گوئٹے مالا: سفارتخانے کی القدس منتقلی معطل

95
مقبوضہ بیت المقدس: گوئٹے مالا کے صدر جمی مورلس اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کررہے ہیں فائل فوٹو
مقبوضہ بیت المقدس: گوئٹے مالا کے صدر جمی مورلس اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ملاقات کررہے ہیں فائل فوٹو

گوئٹے مالا سٹی (انٹرنیشنل ڈیسک) گوئٹے مالا کی عدالت عظمیٰ نے صدر جمی مورلس کے اسرائیل میں قائم اپنے سفارت خانے کو بیت المقدس منتقلی کے اعلان کو معطل کردیا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق تنظیم آزادی فلسطین کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے کارکنوں نے تل ابیب میں قائم سفارت خانے کی القدس منتقلی کے اعلان کے خلاف گوئٹے مالا کی سپریم دستوری عدالت میں ایک درخواست دی گئی تھی۔ انسانی حقوق کارکن اور قانون دان مارکو فینیسیو میخیا ڈافیلا کی قیادت میں سماجی کارکنوں کے ایک گروپ طرف سے دی گئی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے گوئٹے مالا کے صدر کے اس اعلان پرعمل معطل کرنے کا حکم دیا ہے جس میں انہوں نے اسرائیل میں قائم اپنے سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ واضح رہے وسطی امریکی ملک گوئٹے مالا بھی مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کے حوالے کرنے کی امریکی سازش میں صہیونیوں اور امریکیوں کے ساتھ مل چکا ہے ۔ چند روز قبل جمہوریہ گوئٹے مالا کے صدر جمی مورلس نے اسرائیل میں موجود اپنے سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ