افغانستان ؛شناختی کارڈ کا اجرا نسلی منافرت کی نذر 

82

کابل (انٹرنیشنل ڈیسک) افغانستان میں عام انتخاب سے پہلے نئے الیکٹرانک شناختی کارڈ جاری کرنے کے لاکھوں ڈالر کے منصوبے ملک میں تندو تیز بحث مباحثے اور نسلی منافرت کو ہوا دے دی ہے ۔ تنازع اس بات پر ہے کہ نئے شناختی کارڈ پر قومیت کا اندراج کس طرح کیا جائے گیا، ملک کے کئی نسلی گروپوں نے ’ افغان‘ کی اصطلاح قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ ایک ایسے ملک میں جہاں کئی قومیں آباد ہیں، جن کی ثقافت اور روایات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اور ایک طاقت ور گروپ پشتون سے تعلق رکھنے والے صدر اشرف غنی کے ایک اور بااثر و طاقت ور نسلی گروپ تاجک کے گورنر سے اختلافات، کسی سمجھوتے پر پہنچنے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ مرکزی نسلی گروپ پٹھان سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ نئے شناختی کارڈ پر قومیت ا
اندراج ’ افغان‘ کے طور پر کیا جائے ۔ لیکن ماضی میں یہ اصطلاح پختونوں کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے اور دوسرے نسلی گروپوں سے تعلق رکھنے والے سیاست دان اور دانشور اس اصطلاح کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ صدر اشرف غنی نے ، جو ایک پختون ہیں، نئے الیکٹرانک کارڈز کا اجرا مؤخر کرتے ہوئے اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی اپیل کی ہے ۔ تاہم اس معاملے میں لوگ جلد ہی جذباتی ہو جاتے ہیں اور پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں اس سلسلے میں ہونے والے کئی بحث مباحثے نہ صرف بے نتیجہ رہے ہیں، بلکہ ارکان کے درمیان تلخ جملوں اور دھمکیوں تک کے تبادلے بھی ہو چکے ہیں۔ ایک پختون رکن پارلیمنٹ صاحب خان نے خبررساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس کسی نے شناختی کارڈ پر’افغان‘ کا لفظ قبول کرنے سے انکار کیا، تو وہ اس کے خلاف اپنے خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے ۔ اس تنازع کے باعث کابل میں پختون کئی مظاہرے کر چکے ہیں، جن میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کسی اور گروپ کے مطالبوں پر دھیان نہ دیں۔ واضح رہے کہ افغانستان میں کئی عشروں سے مردم شماری نہیں ہو سکی ہے۔ اس لیے یہ جاننا مشکل ہے کہ ملک میں موجود مختلف نسلی گروپوں کی آبادی کتنی ہے۔ ملک کے 2 سب سے بڑے نسلی گروپ پختون اور تاجک ہیں۔ جب کہ چھوٹے گروپوں میں ہزارہ، ازبک اور کئی دوسرے گروپ شامل ہیں۔
افغان شناختی کارڈ

Print Friendly, PDF & Email
حصہ