نواز شریف صاحب عدلیہ سے نہ لڑیں

401

میر افسر امان

عدالتوں کو عوام منتخب پارلیمنٹ کے ذریعے اختیارات دیتے ہیں۔ عدالتیں ان اختیارت کے تحت مقدمات کے فیصلے کرتی ہیں۔ کیا عدالت عظمیٰ نے اپنے اختیارات کے علاوہ نواز شریف کے ساتھ کچھ اور کیا ہے؟جس پر نواز شریف عدالت عظمیٰ کے خلاف عوام کو اُکسا رہے ہیں۔ جب پاناما لیکس میں ان کے خاندان کا نام آیا تو نواز شریف نے عوام سے خطاب کیا۔ پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے اپنی دولت کے ثبوت پیش کیے اور کہا کہ یہ ہیں ثبوت جن کے تحت میرے خاندان نے جائز طریقے سے پیساکمایا ہے۔
جمہوری ملکوں میں اپوزیش حکمرانوں پر تنقید کرتی ہے۔ اپنی تنقید کا جائز حق استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن نے دباؤ بڑھایا تو نواز شریف نے خود عدالت عظمیٰ کو خط لکھا کہ وہ اس مسئلہ پر مقدمہ سن کر فیصلہ دے۔ عدالت نے کہا کہ موجودہ قانون کے تحت فیصلے کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اس لیے پارلیمنٹ نیا قانون( ٹی او آر) بنائے تو نواز لیگ اور اپوزشن پارلیمنٹ میں یا قانون نہ بنا سکے۔ جب پارلیمنٹ قانون نہ بنا سکی تو ملک کی تین پارٹیوں تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور عوامی مسلم لیگ نے عدالت عظمیٰ میں درخواستیں دائر کیں۔پہلے عدالت کے دو ججوں نے نواز شریف کو نا اہل قرار دیا اور تین ججوں نے کہا کہ مذید تحقیق کر لی جائے۔ پھر جے آئی ٹی کی تحقیق کے بعدعدالت کے سارے ججوں نے نواز شریف کو نا اہل قرار دے دیا۔ نیب کو حکم جاری کیا کہ جے آئی ٹی کی تحقیق کی روشنی میں کرپشن کے مقدمات قائم کر کے ایک مقرر مدت میں فیصلہ دے۔
عدالت نے نواز شریف کے کہنے پر ہی مقدمہ سنا تھا۔اس کے باوجود نواز شریف فیصلہ ماننے کے لیے تیارنہیں اور عوام کو فوج اور عدلیہ کے خلاف اُکسا رہے ہیں۔نواز شریف کو یاد رکھنا چاہیے کہ چودھری نثار کی طرح پیپلز پارٹی کے چیئر مین مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کو بھی اس کے اپنے قانون دان یحییٰ بختیار نے مشورہ دیا تھا کہ مقدمے کو قانون کے مطابق لڑا جائے۔عدالت سے نہ لڑا جائے۔ مگر بھٹو صاحب نہیں مانے اور اقتدار کے نشے میں مبتلا رہے اور کچھ اس طرح کے فقرے پریس میں آتے رہے کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو ہمالہ روئے گا۔مگر عدالت نے فیصلہ سنایا۔ اس پر عمل درآمد بھی ہوا۔ اس پر نہ ہمالہ رویا نے اور نہ ہی کچھ اور ہوا۔
پاکستان میں نون لیگ کی حکومت ہے جلسوں میں عوام کو جمع کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔جو پارٹی حکومت میں ہوتی ہے وہ اکثر ضمنی الیکشن میں جیت جاتی ہے۔ نواز شریف نے نا اہل قرار پانے کے وقت سے فوج پر بے جا تنقید کی کبھی کہاگیا کہ مارشل لا لگنے والا ہے میرے خلاف سازش ہو رہی ہے۔جمہورت کو ختم کیا جارہاہے۔ فوج جمہوری نظام نہیں چلنے دے رہی۔ لیکن نہ تو جمہوریت ختم ہوئی نہ ہی مارشل لا لگا۔ ن لیگ کے شاہد خاقان عباسی صاحب کو وزیر اعظم منتخب کر لیا گیا۔ جمہوریت چل رہی ہے اور چلتی رہے گی۔ فوج نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی ۔ چھ ماہ بعد عام انتخابات بھی ہو ائیں گے۔ طاقت کا نشہ کتنا ظالم ہوتا ہے کہ انہیں یہ بھی خیال نہیں آتا کہ پاکستان دشمنوں کے نرغے میں آیا ہوا ہے۔بھارت، امریکا اور اسرائیل کبھی پاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام لگا رہے ہیں،کبھی واچ لسٹ پر ڈانے کا اعلان کر رہے ہیں۔ پاکستان کاا زلی دشمن بھات کنٹرول لائن پر آئے دن بے گناہ شہریوں کو شہید کر رہا ہے۔ پاکستان کے اندر بھارتی سیکولر لابی پاکستان کے اسلامی تشخص اور دو قومی نظریہ پر نون لیگ کی حکومت کی صفوں میں بیٹھ کر حملہ آور ہے۔
نواز شریف اب تک نیب عدالت میں اپنے دفاع میں کوئی بھی ثبوت نہیں پیش کر سکے۔ اصل میں تیس سال حکمران اور تین دفعہ پاکستان کا وزیر اعظم رہنے کی وجہ سے نواز شریف میں مغل شہزادوں کی سی خصلتیں پیدا ہو گئی ہیں جو ان کو لے ڈوبے گی۔ قانون ثبوت مانگتا ہے اور نواز شریف اپنی مقبولیت کے جنون میں بڑے بڑے جلسے کر کے عدالت پر اثر انداز ہونے کی بے سود کوشش کر رہیں۔ اب وہ آزاد عدلیہ کی گرفت میں آ گئے ہیں جس سے وہ نہیں نکل سکتے۔نواز شریف کو محب وطن لوگوں کا مشورہ ہے کہ اپنی کرپشن کو چھپانے کے لیے ملک کو داؤ پرلگانے سے باز آ جائیں۔عوام سے چھینا ہوا پیسا عوام کوواپس کریں۔ اسی میں سب کابھلاہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ