

کولمبو (انٹرنیشنل ڈیسک) سری لنکا کے حکام نے مسلمان اقلیت کے خلاف بدھ انتہاپسندوں کے حملوں کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ ہونے کے باوجود ملک میں پرتشدد کارروائیوں کو روکنے کیلیے فیس بک سمیت سوشل میسجنگ نیٹ ورک کو بند کر دیا ہے۔برطانوی خبر ساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق صدر کی جانب سے10روزہ ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود رات گئے بدھ ہجوم نے مسلمانوں کی دکانوں اور مساجد کو آگ لگائی۔ پولیس کے ترجمان رون گناسیکرا کا کہنا ہے کہ کینڈی میں منگل کی ساری رات کئی واقعات پیش آئے۔ پولیس نے 7افراد کو حراست میں لیا ہے۔ مختلف واقعات میں3پولیس اہل کار زخمی ہوئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کچھ ہنگامے فیس بک پر پوسٹ کیے گئے ان پیغامات کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے ہوئے ہیں جن میں مسلمانوں پر حملوں کی دھمکی دی گئی ہے۔ حکومت نے بدھ کو اعلان کیا کہ فیس بک، وائبر اور واٹس ایپ ملک میں 3 روز کے لیے بند رہیں گے۔سینئر وزیر سرتھ امونوگاما نے کولمبو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کینڈی میں تشدد کو علاقے سے باہر کے لوگ ہوا دے رہے ہیں اور ان واقعات کے پیچھے ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔گزشتہ ایک سال سے بدھ انتہاپسندوں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ زید رعد حسین نے کہا ہے کہ انہیں تشویش ہے کہ سری لنکا میں لسانی اور مذہبی اقلیتوں کیخلاف تشدد بار بار ہو رہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ